وادی کیلاش کی ماسٹر ڈگری ہولڈر پہلی لیڈی کانسٹیبل جمینہ

احتشام خان  اتوار 12 جولائ 2020
پر امن علاقے کے باعث 10 سال سے پستول کا استعمال نہیں کیا، لیڈی کانسٹیبل ۔ فوٹو : ایکسپریس

پر امن علاقے کے باعث 10 سال سے پستول کا استعمال نہیں کیا، لیڈی کانسٹیبل ۔ فوٹو : ایکسپریس

 پشاور: خیبر پختون خوا کے ضلع چترال کے تاریخی اور قدیم علاقے وادی کیلاش کی ماسٹر ڈگری ہولڈر لیڈی کانسٹیبل کمیونٹی پولیسنگ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں اور جمینہ کیلاش قبیلے کی واحد خاتون ہیں جنہوں نے ایم اے پولیٹیکل سانئس میں پاس کرکے بہادر فورس کا حصہ بننے کوترجیح دی۔

ضلع چترال میں خواتین پولیس فورس میں شمولیت کو ترجیح دینے لگیں، چترال کے سب سے قدیمی قبیلے سے تعلق رکھنے والی لیڈی کانسٹیبل جمینہ اپنے علاقے کی واحد خاتون ہیں جنہوں نے ایم اے پولیٹیکل سائنس میں کیا اور پولیس فورس میں اپنے علاقے کا نام روش کرنے کی ٹھان لی۔

وادی کیلاش کی 33 سالہ جمینہ کمیونٹی پولیسنگ میں اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے مشعل راہ ہیں، خواتین کے گھریلو تنازعات، خودکشی کے واقعات کی روک تھام، مذہبی رواداری اور سیاحوں کی سیکیورٹی جیسے امور وہ کافی عرصے سے سر انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے شرینگل یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس میں کیا، اب وہ وادی کیلاش سے پولیس میں واحد خاتون سپاہی ہیں جس نے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے جب کہ ابتدائی تعلیم کیلاش قبیلے میں قائم سرکاری اسکول سے حاصل کی۔

ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے جمینہ نے بتایا کہ وہ 2009 میں خیبر پختون خوا پولیس میں بھرتی ہوئیں، انہیں فخر کہ ہے وہ کے پی بہادر پولیس کا حصہ ہیں، پولیس میں خواتین کو شمولیت کرنی چاہئے، ہم چترال کے برف پوش پہاڑوں میں مردوں کے شانہ بشانہ ڈیوٹی سر انجام دیتی ہیں، تعلیم کے ذریعے آپ نہ صرف اپنے علاقے کی خدمت کر ستے ہیں بلکہ پولیس فورس میں رہ کر خواتین کے امیج کو قومی اور بین الا اقوامی سطح پر اُجاگر کر سکتے ہیں۔

 

جمینہ نے بتایا کہ اسے پچپن سے ہی پولیس میں بھرتی ہونے کا شوق تھا، پولیس میں ڈیوٹی سے نہ صرف وہ اپنے خاندان کی کفالت کا ذریعہ بنیں بلکہ علاقائی مسائل کے حل میں بھی اپنے علاقے میں خوب عزت ملی۔

جمینہ کا کہنا تھا کہ ان کے 5 بھائی اور 6 بہنیں ہیں اور میرے والد مقامی ہوٹل چلاتے ہیں جب کہ میرے والد کا کہنا ہے کہ یہ انکے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ انکی بیٹی یونیفارم والی بہادر فورس کا حصہ بنیں۔

حال ہی میں چترال سے بنوں ٹرانسفر ہونیوالے سابق ڈی اپی او چترال وسیم ریاض نے ایکسپریس کو بتایا کہ کمیونٹی پولیسنگ کے قیام سے خاندانی مسائل کی بہتر طریقے سے بیخ کنی ہوتی ہے، ڈی آر سیز اور پبلک لائزان کمیٹیوں سے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں، خواتین کا کے پولیس میں شمولیت حوصلہ افزاء ہے کیوں کہ دور جدید میں زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کیساتھ خواتین بھی کارہائے نمایاں سر انجام دے رہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔