لازم ہے عوام معاشی تبدیلی دیکھیں

ایڈیٹوریل  بدھ 15 جولائ 2020
بہرکیف ارباب اختیارکے لیے راست اقدام کا وقت آگیا ہے،

بہرکیف ارباب اختیارکے لیے راست اقدام کا وقت آگیا ہے،

کورونا وائرس کے بلائے ناگہانی نے دنیا کو سر کے بل کھڑا کردیا ہے۔ جو قومیں پیٹ کے ایندھن سے سوچ رہی تھیں انھیں اب معاشی مسائل کے بڑھتے طوفان میں دوراندیشی، سیاسی فہم وفراست، اقتصادی تدبر اور جمہوری اقدار کو بروئے کار لانا ہوگا۔

کورونا سے نمٹنے میں افراط وتفریط کا شکار ہونے والی عالمی قیادت پر ایک اعتراض عالمی برادری ہی کے فکر انگیز حلقے نے کیا تھا کہ وہ کروڑوں انسانوں کو درپیش بھوک وافلاس کی حقیقت سے چشم پوشی کرتی رہی اور دنیا کی مجبور ولاچار انسانیت کے زمینی حقائق کا اسے کچھ بھی ادراک واندازہ نہیں ہے۔

کورونا وائرس نے غربت و امارت کے درمیان فرق اور تفاوت کو بھی نمایاں کردیا ہے، انسان نے جتنی دولت پیدا کی ہے اس کی سرحدیں بھی اس نے خود کھینچی ہیں، یوں دنیا آج امیر وغریب میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے، ناحق غریب ممالک کے حکمراں کاسہ گدائی لے کر عالمی مالیاتی اداروں کے در پر دستک دے رہے ہیں، صورتحال اس سے پہلے اس قدر دردناک نہیں تھی۔

7 ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ قرض دہندہ امیر ملک سود کی وصولی بند کردیں جب کہ دنیا کے امیر ترین افراد نے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ کورونا کے پیش نظر ہم سمیت دولت مندوں پر ٹیکس لگائیں۔ کیونکہ انسانی ضمیر کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنی دولت پر سانپ بن کر نہ بیٹھیں۔ مگر اہل وطن جانتے ہیں کہ ملک جس معاشی بدحالی اور غربت وبیروزگاری کے چنگل میں پھنسا ہے ہمارے اہل زر اپنے خزانوں کے منہ کھولنے پر تیار نہیں، بلکہ امیروں کو خدا نے جتنا دیا ہے وہ حکومت کی مدد کرنے اور لاچاروں اور بیروزگاروں میں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے قائم کردہ ٹرسٹوں اور خیراتی و فلاحی اداروں کی نشوونما میں مصروف ہیں اور جن کے ڈونرز کی چھان بین بھی نہیں ہوتی۔ دوسری طرف مخیر حضرات کا وہ طبقہ ہے جس کے ایثار اور خدا ترسی پر دنیا ناز کرتی ہے۔ آخر یہ تفریق کب ختم اور بندہ پروری اور خیراندیشی کب دل سوز سیاسی محاذ کی جگہ لے گی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بھوک کی صورتحال بدتر ہوتی جارہی ہے، دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے، پچھلے پانچ روز میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ گئی، اس وقت دنیا میں متاثرین کی تعداد ایک کروڑ30 لاکھ سے زیادہ جب کہ ہلاکتیں 5 لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں، ادھر ڈائریکٹر جنرل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ عالمی وبا کے باعث پرانی زندگی کی طرف واپسی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں، اگر بعض حکومتیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات نہیں اٹھاتیں تو صورتحال مزید خراب اور خراب تر ہونے والی ہے۔

اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی وبا کے باعث فاقہ کشی بڑھ رہی ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں افراد بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں، بے روزگاری میں اضافے کے خدشات بڑھنے سے خطے کے عوام میں بے چینی پھیل جانے اور اندرونی خلفشار کے امکانات بڑھ گئے ہیں جو سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

پیر کے روز جنیوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے متنبہ کیا ہے کہ ہم ان ممالک میں متاثرین میں خطرناک اضافہ دیکھ رہے ہیں جہاں خطرے کو کم کرنے کے لیے ثابت شدہ اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا میں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ بہت سارے ممالک غلط سمت کی طرف جا رہے ہیں۔ وائرس عوام دشمنی میں نمبر ایک ہے لیکن بہت ساری حکومتوں اور لوگوں کے اقدامات سے اس کی عکاسی نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ رہنماؤں کے ملے جلے پیغامات وبائی مرض کو قابو کرنے کی کوششوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔

اگر بنیادی باتوں پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو صرف ایک ہی راستہ باقی ہے۔ صورتحال خراب سے خراب ترین ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا ایک موثر ویکسین کی تیاری تک اس عالمی وبا سے چھٹکارا پانے کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ بھارت میں ایک دن میں 29 ہزار کیس سامنے آئے جب کہ اس سے قبل روزانہ 23 ہزار کیس سامنے آرہے تھے، عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ اتوار 11 جولائی کو عالمی سطح پر کورونا وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا، ایک دن میں دنیا بھر میں 2 لاکھ 30 ہزار 370 کیس رپورٹ ہوئے۔

سب سے زیادہ کیس امریکا، برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ سے سامنے آئے۔ عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ تقریباً ایک کروڑ 87 لاکھ بچے کورونا وائرس کے بعد شاید کبھی اسکول نہ جاسکیں گے۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ وائرس نے تعلیم کے لیے غیر معمولی ہنگامی صورتحال پیدا کردی ہے۔ اپریل میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت اسکول اور جامعات کی بندش کے تحت ایک ارب 60 کروڑ نوجوان تعلیم حاصل نہیں کر رہے جو دنیا بھر کے طلبا کی آبادی کا 90 فیصد حصہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر بچوں کی ایک پوری نسل کی تعلیم درہم برہم ہوچکی ہے۔ معاشی بحران کے باعث 9 سے 11 کروڑ 70 لاکھ بچے غربت کی لپیٹ میں آسکتے ہیں، جس کا اثر اسکولوں کے داخلے پر پڑ رہا ہے۔ ادھر بلوم برگ کے مطابق اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کورونا بحران سے دنیا بھر میں بھوک اور ناقص غذائیت بڑھ رہی ہے، اس سے لوگ مزید غربت کا شکار اور صحت بخش خوراک تک ان کی رسائی محدود ہوچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں 69 کروڑ افراد خوراک کی کمی کا شکار تھے، موجودہ عالمی وبا کی وجہ سے رواں سال کے آخر تک مزید 13 کروڑ20 لاکھ افراد سنگین فاقہ کشی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے چیف اکانومسٹ نے کہا کہ عالمی وبا خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ خوراک تک رسائی کا مسئلہ پیدا کر رہی ہے، رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، شورش اور معاشی بحرانوں کی وجہ سے حالیہ چند برسوں کے دوران بھوک میں اضافہ ہوا، ٹڈی دل کی وجہ سے خصوصاً افریقہ میں فصلوں کی تباہی سے رواں سال کے معاشی جائزے متاثر ہوئے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ دنیا 2030 تک بھوک کے خاتمے کے ہدف تک نہیں پہنچ سکے گی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ناقص غذائیت کے شکار افراد کی اکثریت کا تعلق ایشیا سے ہے تاہم افریقہ میں بھی ایسے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو 2030 تک دنیا بھر میں بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد 84 کروڑ سے بڑھ جائے گی۔

کورونا کے تناظر میں ملکی معیشت بے منزل مسافت کی طرف گامزن ہے، اسٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق حکومت 34 کھرب 00  ارب روپے کی مقروض ہے۔ کورونا سے قطع نظر پولیو کے بڑھتے کیسز کی بازگشت سنائی دیتی ہے، پاکستان پر عارضی پابندیوں میں 3 اکتوبر تک توسیع کا امکان ہے، ڈینگی بھی سر اٹھا رہا ہے، ایڈز کے ہزاروں مریض علاج کے گھٹتے امکانات سے پریشان ہیں۔

کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں من مانے اضافہ کے بعد اب مارکیٹ میں دودھ سو روپے کے بجائے 120روپے تک فروخت ہو رہا ہے، آٹو موبائلز کی صنعت بحران میں ہے، ملک بھر کے ریسٹورنٹس اور چھوٹے ہوٹلز سے وابستہ لاکھوں محنت کشوں کے نمائندے کفن پوش احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں، ریسٹورنٹس انڈسٹری کسی طور تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر سے کم اہمیت کی حامل نہیں، اس انڈسٹری سے ملک کے لاکھوں افراد اپنا روزگار کماتے ہیں۔ سیاحت کے جنت نظیر علاقے بد نظمی، ڈاؤنسائزنگ اور ناقص پالیسیوں کے باعث مسائل کا شکار ہیں۔

آئی ایم ایف کی ریجنل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں ایک بدترین معاشی کساد بازاری کا انتباہ دیا گیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اپنی نئی آؤٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سمیت خطے کی جی ڈی پی 1.8 فیصد رہنے کی توقع ہے، کورونا وائرس کے باعث معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جب کہ رواں مالی سال شرح نمو ایک فیصد رہے گی۔ پیر کو مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجن کے ڈائریکٹر جیہادآزور کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان کو تاحال کورونا کی وبا سے درپیش معاشی نقصانات کا سامنا ہے۔

کورونا کے دوران اسلام آباد کو فنڈز فراہم کیے۔ کورونا کی وجہ سے فنڈز کی ترجیحات تبدیل ہوئیں۔ کورونا کی وجہ سے پاکستان میں محاصل متاثر ہوئے، بروقت ٹیکس جمع کرنا دشوار ہوا، عالمی بیماری کی وجہ سے پاکستان کو مانیٹری پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔

بہرکیف ارباب اختیارکے لیے راست اقدام کا وقت آگیا ہے، مگر کیسے! اس کے لیے سیاسی اور معاشی افق پر سے گرد صاف کریں، جمہوری خوابوں کی نئی تعبیرلانے میں اسٹیک ہولڈرزکو ساتھ ملائیے۔ تاکہ عوام کو باقی ماندہ آئینی مدت کے لیے آپ کی اس بات کا یقین ہوجائے کہ

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِشب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔