پنجرے میں بچی کو بند کرکے کہا جاتا مرغا بن کر ڈانس کرکے دکھاؤ

ویب ڈیسک  منگل 14 جولائ 2020
سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کی کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنے کو غیر قانونی قرار دینے کی سفارش

سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کی کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنے کو غیر قانونی قرار دینے کی سفارش

 اسلام آباد: سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں زہرہ قتل کیس کے بارے میں لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

سینیٹر مصطفی کھوکھر کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس  ہوا۔ جس میں راولپنڈی میں طوطے اڑانے پر کم سن گھریلو ملازمہ زہرہ کو قتل کئے جانے کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔

ایس ایس پی راولپنڈی فیصل نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زہرہ کے  گال ، پیٹ ، ٹانگوں ، پوشیدہ اعضا پر بہت زیادہ تشدد کے نشان تھے، ہم نے کیس میں زیادتی کی دفعات بھی شامل کی ہیں، ملزم حسن صدیق کا پراپرٹی کا کام ہے اور پرندے بھی فروخت کرتا ہے، مالکان جس بات پر غصہ ہوتے بچی پر تشدد کرتے تھے، طوطے اڑانے پر بچی کو ڈنڈے سے مارا گیا ، سر پر ڈنڈے کی چوٹ لگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں 8 سالہ گھریلو ملازمہ زہرہ قتل کیس میں اہم پیش رفت

ایس ایس پی نے بتایا کہ ملزم حسن صدیق کے فون میں سے کچھ ویڈیو ملی ، جنھیں فرانزک محکمے کو بھجوا دی ہے، ویڈیو میں ایک پنجرے میں ایک میں مرغا رکھا ہے ، اور ایک پنجرے میں بچی کو رکھا ہوا تھا، بچی سے حسن کہہ رہا ہے کہ مرغا بن جاؤ ڈانس کرکے دکھاؤ۔

پولیس نے بتایاکہ مقدمے میں ریاست مدعی ہے تاکہ سمجھوتا نہ ہو سکے، اگر ڈی این اے ٹیسٹ میں ریپ ثابت ہوا تو اس کی دفعات برقرار رکھیں گے ورنہ ہٹا دیں گے، حسن صدیق کو اس کیس میں موت کی سزا بنتی ہے۔

کمیٹی کی رکن کرشنا کماری نے کہا کہ اتنی چھوٹی بچی کو اتنی دور ملازمت کے لیے بھیجنے والے والدین بھی مجرم ہیں۔ مصطفی کھوکھر کا کہنا تھا کہ زہرہ قتل کیس میں راولپنڈی  پولیس کی کاوش سے مطمئن ہیں، کوشش ہے کہ بچوں کی گھریلو ملازمت کو ختم کریں۔

سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی نے کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ کو بچوں کی گھریلو ملازمت کو غیر قانونی قرار دینے کی سفارش کردی۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ وزارت داخلہ ڈومیسٹک چائلڈ لیبر ایکٹ میں ملازمت کو غیر قانونی قرار دینے کی شق شامل کرے، اس بارے میں 22 جولائی کو رپورٹ پیش کی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔