براعظم ایشیا پہ سپرمیسی کی جنگ

سید عاصم محمود  ہفتہ 18 جولائ 2020
 امریکا آج بھی عسکری سائنس و ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر فائز ہے ۔  فوٹو : فائل

امریکا آج بھی عسکری سائنس و ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر فائز ہے ۔ فوٹو : فائل

29 جون 2020ء کو بھاری ہتھیاروں سے لیس چار دہشت گردوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج، کراچی پر حملہ کیا۔ تاہم وہاں تعینات محافظوں کی بہادری نے انہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ دہشت گرد عمارت میں داخل ہوکر لوگوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے تاکہ اس عمل سے عالمی سطح پر ریاست پاکستان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بدنام کیا جاسکے۔ مگر شہید سکیورٹی گارڈز اور پولیس افسر نے جان کا نذرانہ پیش کرکے دہشت گردی کا سنگین منصوبہ ناکام بنادیا۔یہ حملہ دراصل ایک نئی ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ تھا جو جنوبی ایشیا میں جنم لے چکی۔ ماضی کی گریٹ گیم میں برطانیہ اور روس بنیادی کھلاڑی تھے۔ اس نئے کھیل میں بھارت اور چین مرکزی کردار ہیں۔ یہ دونوں خفیہ و عیاں چالیں چل رہے ہیں تاکہ حریف کو معاشی و سیاسی نقصان پہنچا کر اپنے مفاد پورے کیے جاسکیں۔ یہ گریٹ گیم پچھلے چند ماہ میں شدت اختیار کرچکی کیونکہ بھارت اور چین، دونوں کے حکومتی نظام المعروف بہ اسٹیبلشمنٹ کا تصادم بھی شروع ہوچکا۔

اس نئے کھیل سے جنم لینے والی بڑی تبدیلی یہ کہ ہمارا ازلی دشمن، بھارت کا حکمران طبقہ پاکستان میں سرگرم ریاست دشمن قوتوں کو ازسرنو اپنا دوست بناچکا۔ انہی میں علیحدگی بلوچ تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے سادہ مزاج بلوچ عوام کو دھوکا دینے کی خاطر ’’قوم پسندی‘‘ اور ’’آزادی‘‘ کا چوغہ اوڑھ رکھا ہے۔ حقیقت میں ان تنظیموں کا واحد مقصد بلوچستان میں اپنے آمر لیڈروں کا اقتدار دوبارہ قائم کرنا ہے۔ یہ لیڈر اور ان کی آل اولاد قیام پاکستان سے اپنی آمرانہ حاکمیت، پُر آسائش زندگی اور مراعات سے محروم ہوگئے تھے۔ انہیں اسی بات کا شدید دکھ ہے۔ چناں چہ اپنی آسائشیں اور آمرانہ حکومتیں واپس لینے کی خاطر وہ ریاست کے خلاف سیاسی و عسکری لحاظ سے سرگرم ہو گئے۔ پچھلے کئی برس سے انہیں بھارتی حکومت کی براہ راست مالی مدد حاصل ہے جبکہ افغانستان اور ایران میں بھی بعض طاقتورعناصر ان کے پشت پناہ ہیں۔

بھارتی حکومت مال دے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) نامی تنظیم کے فدائین مجید بریگیڈ نامی دستے نے کیا۔ اس تنظیم کا قائد ،حیر بیار مری ایک نواب کا بیٹا ہے۔ باپ ساری عمر پاکستان کے خلاف رہا۔ بیرون ملک جاکر وطن دشمن سرگرمیاں اپناتا رہا مگر اخیر میں ریاست ہی نے اسے پناہ دی۔ بیٹے نے مگر باپ کے عبرتناک انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اب بیرون ملک بیٹھا پاکستان دشمن طاقتوں خصوصاً بھارتی حکمرانوں کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔پچھلے سال حیر بیار نے بھارت کے مشہور ہفت روزہ، دی ویک کو ایک انٹرویو دیا تھا جو 2 نومبر 2019ء کو شائع ہوا۔ اس میں حیر بیار نے کہا تھا:

’’بھارت کو ہماری ہر ممکن مدد کرنا چاہیے کیونکہ اس میں اسی کا فائدہ ہے۔ آزاد بلوچستان خطے میں بھارت کو جغرافیائی و مادی فوائد بہم پہنچائے گا۔ بلوچستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔ بھارت کو یہ معدنیات اور ایندھن درکار ہیں تاکہ وہ چین اور دیگر ممالک سے مقابلہ کرسکے۔

چین اپنے مفاد کے لیے گوادر میں بندرگاہ بنارہا ہے۔ اس کی حکمت عملی کامیاب ہے کہ وہ مقامی قوتوں کو اپنا دوست بناتا ہے۔ بھارت اب مغربی ممالک کے قریب ہے اور مقامی دوستوں کو نظرانداز کرچکا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اگلے دو عشروں میں کیا ہوگا۔ چین اور پاکستان مگر مل کر عسکری و معاشی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔ مجھے بھارت کی جانب سے ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ انہیں (بھارتی حکمرانوں کو) معلوم ہونا چاہیے کہ اگر بلوچستان آزاد نہیں ہوا تو خطے میں اس کے مفادات خطرے میں پڑجائیں گے۔ لہٰذا بلوچستان کی آزادی سے بھارت کا مستقبل بھی محفوظ ہو گا۔‘‘

درج بالا خیالات سے عیاں ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند لیڈر اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے بھارت کا بھرپور ساتھ چاہتے ہیں۔ بھارتی حکمران طبقے نے اندرونی مسائل اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث کچھ عرصے سے نفرت و دہشت گری کے سرپرست بلوچ لیڈروں کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اسی لیے ان کی بھرپور سعی تھی کہ بھارت دوبارہ ان کی سرپرستی کرے اور انہیں ما ل و اسلحہ دے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر سے آشکارا ہے کہ ان کی خواہش کسی حد تک پوری ہوگئی۔ بنیادی وجہ مگر یہ نہیں کہ بھارتی حکمران طبقہ ان بلوچ لیڈروں کے مادی مفادات پورے کرنے کا خواہاں ہے۔ اصل وجہ یہ کہ مقامی پراکسیوں یا قوتوں کے ذریعے پاکستان میں چین اور ریاست کے مفادات کو زک پہنچائی جاسکے۔ یاد رہے، پاکستان سٹاک ایکسچینج کے چالیس فیصد حصص ایک چینی گروپ کے پاس ہیں۔

دہشت گردی کی نئی لہر

پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر حملے سے قبل اچانک 10 جون سے سندھ دہشت گردی کے واقعات کا شکار ہوچکا تھا۔ تب اگلے دس روز تک دہشت گردوں نے رینجرز اور شہریوں پر بم حملے کیے۔ 19 جون کے حملے میں گھوٹکی میں دو رینجرز اور ایک شہری نے جام شہادت نوش کیا۔ دیگر حملوں میں بھی رینجرز کے جوان وشہری زخمی ہوئے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کے یہ سبھی واقعات بھارتی حکمرانوں کی پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کا حصہ ہیں جو نئے مرحلے میں داخل ہو چکی۔اس جنگ میں اسرائیل اور امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

جب بھارت اور چین کا لداخ میں تصادم جاری تھا تو ایم کیو ایم کے سربراہ، الطاف حسین نے لندن سے ایک انوکھا بیان دیا۔ دعوی کیاٰ کہ چین سندھ کے عوام کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ موصوف نے چینی حکومت اور سی پیک منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اسی دوران جرمنی میں بیٹھا شفیع برفت بھی چین پر برسنے لگا۔ یہ علیحدگی پسند سندھی لیڈر اور جئے سندھ متحدہ محاذ کا سربراہ ہے۔ یہ بھی سمجھتا ہے کہ چین سندھ پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس نے الطاف حسین کو دعوت دی کہ چین و پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد میں انہیں شراکت داری کرلینی چاہیے۔

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ریاست پاکستان کی مخالف مقامی تنظیموں کے قائدین اچانک متحرک ہوگئے۔ دراصل ان کے حقیقی آقا، بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے انہیں حکم دیا کہ پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور چین کے اثاثہ جات کو نشانہ بنایا جائے تاکہ پاکستانی حکومت کے لیے نیا محاذ کھل سکے۔

را طویل عرصے سے ان قائدین کو مال و دولت دے کر انہیں پال رہی ہے۔ اسی رقم کے بل بوتے پر عوام کے یہ نام نہاد لیڈر یورپی ممالک میں عیش و آرام سے رہتے ہیں جبکہ ان کی تنظیموں کے تنخواہ دار اور کرائے کے فوجی اپنے قائدین کے مفادات پورے کرتے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ذاتی اغراض پورے کرنے کی خواہشات دل میں بسائے یہ جھوٹے اور مکار قائدین نجانے کب تک اپنے پیروکاروں کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ را کے احکامات پر ریاست مخالف سبھی تنظیموں نے اتحاد بنالیا ہے۔ اب وہ مل کر ریاست پر حملے کررہی ہیں تاکہ اسے جانی و مالی نقصان پہنچایا جاسکے۔ پاکستان اور اس کے معاشرے کو کمزور کرنا بھارتی حکمران طبقے کا دیرینہ خواب ہے۔

سندھ میں رینجرز اور عوام پر حملوں میں ایک غیر معروف علیحدگی پسند تنظیم، سندھو دیش لبریشن آرمی بھی ملوث ہے۔ یہ تنظیم شفیع برفت کے سابق ساتھی، اصغر شاہ نے 2010ء میں قائم کی تھی۔ جب سکیورٹی فورسز نے اس کے گرد گھیراؤ تنگ کیا تو وہ افغانستان فرار ہوگیا۔ اصغر شاہ اب سرزمین افغاناں سے پاکستانی ریاست کے خلاف کارروائیاں کررہا ہے جو نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔

اس سے آشکارا ہے کہ افغان حکمران طبقے کے بعض عناصر بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کو موقع ملا کہ وہ افغانستان سے بھی پاکستان دشمن تنظیموں کی ہر ممکن مدد کرسکے۔پچھلے پانچ برس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بڑی مہارت، جانفشانی اور عرق ریزی سے پاکستان میں را اور دیگر دشمن خفیہ ایجنسیوں کے چھپے مراکز (سلیپرز سیل) ملیامیٹ کرڈالے ۔ تاہم اب بھی کچھ پوشیدہ عناصر موجود ہیں جو اپنے آقاؤں کے اشارے پر سماج دشمن سرگرمیاں انجام دینے لگتے ہیں۔ امید ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پیہم کوششوں اور زیرکی سے بچے کھچے دہشت گردوں کو بھی ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

پراکسی جنگ نئے مرحلے میں

مقامی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں چینی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھارتی حکمران طبقے کا پرانا وتیرہ ہے۔ اس کا آغاز سولہ سال قبل مئی 2004ء میں ہوا تھا جب ان کے کٹھ پتلی دہشت گردوں نے گوادر میں تین چینی انجینئر مار ڈالے۔ تب سے وقتاً فوقتاً پاکستان میں چین کے شہریوں، تنصیبات اور کاروباری مراکز پر بھارتی امداد سے پلنے والے دہشت گرد حملے کررہے ہیں۔ پاکستانی قوم کو یہ تلخ سچائی مدنظر رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں ایسے مزید دہشت گردانہ حملے انجام پائیں گے۔ وجہ یہی کہ اپنے اپنے مفادات اور اثاثہ جات کو تحفظ دینے کی خاطر بھارت اور چین کے مابین ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے۔ معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر کئی عوامل اس تصادم کی وجہ بنے ہیں۔ اب فریقین ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر خفیہ و عیاں حربہ اپنائیں گے۔

دور حاضر میں دشمن کے دشمنوں کو اپنا دوست بناکر انہیں بطور پراکسی استعمال کرنا سکہ رائج الوقت بن چکا۔ بھارت کے حکمران طبقے میں انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والی پاکستان دشمن چوکڑی (چیف آف ڈیفنس سٹاف  روات، نریندر مودی، امیت شاہ اور اجیت دوال) اسی طریق جنگ کی حامی ہے تاکہ فریق مخالف پر متواتر حملے کرکے اسے آہستہ آہستہ کمزور کیا جاسکے۔

پاکستان اور چین کی دوستی مثالی ہے۔ پھر بھارتی حکمران طبقے کی خودسری اور ہٹ دھرمی نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں بھی دونوں کو یکجا کردیا ۔ لہٰذا بھارت پاکستان میں موجود مقامی تنظیموں کے ذریعے پاکستانی ریاست و معاشرے کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔گویا آنے والے برسوں میں پاکستانی قوم وقتاً فوقتاً دشمن کے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنتی رہے گی۔ امید ہے، پاکستانی حسب روایت ہمت و شجاعت سے اپنے دشمن، بھارتی حکمران طبقے کے سبھی حملے خاک میں ملادیں گے اور اپنی سکیورٹی فورسز کے پشتی بان بنیں رہیں گے۔

حیرت انگیز بات یہ کہ محض پانچ سال قبل تک براعظم ایشیا کی دونوں بڑی عسکری معاشی قوتوں کے مابین تعلقات بظاہر خوشگوار تھے۔ آپس میں تجارت بڑھ رہی تھی۔ سینکڑوں چینی کمپنیاں بھارت آکر کاروبار کرنے لگیں اور ان کا بزنس چمک اٹھا تھا۔ تعلقات میں بڑھتا جوش و خروش دیکھ کر ہی بھارتی وزیراعظم مودی کو بھی اس رجحان پر اظہار خیال کرنا پڑا۔جون 2017ء میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سینٹ پیٹرز برگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں شرکت کرنے روس پہنچا ۔یہ روسی کاروباری شخصیات کی سالانہ کانفرنس ہے جس میں دنیا بھر سے صدور اور وزرائے اعظم بھی شرکت کرتے ہیں۔ مودی نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے بڑے فخرسے کہا:

’’یہ سچ ہے کہ بھارت اور چین کے مابین سرحدی تنازعات موجود ہیں۔ لیکن پچھلے چالیس برس سے ان کی وجہ سے ایک گولی بھی نہیں۔‘‘

دو دن بعد چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان،ہوا جن ینگ معمول کی بریفنگ دے رہے تھے کہ ان سے بھارتی وزیراعظم کے جملوں پر رائے مانگی گئی۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم مودی کے مثبت جملے نوٹ کر لیے گئے ہیں۔ ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘مگر چند روز بعد ڈوکلام کے علاقے میں بھارتی اور چینی افواج آمنے سامنے آ گئیں۔ اس علاقے میں بھارت‘ چین اور بھوٹان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ چین کے مطابق یہ علاقہ اس کی ملکیت ہے۔ بھوٹان اسے اپنی مملکت میں شامل سمجھتا ہے ۔ جب چین نے ڈوکلام میں سڑک بنانی چاہی تو بھوٹان سے جنگی معاہدے کے سبب اسے روکنے کی خاطر بھارتی فوج وہاں پہنچ گئی۔ چین نے سڑک کی تعمیر روک دی تو یہ مجادلہ انجام کو پہنچا۔ اس ٹکراؤ میں ایک گولی نہیں چلی۔تین سال بعد ماہ مئی میں چین اور بھارت لداخ میں ٹکرائے۔ درست کہ اس بار بھی کوئی گولی نہیں چلی مگر یہ خونی ثابت ہوا۔ چینی فوجیوں نے بیس پچیس بھارتی فوجی مار ڈالے۔ چینی فوج کا بھی جانی نقصان ہوا۔ سوال یہ ہے کہ مودی جی نے جس فخر سے چین بھارت دوستی اور قربت کا اظہار کیا تھا‘ آخر وہ چند ہی برس میں آئینے کی طرح کرچی کرچی کیسے ہو گیا؟ سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں تاریخ اور سیاسیات کے دالانوں میں گھومنا پڑے گا۔

تاریخ کے جھروکے

چین اور بھارت دنیا کی دوبڑی تہذیبوں کے امین بڑے ممالک ہیں۔ ان کے مابین تبتی سطح مرتفع کے عظیم پہاڑی سلسلوں‘ ہمالیہ‘ ہندوکش‘ قراقرام‘ پامیر‘ کونلون وغیرہ نے قدرتی دیوار بنا رکھی ہے۔ اسی لیے ماضی میں دونوں ممالک کے روابط محدود تھے۔تجارتی قافلے یا سیاح تو یہ بلند و بالا دیوار دروں سے پار کر لیتے مگر کسی حکمران کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ایک دوسرے پر لشکر کشی کر سکیں۔تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ 1221ہیں چنگیز خان جلال الدین خوارزم شاہ کا پیچھا کرتے کرتے ہندوستان پہنچا۔ مگر وہ دریائے سندھ عبور کرنے کی جرأت نہیں کر سکا ۔ تاہم چنگیزخان چین نہیں منگولیا کا حکمران تھا‘ اس لیے اسے چینی حملہ آور نہیں کہاجا سکتا ۔

انیسویں صدی میں انگریز نے اپنی عسکری طاقت اور چالوں کے باعث ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ اسی زمانے میں ایشیائی مسالوں کی تجارت پر قابض ہونے کے لیے مختلف مغربی طاقتوں کے مابین جنگ جاری تھی۔ 1557ء میں چینی بادشاہ نے پانچ سو سکہ رائج الوقت کرائے پر اپنا جزیزہ‘ میکاؤ پرتگال کو لیز پر دیا ۔ انیسویں صدی میں فرانسیسی اس پر قبضہ کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ تب برطانیہ پرتگال کا اتحادی تھا۔ اسی لیے پرتگالیوں نے انگریزوں سے عسکری مدد مانگی۔برطانوی بادشاہ نے ہندوستان کے علاقے بنگال کا کنٹرول سنبھالنے والی برطانوی تجارتی کمپنی ‘ ایسٹ انڈیا کمپنی کو حکم دیا کہ وہ میکاؤ کی حفاظت کے لیے بحری فوج بھجوا دے۔ آٹھ سو ہندوستانی فوجی نو بحری جہازوں پر سوار ہو کر ستمبر 1808ء میں میکاؤ پہنچ گئے۔ اس ہندوستانی بحری فوج کا کمانڈر ایک انگریزریئر ایڈمرل ‘ ولیم اوبرائن ڈروری کو بنایا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ہندوستانی فوج نے سرزمین چین پر قدم دھرے۔

تب چین پر مانچو بادشاہ‘ جیاقنگ کی حکومت تھی۔ جب اسے علم ہوا کہ ہندوستانی فوج میکاؤ پر اتر گئی ہے تو اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے ہندوستانی سپاہیوں اور ان کے انگریز افسروں کو وحشی قرار دے کر مطالبہ کیا کہ وہ فوراً میکاؤ سے نکل جائیں۔ برطانوی چین سے ٹکراؤ نہیں چاہتے تھے ۔ اس لئے دسمبر 1808ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بحری جنگی جہاز ہندوستانی فوجیوں کو واپس بنگال‘ ہندوستان لے گئے۔پہلی افیون جنگ (ستمبر1839ء تا1842ء) کے دوران چینی اور ہندوستانی فوجیوں کا پہلا تصادم ہوا۔ اس جنگ کو جنم دینے میں بھی ہندوستان کا اہم کردار تھا۔ برطانوی تاجر ہندوستان میں بنی افیون ہی چینی شہروں میں بیچ کرزبردست منافع کمایا کرتے تھے۔ جب چینی حکومت نے افیون کی تجارت روکنا چاہی تو چین اور برطانیہ میں تصادم ہو گیا۔

انگریز مگر بہت عیار تھے۔ انہوں نے چین پر حملہ کیا تو برطانوی فوج کی آدھی نفری ہندوستانی فوجیوں پر مشتمل تھی۔ یہ ہندوستانی فوجی مدراس اور بنگال آرمی سے تعلق رکھتے تھے۔ یاد رہے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کی خاطر تین افواج کھڑی کی تھیں: مدارس‘ بنگال اور بمبئی آرمی۔ ان تینوں میں عام فوجی ہندوستانی ہی ہوتے تاہم افسر انگریز بنائے جاتے۔پہلی افیون جنگ کے دوران ستمبر1841ء میں برطانوی فوج کا ایک بحری جہاز ‘ نربدا سمندری طوفان میں پھنس کر تباہ ہو گیا۔

اس پر اٹھارہ انگریز افسر اور دوسو اٹھاسی ہندوستانی فوجی سوار تھے۔ انگریز لائف بوٹس میں سوار ہو کر فرار ہو گئے اور اپنی ہندوستانی سپاہ کو ساحل پر تعینات چینی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔چینیوں نے تیر کر ساحل کی طرف آتے کئی ہندوستانی فوجی مار ڈالے۔133زندہ گرفتار ہوئے۔ انہیں قید کر لیا گیا اور دشمن سمجھ کر ان پر تشدد بھی ہوا۔ اگست 1842ء میں اکثر قیدی مار دیے گئے ۔چند قیدی ہی بچ سکے جنہیں جنگ بندی کے بعد انگریزوں کے حوالے کیا گیا۔

برطانوی فوج نے چین کے جن شہروں پر قبضہ کیا‘ وہاں بھی پہرے داری کی خاطر ہندوستانی فوجی تعینات ہوئے۔ یہ فوجی چینی عوام سے بھتا وصول کرتے تھے تاکہ ان کی جان و مال محفوظ رہے۔ یہ بھتا بڑے منظم طریقے سے لیا جاتا… جو چینی مطلوبہ رقم فراہم کر دیتا‘ اسے ایک سند (سرٹیفکیٹ) مل جاتا۔ گویا اب کوئی ہندوستانی اسے تنگ نہ کرتا۔ لیکن بعض ہندوستانی فوجی شراب کے نشے میں چینیوں کے گھروں پر دھاوا بول دیتے اور وہاں اودھم مچاتے۔چین کے شہروں میں غنڈہ گردی دکھانے کی وجہ سے چینی عوام انہیں ’’سیاہ شیطان‘‘ (Hei gui) کہنے لگے۔ عام چینی نفرت سے ان کا ذکر کرتے۔ ہندوستانیوں کے متعلق چینیوں کا خیال تھا کہ یہ لوگ چین میں آ کر آقا بن جاتے ہیں حالانکہ یہ اپنے ملک میں انگریزوں کے غلام ہیں۔(یاد رہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تینوں افواج میں ہندو فوجیوں کی اکثریت تھی ۔ تب اس میں مسلم فوجی بہت کم تھے۔)

بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی فکر میں تبدیلی

غرض چینی عوام کی اکثریت ہندوستانیوں کو اچھا نہ سمجھتی ۔ اسی دوران 1842ء میں جموں کے ہندو ڈوگرا راجا نے آزاد لداخ ریاست پر قبضہ کرکے تبت پر حملہ کردیا۔ یہ کسی بھی ہندوستانی حکمران کا چین پر پہلا باقاعدہ حملہ تھا۔ تاہم ڈوگرا فوج چینیوں سے شکست کھاگئی۔ اس نے بہرحال لداخ پر قبضہ برقرار رکھا اور اسے ریاست جموں و کشمیر میں شامل کرلیا۔1962ء میں سرحدی تنازع پر چین اور بھارت کی پہلی جنگ ہوئی۔ اس میں بھارتی فوج کو عبرتناک شکست ملی۔ دونوں ممالک سرحدی تنازعات حل کرنے کی سعی کرتے رہے مگر ٹھوس کامیابی نہ پا سکے۔

تاہم معاشی مفادات انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آئے۔ جب 2014ء میں نریندرمودی وزیراعظم بنا، تو بھارت چینی اشیا اور سروسز (خدمات) کی ایک بڑی مارکیٹ بن چکا تھا۔ ان کی باہمی تجارت 80 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ گو یہ چین کے حق میں تھی۔ بھارت چین سے 65 ارب ڈالر کا سامان منگواتا تھا اور صرف 15 ارب ڈالر کا اپنا مال ہی اسے فروخت کرپاتا۔

مودی کی آمد تک بھارتی حکمران طبقے کی سوچ اور نظریات میں ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوچکی تھی۔ جب بھارت وجود میں آیا تو وزیراعظم پنڈت نہرو سمیت اکثر کانگریسی رہنما سوشلسٹ ہونے کے باعث روس (یا سویت یونین) کی سمت جھکاؤ رکھتے تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ بھارت کا خوشحال اور ترقی پسند مستقبل روس کے ساتھ چلنے سے وابستہ ہے۔ مگر جب 1990ء میں روس زوال پذیر ہوا تو بھارتی حکمران طبقے نے اپنے آپ کو خلا میں پایا۔ تبھی اس میں موجود مغرب پسند گروں نے زیادہ اہمیت حاصل کرلی۔بھارت میں یہ اعجوبہ موجود تھا کہ گو حکومت روسی بلاک میں شامل تھی، مگر اس کے بہت سے سفارت کار، سرکاری افسر، دانشور، صحافی، صنعت کار وغیرہ مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیم پاتے تھے۔ حتیٰ کہ بھارت میں بھی مغربی نظام تعلیم رائج تھا جسے انگریز آقا چھوڑ گئے تھے۔ اسی لیے بھارتی حکمران طبقے میں شامل ایک بڑا گروہ مغربی تعلیم اور تہذیب و تمدن کا پروردہ تھا۔ تاہم سرکاری پالیسیاں روس کی جانب جھکاؤ رکھتی تھیں۔ اسی واسطے وہ مغرب کو اپنا ملجا و ماوی نہیں بناسکا۔ لیکن سویت یونین (روس) کی ٹوٹ پھوٹ نے اس طبقے کو رفتہ رفتہ ابھرنے کا موقع عطا کردیا۔

چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ 1990ء کے بعد بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے مغربی طرز فکر پر مبنی معاشی و سیاسی پالیسیاں اختیار کرلیں۔ نیز وہ بتدریج امریکا، برطانیہ اور امریکی بلاک میں شامل دیگرممالک کے قریب ہوگئی۔ اکیسویں صدی کے اوائل سے بھارت اور امریکا میں قربت بڑھی اور اگلے پندرہ برس میں انہوں نے معیشت و عسکریات سے متعلق کئی دوستانہ معاہدے کرلیے۔ اسی دوران معاشی و عسکری طور پر ابھرتی نئی عالمی قوت، چین امریکی حکمرانوں کی نظر میں اپنے مفادات کے لیے خطرہ بن گئی۔

چین سے مقابلہ کرتے ہوئے امریکی حکمران طبقے نے بھارت کو اپنا ساتھی بنالیا۔ چناں چہ امریکا نے بھارتی معیشت و دفاع کو مضبوط بنانے کی خاطر مختلف اقدامات بھی کیے۔ مودی کی آمد کے بعد تو دونوں ممالک تیزی سے قریب آئے۔ وجہ یہ کہ مودی اینڈ کو کے جنگجویانہ، انتہا پسندانہ اور قوم پرستانہ نظریے انسان دوستی کی جانب راغب سوشلسٹ نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی لیے ہندو شاونیت کے علم برداروں نے امریکا کے قریب ہونا بہتر خیال کیا۔ پھر اس طرح وہ امریکا اورپاکستان میں دوری پیدا کرنے سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ہزیمت دے کر اپنی تسکین بھی چاہتے تھے۔

دھوبی کا کتا،گھر کا نہ گھاٹ کا

امریکا سے قربت بڑھانے کے لیے ہی مودی حکومت اچانک جنوری 2015ء میں سیکرٹری خارجہ سجھاتا سنگھ کو ہٹا کر اس کی جگہ سبرانیم جے شنکر کو لے آئی۔ جے شنکر بھارتی حکمران طبقے میں امریکا سے تعلقات بڑھانے کے خواہش مند گروہ کا اہم رہنما ہے ۔ اس نے 2007ء میں دہلی کے تھنک ٹینک، انڈین فارن سروس انسٹیٹیوٹ کی شائع کردہ کتاب ’’انڈین فارن پالیسی، چیلنجز اینڈ اپورچونٹیز‘‘ میں ایک مضمون ’’انڈیا اینڈ یو ایس اے: نیو ڈائریکشن‘‘ میں لکھا کہ بھارت کو امریکا کے ساتھ مل کر چین میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ختم کرنے کی کوششیں کرنی چاہیں۔جے شنکر کی آمد سے بھارت اور امریکہ میں قربت مزید بڑھ گئی۔ جب قوم پرست امریکی صنعتکار، ڈونالڈٹرمپ 2017ء میں صدر بنا تو روابط میں مزید اضافہ ہواکیونکہ وہ بھارت سے ذاتی تجارتی مفاد بھی رکھتا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے بھارتی حکمرانوں کو متاثر کرنے کی خاطر مئی 2018ء میں امریکی افواج کی سب سے بڑی اور قدیم پیسفک کمانڈ کا نام بد ل کر انڈوپیسفک رکھ دیا۔

امریکا آج بھی عسکری سائنس و ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر فائز ہے۔ وہ عسکری امور کی معلومات صرف ان ممالک سے شیئر کرتا ہے جن کے ساتھ یہ تین معاہدے کرلے:Logistics Exchange Memorandum of Agreement،Communications Compatibility and Security Agreement اورthe Basic Exchange and Cooperation Agreement for Geo-Spatial Cooperation۔بھارت اور امریکا پہلے دو معاہدے کرچکے، تیسرے کی خاطر گفت و شنید جاری ہے۔

تیسرا معاہدہ بھی تشکیل پایا تو بھارت لانگ رینج نیوی گیشن اور میزائل ٹارگٹنگ کے سلسلے میں امریکی عسکری سائنس و ٹیکنالوجی سے استفادہ کرسکے گا۔ یہ سہولت گنے چنے ممالک بشمول اسرائیل، آسٹریلیا اور برطانیہ کو حاصل ہے۔اسی دوران صدر شی جن پنگ کے بعد چین کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں بھی اہم تبدیلی نے جنم لیا۔ چین بین الاقوامی معاملات میں مفاہمتی پالیسی ترک کرکے اپنی قوت کا اظہار کرنے لگا۔ یوں بڑی قوتوں کے مابین ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ گیا۔ اسی تصادم کا ایک مرحلہ پچھلے دنوں لداخ میں دیکھنے کو ملا جہاں چینی فوج نے ایک بار پھر بھارتی فوج کو ذلت آمیز شکست دی۔ اس ہار سے مودی جیسے متکبر حکمران کے پندار کو ٹھیس لگی۔ یقیناً اب وہ چین کو نقصان پہنچانے اور نیچا دکھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر گزرے گا۔

ماہرین سیاسیات کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات و حکمت عملی میں کوئی ملک دوسرے ملک کا سدابہار دوست نہیں ہوتا… ہر مملکت صرف اپنے مفادات مدنظر رکھتی اور انہیں پورا کرنے کی سعی کرتی ہے۔اسی لیے دانشور ہر حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کسی ایک ملک پر اندھا اعتماد نہ کرے بلکہ دشمن ملکوں کے ساتھ بھی مفاہمت کا کوئی نہ کوئی در کھلا رکھے۔بعض بھارتی دانشوروں کا خیال ہے کہ مودی سرکار امریکا کی آغوش میں جا بیٹھی ہے۔ اس نے سارے انڈے امریکی ٹوکری میں رکھ دیئے۔

یہ عمدہ خارجہ پالیسی نہیں۔ امریکا اور چین کے مابین دراصل تجارتی مسائل کی وجہ سے ٹسل جاری ہے۔جب بھی یہ مسائل حل ہوئے،امریکا دوبارہ چین کی سمت جھک جائے گا۔ایسی صورت میں مودی سرکار پہ یہ مثل فٹ بیٹھے گی:’’دھوبی کا کتا،گھر کا نہ گھاٹ کا۔‘‘بھارتی حکمران روس کو اپنا دیرینہ دوست قرار دیتے ہیں۔مگر لداخ میں حالیہ جھڑپوں کے بعد روسی حکومت نے صاف کہہ دیا کہ بھارت اور چین مل جل کر مسائل طے کریں،ہم کچھ نہیں کر سکتے۔غرض یہ ممکن ہے کہ بھارتی حکومت کی امریکا نواز اور چین دشمن پالیسیاں اسے ایسے اندھے کنوئیں میں گرا دیں جس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔