حیران کن مقامات جہاں لوگ بستے ہیں

تحریم قاضی  اتوار 12 جولائ 2020
دنیا عجائبات عالم کا مظہر ہے۔ جہاں سے بھی اینٹ اٹھا کر دیکھ لیا جائے وہیںکچھ نہ کچھ عجب دیکھائی دے گا۔ ۔  فوٹو : فائل

دنیا عجائبات عالم کا مظہر ہے۔ جہاں سے بھی اینٹ اٹھا کر دیکھ لیا جائے وہیںکچھ نہ کچھ عجب دیکھائی دے گا۔ ۔ فوٹو : فائل

دنیا عجائبات عالم کا مظہر ہے۔ جہاں سے بھی اینٹ اٹھا کر دیکھ لیا جائے وہیںکچھ نہ کچھ عجب دیکھائی دے گا۔

یوں تو ہر ایک جگہ کا اپنا ایک خاص مقام ہے مگر کچھ ایسی جگہیں اور مقامات بھی ہوتے ہیں جو انسان کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی چند مقامات قارئین کے حاضر خدمت ہیں جنہیں دیکھ کر پہلے تو ان کے ہونے پریقین کرنا مشکل لگتا ہے مگر اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز اور دلچسپ بات یہ کہ وہاں لوگ زند گی بھی بسر کرتے ہیں۔

Ponte Vecchio


قرون وسطی کا بنا محرابی پل دریائے ارنو اٹلی میں واقع ہے۔ اس پل کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف ایک پل نہیں بلکہ اس پل پر ایک شہر آباد ہے پل کے دونوں اطراف میں لوگوں کے گھر اور دوکانیں موجود ہیں۔

Setenil Dc las bodegas


سپین میں واقع ایک ایسا قصبہ جہاں سفید گھروں کی تعمیر پہاڑوں میں کی گئی دیکھنے والوں کے لئے حیرت و دلچسپی کا مرقع ہے۔ جہاں بڑے بڑے پتھروں اور چٹانوں تلے تین ہزار سے زائد لوگ آباد ہیں۔ تاریخ دانوں کے خیال میں یہاں دور قدیم سے لوگ آباد ہیں۔

Matmata Tunisia


جنوبی تنزانیا میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں اپنے زیر زمین غاروں اور قدیم انسانوں کی گوشۂ نشینی کی عکاسی کرتا ہے یہ گاؤں دنیا کی دس بہترین یونانی تقریح گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔زیر زمین تعمیر شدہ گہھروں کے اندرونی رابطے کے لئے غاریں بنائی گئی ہیں۔ یہ شہر آپ میں ایک عجوبہ ہے۔

Mount fanjing


تصور کو دیکھ کر شاید یہ لگے کہ یہ ایک فوٹو شاپ کی ہوئی تصویر ہے مگر درحقیقت یہ ایک اصلی جگہ ہے جو کہ جاپان کا سب سے بلند ترین پہاڑ ہے۔ یہاں دو مندر ہیں جو دو پہاڑوں کی چوٹیوں پر آپس میں جڑے ہیں۔ معتقدین کا ماننا ہے کہ یہ روحانیت کو حاصل کرنے کا ایک خاص مقام ہے۔ شاید آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو کہ اس جگہ پہچانے اور واپسی کے لئے ایک سے دو دن کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

Hanging Temple of hengshan


اپنے بے انتہا ڈھلانی مقام کے لئے شہرت رکھنے والا یہ مندر چین کے صوبہ شنانسی میں واقع ہے ۔ یہ وہ واحد مند ر ہے جو کہ بدھ ازم‘ تاؤ ازم اور کنفیوشزم کے پیروکاروں کے لئے مرجیع خلائق ہے۔ اپنی پندرہ سو برس کی تاریخ لئے یہ مندر آج بھی پہاڑوں کی خاطر ناک چوٹیوں پر ا ستادہ ہے۔ مکنیکس کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے اسے پتھروں کی ان دیکھی سپورٹ حاصل ہے اور لمبے لکڑی کے ستون اسے سہارا دیئے ہیں۔ اس مندر میں چالیس کمرے ہیں اور ساری عمارت لکڑی سے بنی ہے۔

Bozouls france


کوئی بھی یہ جان کر حیران ضرور ہو گا کہ گزشتہ ایک ہزار سالوں سے 400کلو میٹر وسیع اور 100 کلو میٹر گہری کھائی کر دہانے پر واقع یہ شہر گرنے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔ تو اسے قدرت کا کرشمہ ہی سمجھ لیجئے مگر یہ حقیقت ہے۔

Santurio madonna Della corona


اٹلی کے شمال میں سطح سمندر سے 774میٹر بلند پہاڑوں پر واقع یہ جگہ مراقبے‘ خاموشی اور عبارت کے لئے زمین پر جنت سے رابطے کی جگہ تصور کی جاتی ہے۔ اسے 1530 میں تعمیر کیا گیا یہاں آنے واوں کی ایک کثیر تعداد ہے جن میں سیاح بھی شامل ہیں۔ مذہبی افراد اس چرچ کی عمارت کے اندر رہتے ہیں۔

Al hajarah yemen


21 ویں صدی میں جہاں لوگوں کا ایک دوسرے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ شوشل میڈیا ہے ونہی ایک ایسی جگہ بھی کرہ ارض پر موجود ہے جہاں اونچے نیچے چٹانوں کی چوٹیوں پر بننے گھروں میں رہنے والوں کو ایسے ذرائع کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ وہ باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ بارویں صدی سے یہاں آباد لوگ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آخر پہلی بار اس شہر کو آباد کس نے کیا مگر وہ آج بھی ان قدیم رویات کے حامل ہیں۔ یہاں کے لوگ گندم اور جو اگاتے ہیں اور جانور بھی رکھتے ہیں۔ چٹانوں کی چوٹیوں پر بسایہ شہر لوگوں کے لئے باعث حیرت ہے۔

Casa do penedo partugal


کیا آپ نے کبھی پتھر کے گھر میں بستے انسان دیکھے؟ اگر نہیں تو اب دیکھ لیجئے۔ آج کے دور میں جہاں آسائشوںسے مزین گھر سب کو لبھاتے ہیں ونہی پرتگال میں سن 1847کو ایک ایسا گھر تعمیر کیا گیا جو کہ بلندی پر واقع ہونے کے ساتھ صرف پتھر سے بنا تھا۔ ایسے ’’پتھر کا گھر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں کے مکین روشنی کے لئے موم بتیوں کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہاں بجلی کی سہولت موجود نہیں۔

Villa girasole


1930ء جنوبی اٹلی میں ایک بنگلہ تعمیر کیا گیا جس کی خاص بات یہ تھی کہ وہ سورج کے ساتھ اپنا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایک سورج مکھی کے پھول کی سی ہے کہ وہ سورج نکلنے پر اپنا رخ اس کی جانب موڑ دیتا ہے۔ ایسے ایک اٹالوی انجینئر نے تعمیر کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔