جامعہ کراچی کے 40 سرکاری مکانات پر قبضے کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا

صفدر رضوی  منگل 14 جولائ 2020
قابضین کے حوالے سے اسٹیٹ افسر کی رپورٹ سنڈیکیٹ کے ایجنڈے کا حصہ بنادی گئی . فوٹو : فائل

قابضین کے حوالے سے اسٹیٹ افسر کی رپورٹ سنڈیکیٹ کے ایجنڈے کا حصہ بنادی گئی . فوٹو : فائل

 کراچی: جامعہ کراچی کے رہائشی علاقے میں قائم 40 سرکاری گھروں پر غیر قانونی قابضین کے تسلط کا معاملہ پیچیدہ صورت اختیار کرگیا ہے۔

غیر قانونی قابضین کی کم از کم تین اقسام سامنے آئی ہیں جن میں دی گئی قانونی مدت پوری کرنے والے “ریٹائرڈ اساتذہ، افسران و ملازمین”،”بعض حاضر سروس ملازمین”، جبکہ”یونیورسٹی سے لاتعلق out sider ” بینک افسر شامل ہیں ان میں سے بعض افراد ایسے ہیں جو غیر قانونی طور پر رہتے ہوئے دو سے زائد یا تین وائس چانسلرز کے ادوار دیکھ چکے ہیں تاہم سرکاری گھر خالی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے قابضین سے سرکاری بنگلے اور کوارٹر خالی کرانے میں مسلسل ناکامی کے بعد پہلی بار اس معاملے کو جامعہ کے سب سے با اختیار ادارے “سینڈیکیٹ” میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قابضین سے گھر خالی کرانے کی غرض سے کسی بڑے فیصلہ کی منظوری وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی کی زیر صدارت 18 جولائی کو ہونے والے سنڈیکیٹ کے اجلاس سے لی جائے گی۔

اس حوالے سے معاملے کو سنڈیکیٹ کے ایجنڈے میں شامل کرتے ہوئے قابضین کے حوالے سے یونیورسٹی کی اسٹیٹ آفیسرکی مرتب کردہ تفصیلی رپورٹ بھی ایجنڈے کا حصہ بنادی گئی ہے اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم کچھ افراد حاضر سروس ملازمین خالی بنگلوز کے تالے توڑ کر اس پر قابض ہوگئے ہیں جبکہ بعض حاضر سروس ملازمین کی الاٹمنٹ منسوخ کیے جانے کے باوجود وہ متعلقہ گھروں پر قابض ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ریٹائرڈ پروفیسر غزالہ رضوانی دسمبر 2015 میں ریٹائر ہوئی تھیں انھیں 19 دسمبر 2016 تک گھر چھوڑنے کی ایک سال کی قانونی ملہت دی گئی تاہم وہ اب اس مدت کے بعد تین سال مزید گزار چکی ہیں اسی طرح 30 جون 2012 میں 3 سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر جامعہ کراچی آئے ہوئے سابق ڈائریکٹر فنانس مسعود عباس اب بھی اسی گھر میں مقیم ہیں اور گھر چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔

مزید براں ریٹائرڈ پروفیسر عارف کمال ریٹائرمنٹ کے بعد 21 مئی 2017 کو، پروفیسر ذوالقرنین شاداب 28 اگست 2018 کو ،پروفیسر ثریا خاتون 19 جنوری 2018 کو ،پروفیسر رشیدہ قاری 16 فروری 2019 کو ، پروفیسر شاہد علی 24 جولائی 2019 کو ، پروفیسر قمر امین 27 ستمبر 2019 کو ، پروفیسر احمد قادری 23 دسمبر 2019 کو، پروفیسر انور زیدی 5 اکتوبر 2019 کو اور پروفیسر مونس احمر 2 اپریل 2020 کو ریٹائرمنٹ کے بعد انتظامیہ کی جانب سے حاصل ایک سالہ مدت بھی گزار چکے ہیں۔

ان ریٹائرڈ اساتذہ اور سابق ڈائریکٹر فنانس کے علاوہ افسران و ملازمین میں جامعہ کراچی سے ریٹائر ہونے کے بعد جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں ملازمت کرنے والے افسر اکرم شریف، ریٹائر ڈپٹی ڈائریکٹر BCC &T سید خالد اور نچلے گریڈ کے دیگر ملازمین و افسران شامل ہیں بعض ملازمین ایسے ہیں جو حاضر سروس ہیں ان کو دیئے گئے گھروں کی الاٹمنٹ منسوخ کی جاچکی ہے جبکہ حاضر سروس دو ایسے ملازمین کا بھی انکشاف ہوا ہے جو سن 2018 کے دسویں اور بارہویں مہینے میں تالا توڑ کر متعلقہ گھروں میں جا بیٹھے ہیں، ان میں لیب اسسٹنٹ مسعود بن فرید اور اسٹور کیپر سعود بن فرید جبکہ کمپیوٹر آپریٹر عبید اللہ شامل ہیں اسی طرح جامعہ کراچی میں قائم نیشنل بینک سابق منیجر ناصر علی شاہ کا نام بھی out sider قابضین میں لکھا گیا ہے۔

جامعہ کراچی کے ایک رکن سنڈیکیٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر “ایکسپریس” کو بتایا کہ سینڈیکیٹ کا ایجنڈا موصول ہونے کے بعد کچھ دیگر اراکین سے آن کا اس سلسلے میں رابطہ بھی ہوا اور کچھ اراکین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر اس معاملے پر سنڈیکیٹ نے کوئی فوری اور بڑا فیصلہ نہ کیا تو قابضین کے حوصلے بڑھتے رہیں گے یہ معاملہ ایک بڑی انتظامی کمزوری ہے جس پر سابق کئی ایڈمنسٹریشنز بھی خاموش رہیں اور موجودہ انتظامیہ بھی اب تک محض وقت گزارنے کے کچھ نہیں کرسکی یے اب معاملہ سنڈیکیٹ کے فورم پر ہے اور فیصلہ ہمیں ہی کرنا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔