امريکا ميں 17 برس بعد سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا

ویب ڈیسک  منگل 14 جولائ 2020
47 سالہ ڈینیل نے تین افراد کا قتل کیا تھا، فوٹو : فائل

47 سالہ ڈینیل نے تین افراد کا قتل کیا تھا، فوٹو : فائل

 واشنگٹن: امريکا میں 3 افراد کے قاتل ڈینیل لی کو زہریلا انجیکشن لگا کر 17 برس بعد سزائے موت پر عملدرآمد کردیا گیا جب کہ  اس سے قبل آخر مرتبہ 2003 میں کسی مجرم کو یہ سزا دی گئی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نسلی منافرت کو بنیاد بنا کر اور صرف سفید فاموں کی ریاست کے قیام کے  ایک منصوبے کے تحت ملزم ڈینیل لی نے تین افراد کو قتل کردیا تھا۔ اسےجرم ثابت ہونے پر 1999 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ لیکن  اس کے بعد سے امریکا میں سزائے موت پر عمل درآمد تعطل کا شکار رہی تاہم اپيلز کورٹ کے فيصلے کے تناظر میں وفاقی سطح پر پہلی مرتبہ سزائے موت کے فيصلے پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوئی۔

منگل کو امریکی ریاست انڈیانا میں ٹیری ہاؤٹ کے وفاقی جیل خانے میں سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔ سزا پر عمل درآمد کے وقت ڈینیل لی کا کہنا تھا کہ اس نے زندگی میں بہت سے غلط کام کیے ہیں لیکن وہ قاتل نہیں ہے۔ حکام کے مطابق لی کے آخری الفاظ تھے ’تم ایک بے گناہ شخص کو قتل کررہے ہو۔‘‘

اپیلز کورٹ کے فیصلے کے بعد 47 سالہ مجرم ڈينيل لی کو آج  زہریلا انجيکشن لگا کرسزا پر عمل درآمد کردیا گیا ہے اور اس کے علاوہ   صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظاميہ نے آئندہ مہينوں ميں مزید تين افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر رکھے ہيں۔

سابقہ ادوار کے برخلاف ٹرمپ انتظاميہ کا اس بار موقف ہے کہ سزائے موت پر عمل در آمد کی بحالی سنگين جرائم کے متاثرين کے مفاد ميں ہے اور سنگین جرائم کی بیخ کنی کے لیے سزائے موت عمل درآمد ناگزیر ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں آخری بار کسی مجرم کو سزائے موت 17 سال قبل دی گئی تھی تاہم اس کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینیل لی کی سزا پر عمل درآمد کے بعد اس حوالےسے ہونے والی بحث ایک مرتبہ پھر مرکزی حیثیت حاصل کرلے گی اور امریکی انتخابات میں بھی یہ اہم موضوع بن کر سامنے آئے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔