وعدے نہیں مدت پوری کریں گے

ضیا الرحمٰن ضیا  بدھ 15 جولائ 2020
عمران خان نے انتخابات سے پہلے جتنے وعدے کئے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کرپائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عمران خان نے انتخابات سے پہلے جتنے وعدے کئے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کرپائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لمبے لمبے وعدے اور بڑے بڑے دعوے کرکے اقتدار حاصل کرنا جمہوریت کا خاصا ہے۔ اقتدار حاصل کرنا ہر سیاستدان یا ہر سیاسی جماعت کا خواب ہوتا ہے، جسے پورا کرنے کےلیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں اور کچھ بھی کر گزرنے کےلیے تیار ہوتے ہیں۔ انتخابات سے قبل عوام کو سبز باغ دکھانا، ان سے ہر اس چیز کا وعدہ کرنا جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے اور پھر سیاسی حریفوں کو برا بھلا کہنا، انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کرنا، دیگر تمام سیاستدانوں کو نااہل و کرپٹ ثابت کرکے خود کو ہی سب سے زیادہ اہل اور ایماندار کے طور پر پیش کرنا آج کی سیاست کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ پھر اس سے بھی زیادہ لازمی جزو انتخابات سے قبل کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنا ہے۔ جو موجودہ دور حکومت میں اور بھی زیادہ واضح ہوچکا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا قافلہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں ایک طویل عرصہ تک اقتدار حاصل کرنے کےلیے جدوجہد کرتا رہا۔ بڑے بڑے جلسے کرائے، لمبے لمبے دھرنے دیے، دھواں دار تقریریں ہوتی رہیں۔ خود کو منوانے کےلیے بڑے بڑے عہدیداروں کو عہدوں سے فارغ کرایا۔ احتساب کے نام سے کرپشن کے خلاف مہم چلائی اور تحریک انصاف میں شامل سیاستدانوں کے علاوہ باقی سب کو نااہل اور کرپٹ ثابت کرنے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ان کی ذاتیات پر حملے کیے۔ ان کے بڑے بڑے وعدوں کو دیکھتے ہوئے انہیں عوام نے ووٹ دیے اور وہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

بائیس سال اس جماعت نے عوام میں اپنی مقبولیت بنائی اور دو سال کے اندر سب کچھ پر پانی پھیر دیا۔ ہوا یوں کہ تحریک انصاف کے پاس زیادہ تر نئے کارکنان تھے جن کی اکثریت تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل تھی مگر انتخابات کا معرکہ ہر حال میں سر کرنے کی لگن میں انہوں نے اپنے کارکنوں کو بھلا دیا اور جیتنے والے گھوڑوں کی تلاش شروع کردی۔ جو جیسا بھی ملا بس انتخابات میں خرچہ کرنے اور جیتنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اسے اپنے قافلے میں شامل کرلیا۔ اس کے ماضی کو یکسر فراموش کردیا گیا۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جنہیں ماضی میں یہ خود بھی کرپٹ اور نااہل کہتے رہے، مگر ان کی جماعت میں آتے ہی ان کے سب پچھلے پاپ دھل گئے اب وہ پاک صاف ہوچکے تھے۔ بس پھر کیا تھا، جب کئی جماعتوں کے بھگوڑے اور ان کی اپنی نظر میں ہی نااہل سیاستدانوں کا ایک ملغوبہ بنا تو جو نتیجہ نکلا اس سے زیادہ مختلف ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔

انہوں نے جتنے بھی وعدے کیے ان میں سے کسی کو بھی پورا نہ کرسکے، بلکہ ابتدا بھی نہ کرسکے کہ عوام کو کچھ تو تسلی ہو۔ ان کے مشہور وعدوں میں پہلا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا تھا۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے نوکریاں کرتے ہوئے نوجوان بے روزگار ہوتے جارہے ہیں۔ مہنگائی اور بے جا ٹیکسوں کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہورہی، بلکہ چلتی ہوئی صنعتیں بند ہورہی ہیں، جس کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ سرکاری محکموں کے ملازمین کو فارغ کرنے کی پالیسی پر کام ہورہا ہے، جس سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔

دوسرا وعدہ پچاس لاکھ گھروں کا تھا۔ لیکن انہوں نے تجاوزات کے نام پر لوگوں کے بنے بنائے گھر گرا دیے۔ لوگ جو پچاس پچاس سال سے جن گھروں میں مقیم تھے، ان کے پاس کاغذات پورے تھے، لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور بلڈوزر لے کر انہیں تباہ کردیا۔ اچھے اچھے چلتے ہوئے کاروبار منٹوں میں ختم ہوگئے۔ اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی عمارتیں اور ہوٹل میں نے خود ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے دیکھے ہیں، جنہیں تجاوزات کے نام پر گرا دیا گیا تھا۔ اب وہ زمین بالکل خالی پڑی ہے۔ نہ حکومت نے وہاں کچھ کرنا ہے اور نہ ہی عوام کا وہاں کوئی کام ہے۔ بس چلتے ہوئے کاروبار تباہ ہونے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہی ہوٹلوں اور عمارتوں کو قائم رکھ کر ان کے مالکان کو لیز پر دے دیے جاتے اور ان سے ٹیکس اور کرایہ لیا جاتا تو قومی خزانے کو اس کا زیادہ فائدہ ہوتا۔ یہ لوگ دگنا کرایہ دینے پر بھی بخوشی راضی ہوجاتے۔ لیکن کیا کیا جائے، جب نااہلوں کے ہاتھ اقتدار آگیا تو کوئی پلاننگ نہیں ہوئی۔ بس جو جی چاہا وہ کر گزرے۔ یہی حال عوامی رہائشی عمارات کا بھی ہوا اور لوگوں نے جھولی بھر بھر کر بددعائیں دیں۔ پچاس لاکھ نئے گھروں کو تو بھول ہی جائیے، بس ان کے اعلانات سنیے اور وقت گزاریئے۔

تیسرا بڑا اعلان احتساب کا تھا۔ لیکن احتساب کے ساتھ انہوں نے جو کچھ کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے کہ ملک میں احتساب کے نام پر احتساب کم اور انتشار زیادہ پھیلا دیا گیا ہے۔ احتساب کے نام پر سیاستدانوں کی پیشیاں اور طویل حراست کے سوا کچھ نہیں ہورہا۔ بس سیاستدانوں کو نیب میں طلب کیا، الزامات لگائے، گرفتار کرلیا۔ عدالت سے ریمانڈ لے کر کچھ عرصہ حراست میں رکھا اور کچھ نہ ثابت ہونے پر ضمانت ہوگئی۔ وہ اپنے گھر میں جا بیٹھے اور یہ کسی دوسرے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ بس یہ احتساب ہے۔

اپنی ان ہی اہلیت اور صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ہم مدت پوری بھی کر پائیں گے یا نہیں؟ تو ہر وقت یہ بیانات داغتے رہتے ہیں کہ مدت پوری کریں گے۔ انتخابات سے قبل کہتے تھے کہ وعدے پورے کریں گے لیکن اب حالات کو دیکھ کر حواس باختہ ہیں اور کہتے پھرتے ہیں کہ مدت پوری کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کتنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟ اپوزیشن جماعتیں تو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں، وہ اپنے اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہیں۔ لہٰذا عوام اب نہ حکومت پر اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں پر۔ بس بے بسی کی تصویر بنے خاموشی سے دیکھ رہے ہیں کہ کون مدت پوری کرتا ہے اور کس کو آئندہ اقتدار ملے گا؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔