کورونا وائرس اورعیدالاضحی ... عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرناہوگا!!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 13 جولائ 2020
 حکومت، علماء اورسول سوسائٹی کے نمائندوں کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال ۔  فوٹو : فائل

 حکومت، علماء اورسول سوسائٹی کے نمائندوں کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال ۔ فوٹو : فائل

ملک کو اس وقت کورونا وائرس کی صورت میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس سے نبردآزما ہونے کیلئے حکومت نے اب تک بے شمار اقدامات اٹھائے ہیں۔

عید الفطر کے موقع پر حکومت نے ’ایس او پیز‘ طے کر کے لاک ڈاؤن میں نرمی کی مگر لوگوں نے ایس او پیز کو نظر انداز کر دیا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے اور کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اب عید الاضحی کی آمد آمد ہے اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے پیشگی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ادارہ ایکسپریس نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ’’کورونا وائرس اور عید الاضحی کے موقع پر حفاظتی اقدامات‘‘ کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا جس میں حکومت، علماء اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

 شوکت بسرا
(ترجمان وزیراعظم پاکستان)

عید الفطر کے موقع پر حکومت نے لاک ڈاؤ ن میں نرمی کی لیکن بدقسمتی سے یقین دہانی کے باوجود تمام طبقات نے ’ایس او پیز‘ کی خلاف ورزی کی اور کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اب عیدالاضحی آرہی ہے تو ایک بار پھر خدشہ ہے کہ اگر لوگوں نے لاپرواہی کی تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب عیدالاضحی پر کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا بلکہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ و ایف آئی آر سمیت سخت سزائیں دی جائیں گی۔ایسے ممالک جہاں کورونا وائرس کے کیسز لاکھوں میں پہنچے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی معیشت تباہ ہوگئی اور پھر انہیں بھی ایس او پیز کے تحت لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا پڑی۔ وزیراعظم عمران خان پہلے دن سے ہی لاک ڈاؤن میں غریب اور مستحق افراد کے حوالے سے فکر مند تھے لہٰذا انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور ایس او پیز کے تحت معاملات کو چلانے کی ہدایت کی۔

اب لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں۔ یہ ایس او پیز مشکل نہیں ہیں، ان میں ماسک پہننا اورسماجی دوری اختیار کرنا ہے۔ کورونا کی کوئی دوا یا ویکسین نہیں، واحد حل احتیاط ہے لہٰذا ہم سب نے اتحاد کے ساتھ اس کو شکست دینی ہے لیکن اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ آخری عید نہیں ہے، زندہ رہیں گے تو آئندہ بھی عیدیں آئیں گی لہٰذا خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔حکومت تاجر، علماء، سول سوسائٹی، میڈیا و تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لے رہی ہے، NCOC میںبھی ان سے مشاورت ہوتی ہے اور اب عید الاضحی کے حوالے سے آگاہی و لائحہ عمل میں بھی ان سے مشاورت جاری ہے۔

 مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد
(خطیب امام بادشاہی مسجد لاہور)

حضرت محمدؐ سے جب پوچھا گیا کہ قربانی کیا ہے، آپؐ نے فرمایا یہ میرے ابا حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ نہ تمہارا گوشت پہنچتا ہے، نہ خون پہنچتا ہے، اللہ تو اس میں تمہارا تقویٰ دیکھنا چاہتا ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا، جو تم قربانی کا جانور لیتے ہو، اللہ تبارک تعالیٰ اس کے ہر بال کے عوض تمہیں نیکی عطاء فرمائے گا اور یہی جانور تمہارے پل صراط سے گزرنے اور گزارنے کا ذریعہ بھی بنے گا۔

عیدالاضحی پر ہر سال دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان قربانی کرتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر سنت ابراہیمی ؑ ادا کرتے ہیں۔چند روز قبل صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے علماء سے مشاورت کی اور عیدالاضحیکے حوالے سے ایس او پیز اور اجتماعی قربانی کے فروغ کے حوالے سے بات کی۔ ہماری تجاویز تھی کہ منڈیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور ایس او پیز بنا دیے جائیں۔ اجتماعی قربانی کے حوالے سے بھی لائحہ عمل بنایا جائے تاہم جو انفرادی طور پر قربانی کرتا ہے اسے منع نہ کیا جائے بلکہ اسے بھی سہولت فراہم کی جائے۔

تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں موجود ہیں جو عید الاضحی کے موقع پر آلائشیں، فضلہ وغیرہ اکٹھا کرتی ہیں۔ سابقہ عیدوں پر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ملازمین لوگوں کو آلائشیں ڈالنے کیلئے بڑے پلاسٹک بیگ دیتے تھے، لوگ ان میں آلائشیں ڈال کر باہر رکھ دیتے تھے اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی گاڑیاں اٹھا کر لے جاتی تھیں ۔ اس طرح صفائی ستھرائی کا موثر نظام قائم تھا۔ اب میئر و ڈپٹی میئر کا نظام موجود نہیں ہے لہٰذا وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو بلا کر انتظامیہ کو اس کی ذمہ داری سونپیں تاکہ عید کے موقع پر معاملات بہتر طریقے سے چلائے جاسکیں۔

آن لائن قربانی میں کوئی ممانعت نہیں مگر فی الحال اس حوالے سے ہمارے ہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے۔سعودی عرب میں قربانی کے حوالے سے پہلے سے ہی نظام موجود ہے۔ یہاں لوگوں کو اس پر قائل کرنا ابھی مشکل ہوگا۔ اگر حکومت اس حوالے سے کوئی منصوبہ بناتی بھی ہے تو اس میں وقت لگے گا۔ اس پر بعض ادارے کام کر رہے ہیں لہٰذا اگر لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں تو آن لائن قربانی کر سکتے ہیں۔ اجتماعی قربانی کے حوالے سے لوگ سب سے زیادہ اعتماد مدارس پر کرتے ہیں۔ وہاں قربانی ہوتی ہے اور لوگ آکر اپنا حصہ لے جاتے ہیں۔

کورونا کی اس صورتحال میں ہمیں ’ایس او پیز‘ پر لازمی عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم کسی دور علاقے میں اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتے ہیں اور وہاں 1 ہزار لوگوں کی حصہ داری ہوتی ہے تو گوشت لینے والوں کے ساتھ بھی کچھ لوگ آتے ہیں تو اس طرح یہ تعداد ہزاروں میں بن جاتی ہے۔ اس طرح افرا تفری کا ماحول بن جائے گا۔ لوگوں نے کافی حد تک ایس او پیز پر عمل کیا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جلد کورونا وائرس ملک سے ختم ہوجائے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور پوری انسانیت کو اس سے نجات دلوائے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے مساجد میں ایس او پیز کی پابندی کی جارہی ہے۔ ہم نے بادشاہی مسجد سے لوگوں کو ایس او پیز پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔ بعض جگہ مسائل بھی سامنے آئے مگر ملک کی تمام مساجد میں ایس او پیز پر عمل ہوا ہے اور ابھی بھی ہورہا ہے۔

عوام کو شعور دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔مساجد سے لوگوں کو عیدالاضحی کے حوالے سے آگاہی دی جائے، ہمیں اپنی اولاد، عزیز و اقارب کو بھی بچانا ہے، یہ نہ ہو کہ قربانی کے ساتھ ساتھ ہم قیمتی جانیں ضائع کر دیں، شہریوں کو ہر ممکن احتیاط کرنا ہوگی۔کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی استطاعت میں کمی آئی ہے۔

قربانی غریب کا حق ہے، جن کے گھر میں پورا سال گوشت نہیں پکتا، اس عید پر انہیں گوشت ملتا ہے لہٰذا قربانی خلوص سے کرنی چاہیے مگر اس میں احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ کوشش کریں کہ اجتماعی قربانی کی طرف جائیں۔ جو انفرادی طور پر کرنا چاہتے ہیں وہ خود بھی اور اپنے اہلخانہ کو بھی ایس او پیز پر عمل کروائیں۔

عبداللہ ملک
(نمائندہ سول سوسائٹی )

مسلمان ہر سال عیدالضحیٰ کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ کی یاد میں قربانی کرتے ہیں۔ قربانی کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ اب جن حالات میں ہم اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے جارہے ہیں وہ بہت حساس ہیں۔ اس کے سماجی، مذہبی اور معاشی پہلو ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کو کورونا وائرس کے مسئلے کا سامنا ہے اور اس کے پیش نظر لوگوں کی جان کے تحفظ کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں جن سے معمولات زندگی، کاروبار و دیگر معاملات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ حج کے حوالے سے مسلمانوں کے مرکز سعودی عرب نے صرف اپنے لوگوں کو ہی مخصوص حالات میں اجازت دی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے مشکل حالات میں لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے کہیں نہ کہیں گنجائش ضرور ہے۔اسلام میں ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف قرار دیا۔ اسی طرح ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا۔

حضرت محمدؐ کی حدیث پاک ہے کہ اگر کہیں وباء پھیل جائے تو جو لوگ وہاں ہیں، وہیں پر قیام کریں، باہر سے کوئی اندر نہ جائیں اور اندر والے باہر نہ جائیں۔ سائنس آج کہہ رہی ہے اور حضور پاکؐ نے 14 سو برس پہلے ہمیں بتا دیا اور اس کا مقصد لوگوں کی زندگیاں بچانا ہے۔ حضور پاکؐ نے یہ بھی فرمایا کہ وباء کے دوران صبر و استقامت اختیار کریں اور اگر اس دوران آپ کی جان چلی جائے تو شمار شہداء میں ہوگا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام میں کسی انسان کی جان بچانا اولین ترجیح ہے۔

کورونا وائرس جان لیوا ہے لہٰذا عیدالاضحی کے  حوالے سے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔دینی معاملات اور معاشرے میں سب سے بڑا کردار ہمارے دینی علماء کا بنتا ہے۔ لوگ ان کی بات سنتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں۔ میرے نزدیک حکومت نے جس طرح کورونا وائرس کے حوالے سے طبی ماہرین سے رہنمائی لی، ایسے ہی عید الاضحی پر علماء سے رہنمائی لینی چاہیے تھی۔

اس طرح اگر عید سے پہلے ’ایس او پیز‘ کے حوالے سے علماء کا متفقہ فتویٰ آجاتا تو معاملات بہتر ہوسکتے تھے مگر اب جبکہ حکومت مویشی منڈیوں کا اعلان کر چکی ہے تو ان منڈیوں کی تعداد بڑھائی جائے اورایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ایسی جگہ پر منڈیاں قائم کی جائیں جہاں رش نہ ہو۔ وہاں جاکر لوگ کورونا سے متاثر نہ ہوں اور نہ ہی دوسروں کو متاثر کریں۔ معاشرے میں سول سوسائٹی کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اس کے ذریعے سے لوگوں کو آگاہی دی جاسکتی ہے۔

جب غیر معمولی حالات ہوں اور لوگوں کی جان بچانا دینی و اخلاقی فرض بھی ہو تو سول سوسائٹی کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے وضع کردہ ’ایس او پیز‘ کی ترویج کی جائے اور لوگوں کی رہنمائی کی جائے۔ گزشتہ برسوں میں مہنگائی کی وجہ سے اجتماعی قربانی کے رجحان میں اضافہ ہوا، اب غیر معمولی حالات ہیں لہٰذا اجتماعی قربانی کو فروغ دیا جائے۔ اس کے علاوہ آن لائن قربانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے، اس حوالے سے محکمہ لائیو سٹاک، محکمہ اوقاف اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ مل کر موثر نظام بنا سکتے ہیں۔

 

منڈیوں میں جانے سے لے کر جانور گھر لانے اور پھر گلی محلوں میں بچوں کی جانب سے سیر کروانے سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اگرحکومت ’آن لائن‘ قربانی کا موثر نظام بنا دے تو بہت زیادہ آسانی پیدا ہوجائے گی۔عید الفطر پر عوام کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی وجہ سے کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 9 مئی کو جب لاک ڈاؤن ختم کیا تو کیس ہزاروں میں تھے جو عید کے بعد سے لاکھوں ہوگئے اور بے شمار قیمتی جانوں کو ضیاع ہوا۔ اب بھی اگر عوام نے عید پر غیر ذمہ داری دکھائی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں لہٰذاسب کو ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔

میرے نزدیک جو بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا وہ مجرم ہے۔ حکومت کو ’ایس او پیز‘ کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ جو لوگ صاحب استطاعت ہیں، مہنگے اور زیادہ تعداد میں جانور خریدتے ہیں انہیں چاہیے کہ ایک جانور خرید لیں اور باقی رقم سے غرباء کی مدد کر یں، اس مشکل گھڑی میں آپ کی یہ مدد بڑی قربانی ہوگی۔

حکومت نے کورونا وائرس کے حوالے سے ٹائیگر فورس قائم کی حالانکہ اسے پہلے سے موجود سکاؤٹس کو متحرک کرنا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ ملک میں مساجد کمیٹیاں موجود ہیں، ان کے ذریعے موثر کام ہوسکتا تھا۔ اگر شہروں کو زونز میں تبدیل کرکے ان سے کام لیا جاتا تو نہ صرف لوگوں کو امداد فراہم کی جاسکتی تھی بلکہ بڑے پیمانے پر آگاہی بھی دی جاسکتی تھی۔ حکومت کے پاس وسائل اور فورس کی کمی ہے۔ ہر شہری کے ساتھ ایک پولیس اہلکار نہیں لگایا جاسکتا لہٰذا سب کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور ادا کرنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔