مشکل وقت سامنے ہے   (آخری حصہ)

زاہدہ حنا  بدھ 22 جولائ 2020
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ورلڈ اکنامک فورم نے یہ معلوم کرنے کے لیے ماہرین کی رائے حاصل کی ہے کہ کورونا کے باعث آنے والے ایک سال کے اندر دنیا کو کن سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لیے معیشت کو اولین ترجیح دی گئی کیونکہ معیشت میں گراوٹ زندگی کے تمام شعبوں پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے۔

ماہرین کا تجزیہ ہے کہ عالمی معیشت کو کساد بازاری کے ایک طویل دور سے گزرنا ہوگا، اس دوران خدمات کی بڑی کمپنیاں ، چھوٹی اور درمیانی صنعتیں بڑی تعداد میں دیوالیہ ہوجائیں گی اور نوجوانوں کی بڑی تعداد  کے پاس کوئی روزگار نہیں ہوگا۔ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث غذائی بحران پیدا ہوں گے۔ پاکستان جیسے ملکوں کے لیے بری خبریہ ہے کہ ترقی کرنے والی معیشتیں اور ابھرنے والی منڈیاں انہدام کے  خطرے سے دوچار ہوں گی ۔

یہ درست ہے کہ لوگوں کی قوت برداشت ختم ہوگئی ہے اور حکومتیں بھی زیادہ نقصان اٹھانے کی سکت نہیں رکھتیں۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ اس عالمی وبا نے سماجی سطح پر نفسیاتی دبائو کو بہت بڑھا دیا ہے لہٰذا مستقبل میں بھی لوگ کسی نئی وبا کے اچانک پھیل جانے کے خوف میں مبتلا رہیں گے، جس سے ذہنی اور نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوگا اور لوگوں کے درمیان عدم مساوات اور تقسیم بڑھے گی۔

لوگ سیاست دانوں سے بہت ناراض رہیں گے اور اپنی حکومتوں پر ان کا اعتماد کم ہوجائے گا۔ سماجی بہبود کے شعبوں کے کمزور ہونے سے معاشرے میں بے اطمینانی پیدا ہوگی، لوگ صحت کے بارے میں زیادہ حساس ہوجائیں گے اور ان کے علاج معالجے کے اخراجات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ جائیں گے۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ اس وبا سے جو معاشی بحران ابھر رہا ہے، اس میں آگے چل کر مزید شدت پیداہوگی جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور ملکوں کے درمیان محاذ آرائی جنم لے گی۔ اس وبا کے بعد مختلف ملکوں کی جانب سے لوگوں کی آمدو رفت میں رکاوٹیں عائد کی جائیں گی اور لوگ آسانی سے دوسرے ملکوں کا سفر نہیں کرسکیں گے جس سے خدمات کے بہت سے شعبے متاثر ہوں گے، چونکہ غیر ملکی امداد میں زیادہ کمی واقع ہوگی اس لیے انسانی بحران اور المیے جنم لیں گے۔

بعض ملکوں کی حکومتیں اپنی آمدنی  بڑھانے کے لیے زیادہ مالی اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کریں گی اور جن صنعتوں یا کاروبار میں زیادہ آمدنی  نظر آئے گی انھیںقومیانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ معاشی و سماجی بحران سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے حکومتیں جنگجویانہ ماحول پیدا کریں گی جس سے ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود تنازعات زیادہ شدت اختیارکرلیں گے۔

نظر یہی آتاہے کہ لوگ اس وبا کے خوف کا حصارتوڑ کر باہر نکل آئے ہیں اور حکومتیںبھی معیشت کو بچانے کے لیے خطرات مول لے رہی ہیں۔ یہ منظر نامہ اپنی جگہ لیکن اصل حقیقت ذرا تلخ ہے۔ لوگ باہر اس لیے نکلے ہیں کہ انسان کے لیے قید رہنا ہمیشہ سے ناپسندیدہ اور ناقابل برداشت عمل رہا ہے۔ اس کے علاوہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کی معاشی مجبوریوں نے بھی انھیں باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے، لہٰذا اگر اس صورت حال سے یہ نتیجہ نکالاجائے کہ لوگوں کے ذہنوں پر اس عالمی وبا کے منفی اثرات نہیں پڑے ہیں تو ایسا سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

لوگ نفسیاتی طور پر ایک جانے اور انجانے خوف میں مبتلا ہیں اور معاشی مسائل اس دبائو میں اضافہ کریں گے۔ صبر، تحمل اور رواداری کے مناظر اور مظاہر دیکھنے میں کم آئیں گے، نسلی، لسانی اور گروہی تقسیم کے بڑھنے کے امکانات کافی ہوں گے، مہنگائی اور بے روزگاری سے سیاسی عدم اطمینان پیدا ہوگا۔ امریکا میں سیاہ فاموں کی جانب سے جو احتجاج کیا جارہا ہے اس کی تاریخی وجوہ اپنی جگہ لیکن اس کی ایک فوری وجہ یہ بھی ہے کہ امریکا میں کورونا کی وبا سے متاثر ہونے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق سیاہ فام نسل سے ہے۔

یہ لوگ معاشی طور پر پس ماندہ ہیں اور اس وبا نے انھیں صرف بیمار اور ہلاک نہیں کیا بلکہ معاشی طور پر مزید کمزور بھی کردیا ہے۔ جب امریکا  جیسے معاشی لحاظ سے طاقتور ملک میں کورونا کی وبا اتنی شدید نسلی تقسیم پیدا کرسکتی ہے تو یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ ان غریب ملکوں میں کیا صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جہاں مختلف نسلوں، لسانی و مذہبی گروہوں کے درمیان ایک زیادہ گہری تقسیم پہلے سے ہی موجود ہے۔

اس عالمی وبا نے ابتدائی چھ ماہ کے اندر ہی پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی، چینی اور روسی صدورتک پریشان نظر آتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق عالمی معیشت اس وقت 3 فیصد سکڑ چکی ہے۔ 1930کی دہائی کی عظیم کساد بازاری کے بعد معاشی تاریخ کی یہ سب سے بدترین گراوٹ ہے۔ پاکستان بلاشبہ ان ملکوں میں شامل ہے جو مستقبل میں شدید معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ہماری معیشت اس عالمی وبا کے آنے سے پہلے بھی کوئی زیاد ہ بہتر حالت میں نہیں تھی، اب معیشت کے معاملات زیادہ خراب ہوچکے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہواکہ معاشی شرح نمو مثبت کے بجائے منفی ہوئی ہو۔

ایسا بھی پہلے کبھی نہیں ہوا کہ مجموعی داخلی پیداوار کا حجم بڑھنے کے بجائے گھٹ گیا ہو۔ حکومت کے اعدادو شمار کے مطابق شرح نمو منفی 0.45 فیصد ہے۔ دو سال پہلے ہماری جی ڈی پی 320 ارب ڈالر تھی جو اب کم ہوکر 260 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ بجٹ کا خسارہ خطرناک حدتک بڑھ گیا ہے جسے پورا کرنے کے لیے یا تو قرض لیا جارہا ہے یا ٹیکس اور ڈیوٹیزبڑھائی جارہی ہیں۔ کاروبار اور شرح نمو میں کمی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہورہے ہیں اور بیروزگاری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے جس سے حکومت کی آمدنی بھی کم ہوئی ہے یعنی ایک مسئلہ حل ہورہا ہے تو دوسرا پیدا ہورہا ہے۔ روپے کی قدر میں 40 فیصد کمی کرنے کے باوجود برآمدات میں اضافے کے کوئی آثار نہیں۔ ان چند اشاریوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں ہماری معیشت کو کتنے مشکل حالات کا سامنا ہوگا۔

غیر معمولی حالات کا مقابلہ غیر معمولی اقدامات کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ ہماری حکومت اور فیصلہ سازوں کو حکمرانی کے پرانے طور طریقوں کو ترک کرکے نیا انداز فکر اختیار کرنا ہوگا۔ آنے والے مشکل وقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دور رس معاشی اور سیاسی فیصلے ناگزیر ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی تنزلی کو روکنا اور اس کی بحالی ہے۔ اس حوالے سے سب سے مشکل یہ ہے کہ جب منڈی میں طلب کم ہوجائے گی تو پیداوار میں اضافہ کیونکر ہوگا۔

صنعتیں اور کارخانے اس وقت چلیں گے جب ان کی پیداوار کی کھپت ہوگی۔ اس لیے طلب پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ غربت کے شکار لوگوں میں نقد رقوم کی تقسیم یقیناایک مستحسن قدم ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہرچندماہ بعد کئی سو ارب کی تقسیم ایک ایسی حکومت کے لیے ممکن نہیں جو خود مالی بحران کا شکار ہے۔ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر کثیر رقم خرچ کرنا ہوگی جس سے نہ صرف لوگوں کو روزگار ملے گا، بہت سی صنعتوں کا پہیہ چلے گا، بے روزگاری اور غربت میں کمی آئے گی، لوگ پیسہ خرچ کریں گے جس سے خدمات اور مصنوعات کی طلب بڑھے گی اور معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہونے لگے گی۔

اب یہ عذر پیش نہ کیا جائے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ یہ سرمایہ تو ہرقیمت پر لانا ہی ہوگا۔ اس کے لیے غیر پیداواری اخراجات کم کیے جائیں، کھربوں روپے سالانہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو منافع میں لایا جائے یا ان کو بند کردیا جائے۔ ایسا کرتے وقت ملازمین کے معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ یہ سمجھ لیا جائے کہ صنعتیں محض شرح سود یا کارپوریٹ ٹیکسوں میں کمی سے نہیں بلکہ اس وقت چلتی ہیں جب منڈی میں ان کی مصنوعات کی طلب موجود ہوتی ہے اور طلب کے لیے خریدار کی جیب میں پیسہ اور اس کا برسرروزگار ہونا ضروری ہوتا ہے۔

معاشی بحالی کے لیے سیاسی استحکام بنیادی لازمی عنصر ہے۔ جبر اور طاقت کے ذریعے قائم کردہ ’’سیاسی استحکام‘‘ محض دکھاوا ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے زیادہ ’’استحکام‘‘ کن ملکوں میں تھا؟ اب یہ استحکام ریزہ ریزہ ہوگیا ہے اور خانہ جنگی نے عالی شان شہروں کو کھنڈر میں بدل دیا۔ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لیے بغیر ہم معیشت کی بحالی کے لیے درکار غیر معمولی اقدامات نہیں کرسکیں گے۔ مشکل وقت سامنے ہے، تاخیر کی گنجائش نہیں، محاذ آرائی ختم کیجیے، سب کو لے کر آگے بڑھیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔