اجمل وزیر آڈیو اسکینڈل: کیا سازش پی ٹی آئی کے اندر سے ہوئی؟

احتشام بشیر  پير 13 جولائ 2020
اجمل وزیر کا مستقبل اب مبینہ آڈیو اسکینڈل کی تحقیقات پر منحصر ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اجمل وزیر کا مستقبل اب مبینہ آڈیو اسکینڈل کی تحقیقات پر منحصر ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان تحریک انصاف کی جدوجہد کرپشن کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کےلیے رہی۔ وزیراعظم عمران خان انتخابی مہم کے دوران ماضی کی حکومتوں میں ہونے والی کرپشن کی کہانیوں کا ذکر کرتے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا کہ وفاق میں حکومت بنی تو کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کو احتساب کے کٹہرے میں لائیں گے اور کرپشن سے پاک نظام بنایا جائے گا، ایسا نظام جہاں عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہوگا، کمیشن مافیا کا ہاتھ روکا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی حکومت کو بنے دو سال کا عرصہ گزر گیا۔ اس عرصے میں کرپشن کے کئی کیسز بنے، اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا گیا، عدالتوں میں پیشیاں بھی ہوئیں لیکن کرپشن کے الزامات ثابت نہ ہوسکے۔ کرپشن کرپشن کی کہانی کا یہ معاملہ اب عوام میں بھی زیر بحث آنے لگا ہے۔ نجی محفلوں، دکانوں، دفاتر، جہاں بھی سیاسی بحث ہوتو یہی سوال اٹھتے ہیں کہ چور چور کا شور تو مچایا گیا لیکن چور کو سزا کیا ملی؟ کرپشن کے الزمات کی زد میں آنے والے آج بھی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اور اپوزیشن کی جانب سے بھی یہ معاملہ اٹھایاجارہا ہے کہ حکومت نے مخالف سیاستدانوں پر کرپشن کے کیسز تو بنائے لیکن کچھ ثابت نہ ہوسکا۔

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں بننے والے احتساب کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جب پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت بنی تو صوبے میں احتساب کمیشن ختم کردیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب حکومتی وزراء پر بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی کے کیسز احتساب کمیشن میں گئے تو کمیشن ختم کردیا گیا۔ کرپشن کے حوالے سے حکومتی وعدہ پورا نہ ہونے پر عام شہری بھی سوالات اٹھانے لگے ہیں۔ ایک جانب حکومت کرپشن کے خاتمے کےلیے کوئی مؤثر اقدامات نہ کرسکی تو دوسری جانب اب حکومت میں سے کرپشن کی کہانیاں سامنے آنے لگی ہیں۔ چینی اسکینڈل پر اب تک کوئی کارروائی نہ ہوسکی جس پر یہی سوال کیے جارہے ہیں کہ کرپشن کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی کوئی کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی جارہی؟

پی ٹی آئی کے اندر سے بھی یہ آوازیں آنے لگی ہیں کہ جن وعدوں پر عوام سے ووٹ لیا گیا تھا، وہ وعدے نباہنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ حکومتی ارکان اسمبلی اپنے ہی وزراء اور حکومت سے ناراض ہوتے جارہے ہیں؛ اور سیاسی مبصرین کا بھی یہی خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہی ہے۔

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں بھی حکومت کے خلاف ایم پی ایز کا گروپ بنا جو حکومت کی جانب سے نظرانداز ہونے پر ناراض تھے اور بار بار حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے۔ لیکن اس وقت کے وزیراعلی پرویزخٹک، خود جوڑ توڑ اور سیاسی داؤ پیچ کے ماہر تھے اور جنہیں ہر سازش کو ناکام بنانے کا گر آتا تھا۔ گزشتہ حکومت میں بھی کئی ناراض ایم پی ایز کی نشستیں ہوئیں لیکن اس وقت پرویزخٹک وقت سے پہلے ہی ہر سازش کو ناکام بنادیتے۔ اس وقت کے وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی اور پرویز خٹک کے درمیان تنازعہ نے جنم لیا تو پرویز خٹک نے ضیاء اللہ آفریدی کو کابینہ پارٹی سے ہی فارغ کرادیا۔ اب بھی صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومتی صورتحال ماضی سے مختلف نہیں۔ لیکن مرکزی قیادت کی جانب سے سخت کارروائی کی دھمکی کے باعث ناراض گروپ سر نہیں اٹھا پارہا۔ اب بھی مضبوط صوبائی حکومت کے خلاف سازشوں کی باتیں اپوزیشن کی جانب سے نہیں، حکومتی حلقوں سے سامنے آرہی ہیں۔ لیکن موجودہ وزیراعلی محمود خان روایتی سیاسی داؤ پیچ استعمال کرنے کے بجائے مرکزی قیادت کو اعتماد لے کر اپنی حکومت کے خلاف سازشوں کا سامنا کررہے ہیں۔

اطلاعات یہ ہیں کہ آج بھی پرویز خٹک کے مشورے کام کررہے ہیں۔ تحریک انصاف میں مرکز کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی پارٹی گروپوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر گروپ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی گروپ بندی کی وجہ سے پہلے تین وزراء کابینہ سے فارغ ہوئے، ایک وزیر اطلاعات کے جانے کے بعد اب دوسرے کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ کچھ دنوں سے یہ اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلیوں کا امکان ہے، لیکن یہ خیال نہیں کیا جارہا تھا کہ کورونا وبا میں حکومت کا دفاع کرنے والے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کو اشتہارات میں کمیشن کے مبینہ الزام پر ہٹادیا جائے گا۔

ہفتے کو سوشل میڈیا پر ایک آڈیو وائرل ہوئی جس میں مشیر اطلاعات اجمل وزیر اور ایک اشتہاری ایجنسی کے نمائندے کے درمیان اشتہارات کے معاملے پر گفتگو ریکارڈ کی گئی۔ اس آڈیو کے آنے پر یہ الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ یہ اشتہارات پر کمیشن کا معاملہ ہے۔ یہ معاملہ وزیراعلی کے نوٹس میں آیا تو مشیر اطلاعات کو ان کے عہدے سے ہٹاکر معاون خصوصی بلدیات کامران بنگش کو اطلاعات کی اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ آڈیو کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور آڈیو کی فرانزک بھی کی جارہی ہے۔ اگر اجمل وزیر قصوروار قرار پائے تو کارروائی کی جائے گی جبکہ اجمل وزیر کا مؤقف ہے کہ میرے خلاف منظم سازش ہوئی ہے۔ سازشیوں نے راستہ روکنے کےلیے گھٹیا طریقہ اپنایا ہے، اور ’’جس معاملے پر مجھے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے میرا تعلق ہی نہیں۔‘‘ ان کے حوالے سے جو آڈیو منظر عام پر آئی ہے وہ چار سے پانچ آڈیو کلپس کو جوڑ کر بنائی گئی ہے جس کی حقیقت فرانزک آڈٹ میں سامنے آجائے گی۔

اس معاملے کے بعد خیبرپختونخوا میں سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے کو خوب اچھالا جارہا ہے اور روایتی طور پر اب حکومت کی اس کمزوری کا اپوزیشن جماعتیں خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ لیکن یہاں حکومت کا یہ اقدام قابل تعریف ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ہی مشیر اطلاعات کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ اجمل وزیر مسلم لیگ (ق) سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور قبائلی امور کے حوالے سے وزیراعلی کے مشیر اور ترجمان کی ذمہ داریاں ملیں۔ جب شوکت یوسفزئی کی وزارت تبدیل کرکے انہیں اطلاعات، ثقافت اور خیبر کا قلمدان دیا گیا تو اجمل وزیر کو حکومتی ترجمان اور مشیر اطلاعات کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے یہ معاملہ گزشتہ دنوں اٹھایا گیا کہ حکومت نے ایک غیر منتخب شخصیت کو اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ پی ٹی آئی کے حلقوں میں بھی یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ دوسری پارٹی سے آنے والوں کو نوازا جارہا ہے اور پی ٹی آئی کے نظریاتی لوگوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

مرکزی کابینہ میں بھی پیراشوٹ سے آنے والوں کو ترجیح دی گئی۔ وفاق میں سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو بھی عہدے سے ہٹایا گیا اور عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد وہ اب ماضی کا حصہ بن گئی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں بھی مشیر اطلاعات کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔ اجمل وزیر کا مستقبل اب مبینہ آڈیو اسکینڈل کی تحقیقات پر منحصر ہے۔ اس آڈیو اسکینڈل کو سازش قراردیا جارہا ہے لیکن اس کا تعین کون کرے گا کہ سازش پی ٹی آئی کے اندر سے ہوئی ہے یا باہر سے؟ یہ بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ آڈیو کی فرانزک کے بعد اس معاملے کی بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ اس سازش کا مرکزی کردار کون ہے، لیکن ایسے اسکینڈل کا سامنے آنا خطرے کی گھنٹی ہے۔ کوئی تو ہے جو حکومت کے خلاف سازش کررہا ہے۔ فردوس عاشق اعوان سے اجمل وزیر تک، اپنے خلاف سازشوں کو حکومت کیا روک پائے گی؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔