روبوٹ سائنسداں نے مہینوں کے سائنسی تجربات تین روز میں نمٹادیئے

ویب ڈیسک  پير 13 جولائ 2020
یونیورسٹی آف لیورپول کے ماہرین نے روبوٹ کیمیاداں تیار کیا ہے جو ایک ہفتے میں سینکڑوں تجربات انجام دے سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

یونیورسٹی آف لیورپول کے ماہرین نے روبوٹ کیمیاداں تیار کیا ہے جو ایک ہفتے میں سینکڑوں تجربات انجام دے سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

 لندن: برطانوی سائنسدانوں نے کارخانے میں کام کرنے والے ایک روبوٹک بازو کو معمولی سی تبدیلی اور پروگرامنگ سے گزارا اور اس کے بعد کیمیا کی تجربہ گاہ میں استعمال کیا تو اس نے مہینوں کا کام تین روز میں مکمل کردکھایا۔ 

یونیورسٹی آف لیورپول کے اس روبوٹ کی قیمت اگرچہ ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ ہے لیکن یہ انتہائی مہارت سے کیمیا کے پیچیدہ ترین تجربات انجام دے سکتا ہے۔ کبھی نہ تھکنے والا یہ روبوٹ 21 گھنٹے مسلسل کام کرسکتا ہے اور صرف چارجنگ کے وقت آرام کرتا ہے۔ یہ روبوٹ پوری تجربہ گاہ میں کسی بھی شے سے ٹکرائے بغیر گھوم پھرسکتا ہے۔

ابتدائی آزمائش میں اس روبوٹ نے ایک ہفتے میں 700 انتہائی اہم تجربات انجام دیئے اور اتنے تجربات ایک پی ایچ ڈی طالبعلم اپنی ڈاکٹریٹ کے عرصے میں بھی نہیں کرپاتا۔ ماہرین نے اس کی پروگرامنگ کرکے اسے مددگار بنانے کی بجائے خود سائنسداں بنایا ہے۔

400 کلوگرام وزنی روبوٹ سائنسداں نے انسانی ماہرین کی رہنمائی میں ایک عمل انگیز بھی دریافت کیا جو شمسی سیلوں کی افادیت کو بڑھاسکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ روبوٹ اپنے افعال سے سیکھتا رہتا ہے اور اپنے کام کو بہتر سے بہتر بناتا رہتا ہے۔

اندھیرے میں کام کرنے کا ماہر

روبوٹ اندھیرے میں آسانی سے کام کرسکتا ہے کیونکہ کیمیا کے بعض تجربات بہت حساس ہوتے ہیں اور روشنی ان میں خلل ڈال سکتی ہے۔ اس طرح اس کی افادیت انسانوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اسے جامعہ کے ماہر ڈاکٹر بنجامن برگر نے ڈیزائن اور پروگرام کیا ہے لیکن اس روبوٹ کو متحرک اور کارآمد بنانا سب سے بڑا چیلنج تھا۔

اگرچہ اس روبوٹ نے بعض غلطیاں بھی کی ہیں لیکن ان کی شرح انسانوں کے مقابلے میں بہت کم ہے مگر یہ اپنی خطاؤں سے سیکھتا ہے اور مزید بہتر ہوتا رہتا ہے۔ اسی بنا پر اسے کورونا وائرس سے بھرپور خطرناک ماحول میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

روبوٹ کو کلاؤڈ یا کسی دوردراز مرکز سے بھی چلایا جاسکتا ہے اور اسے مصنوعی ذہانت کے تحت چلایا جاسکتا ہے۔ یہ روبوٹ پوری تجربہ گاہ میں گھوم پھرسکتا ہے، نمونے جمع کرتا ہے اور مختلف تجربات کرتاہے۔ اگرچہ یہ کار فیکٹری جیسا روبوٹ بازو لگتا ہے لیکن اسے کئی امور کے لیے پروگرام کیا گیا ہے۔

کورونا لاک ڈاؤن کی بنا پر اگر سائنسدان تجربہ گاہ نہیں آسکتے لیکن دور بیٹھ کر وہ اس روبوٹ کے ذریعے اپنا تحقیقی کام ضرور کرسکتے ہیں۔ اس طرح سائنسی تحقیق کا سفر جاری رہتا ہے۔ یہ چیزوں کا وزن کرسکتا ہے، مائع کشید کرتا ہے، برتن سے ہوا کو نکال باہر کرتا ہے اور مختلف ری ایکشن انجام دے سکتا ہے۔

اس روبوٹ کا مکمل احوال جریدے نیچر میں شائع ہوا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔