عرق النسا کا درد، اسباب، علامات اور علاج

 ڈاکٹر حکیم وقار حسین  جمعرات 23 جولائ 2020
 رگ نسا کے درد کا علاج نہ کیا جائے تو خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں

رگ نسا کے درد کا علاج نہ کیا جائے تو خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں

 ایک درد جو ’ عصبِ ورکی کبیر ‘(شیاٹک نرو)میں ہوتا ہے اسے قدیم حکماء عرق النّسا (یعنی رگ ِ نَسا کا درد) کہتے ہیں۔ یہ انسان کو چلنے پھرنے تک نہیں دیتا اسی لیے اسے ’لنگڑی کا درد‘ بھی کہتے ہیں۔ مردوں کی نسبت یہ درد خواتین کو زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زیادہ ذکی الحس (حساس) ہوتی ہیں، زیادہ تر اس درد کی بنیاد ی وجہ چوٹ ،دماغی تھکاوٹ،غم وغصہ ، زیادہ سوچنابنتی ہیں۔

بعض حیاتیات (وٹامنز) کی کمی بھی اس درد کی وجہ بنتی ہیں جن میں وٹامن بی12 اور میگنیشیم سرِفہرست ہیں، مردوں میں بھی خشک مزاج ، چڑچڑارہنے والے اشخاص اس درد میں اکثرمبتلا ہوجاتے ہیں۔ مرد حضرات کو یہ درد ہو تو  خون کی کمی ، وٹامن ڈی اور وٹامن سی کی کمی کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ کچھ افراد ایسے بھی دیکھنے میں آئے جو نیند آور ادویہ کا بہ کثرت استعمال کرتے تھے ، مگر دن بھر رقیق غذاء مثلاً دودھ ، یخنی وغیرہ استعمال نہیں کرتے ، انہیں بھی قبض اور اس درد کی شکایت ہوئی ۔ ایسے لوگوں کے چہرے پر جھریاں ، آنکھیں زردی مائل ، بال کم اور پتلے دیکھنے میں آئے۔

عرق النسا کے اسباب:

’عصب ِورکی کبیر (شیاٹک نرو) ‘ جہاں جہاں پہنچتی ہے، یہ درد بھی وہاں تک ہوتا ہے۔ قدیم حکماء کے نزدیک اس درد کا ایک سبب یہ ہے کہ’ نسا ‘نامی رگ سیاہ اور گاڑھے خون سے بھر جاتی ہے ، اس سے رگ میں درد اور تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ رگوں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں، بیرونی ہوا کے جذب ہونے سے ردّی کیفیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ جدید دور میں کہتے ہیں کہ یہ عصب کا درد ہے یعنی شیاٹک نروجو عظم القطن (لمبر ورٹیبرا) سے نکل کر پاؤں تک پہنچتا ہے۔ یہ عصب دونوں ٹانگوں میں پھیلا ہوتا ہے، مگر اکثر کوئی ایک ٹانگ اذیت ناک ہوتی ہے۔

نیز جس قدر زمانہ بڑھتا رہتا ہے یہ درد نیچے کے جانب بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ درد انگلیوں تک پہنچ جاتاہے، اس کا آغازگھٹنوں تک کے درد سے ہوتا ہے۔ اس سے پاؤں اور ران لاغر ہوجاتے ہیں، کیونکہ درد کی شدّت سے یہ اعضاء غذاء جذب نہیں کر پاتے ۔ کچھ لوگ اسے کمر کے درد سے فرق نہیں کر پاتے ۔ کمر کا درد اکثر کمر کے درمیانی حصّے میں ہوتا ہے اور گردے یا ریح اس کی وجہ بنتے ہیں،یا سردی لگنا ، ہڈی کا سخت ہوناکمر درد (بیک پین)کی وجہ بنتے ہیں جبکہ ’ عرق النّسا ‘کادرد کمر کے نچلے حصّے کے علاوہ کولہے سے گزرتا ہے اور ایک جانب کی ٹانگ ہلنے سے قاصر رہ جاتی ہے،جلد پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ چیونٹی چل رہی ہے ، ٹانگ اور جلد سُن وبے حس ہوجاتی ہیں۔ نیز یہ درد4 تا 8 ہفتے رہتا ہے، اگر علاج نہ کیا جائے تو خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

عصب ِورکی کبیر’شیاٹک پین‘ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

1۔ غذاء کاوقت پر استعمال کریں۔کوشش کریں کہ ریح کم بنے اور قبض نہ ہو۔

2۔سبزی کا استعما ل مناسب مصلح مثلاً سیاہ مرچ ، ادرک ، لہسن ،ہلدی کے ساتھ کریں۔

3۔ ہفتے میں ایک بار ادرک کی چائے ضرور پئیںتاکہ خون گاڑھا نہ ہو۔

4۔وٹامنز ڈی،سی،اے،کے،بی کمپلیکس کا خیال کریں۔

5۔ روزانہ ورزش کریں ۔

6۔ بیٹھنے کی وضع کا خیال رکھیں، جھک کر زیادہ دیر نہ بیٹھیں۔

7۔ ذیابیطس کے مریض اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوجاتے ہیں، شوگر کنٹرول رکھیں

8۔ زیادہ وزن اُٹھانے سے پہلے مناسب بیلٹ پہنیں ۔

9۔ زیادہ موٹاپا بھی اس مرض کے ظاہر ہونے میں مدد دیتا ہے۔

10۔ غذاء میں یخنی، بکرے کا گوشت یا  بڑے پائے ضرور استعمال کریں ۔

11۔ دماغی تھکاوٹ زیادہ ہو تو تفریح کریں ، زیادہ دیر بیٹھنے کی عادت نہ بنائیں۔

12۔ سوتے ہوئے ہڈیوں میں ٹھنڈک نہ لگنے دیں۔

13۔ سونے سے پہلے ٹھنڈی غذاء نہ لیں۔

14۔ اگر سیڑھی وغیرہ سے گر بھی جائیں تو روغن ِبادام ، روغنِ سرسوں، یا روغنِ تل کی مالش کر کے درد دور کریں، پھر سوئیں ورنہ درد  زیادہ  ٹھہر جائے تو  مزید قسم کے دردوں کا سبب بنتا ہے۔

عرق النسا کی علامات:

اس کا درد کولھے کے جوڑسے شروع ہو کر ران کے پیچھے سے نیچے اترتا ہے جوپاؤں کی انگلیوں تک پہنچتا ہے، اس کا درد  دورہ کی شکل میں ہوتا ہے،جو عصب کی پوری لمبائی میں کسی حصّے میں دباؤ پڑنے سے ران کو حرکت دینے سے بڑھ جاتا ہے، اسی وجہ سے مریض ماؤف پاؤں سے کام نہیں لیتا ، اور اس کو اُٹھائے رکھتا ہے اور چلنے میں دوسرے پاؤں پر بوجھ ڈالتا ہے، جب اس کا سبب ورم ہوتا ہے تو عصب کی پوری درازی میں تا لم (چھونے سے درد کا احساس ہونا) پایا جاتا ہے اور گاہے عصب بھی چھونے سے متورم محسوس ہوتا ہے، ٹانگ گو یا نیم انقباضی (سکڑی ہوئی حالت ) میں رہتی ہے اوران کا پورے طور پر موڑنا تقریباً محا ل ہوتا ہے۔ اگر مریض دیوار کے سہارے لگ کر اپنی ٹانگ کو سامنے کی طرف اس طرح اُٹھا سکے کہ بدن کے اور اس کے درمیان زاویہ قائمہ(خاص اینگل) بن جائے بشرطیکہ گھٹنا مُڑا ہو انہ ہوتو سمجھنا چاہیے کہ مریض عرق النّسا میں مبتلا نہیں ہے۔

عرق النسا کا  علاج:

ایلوپیتھک علاج : طبی معاون سے مشورے کے بعد دافعِ درد طلاء (مرہم) کی مالش کریںمثلاً کیٹوپروفِن، آئبوپروفِن، آیوڈین،ڈکلوفینک سوڈیم جِل۔ کھانے کے لیے دافِع ورم ادویہ مثلاً  ڈکلوفینک سوڈیم،ڈکلوفینک پوٹاشیم، اِنڈو میتھاسین وغیرہ دیں۔

طبِ قدیم کا علاج : رگ ’نسا‘ کی فصد کھولیں یا جلد کے نیچے ’جوہرِ بیروج‘ داخل کیا جائے ، ورنہ عصبِ ماؤف کو کھینچ ک تان لیں، جس کی ترکیب یہ ہے کہ ران کو پیٹ پر موڑیں پھر گھٹنے کو پھلائیں۔

نسخہ: سناء مکی 3 تولہ، سورنجان شیریں1  تولہ، شیطرج ہندی 10تولہ، زعفران 1 گرام گرم پانی کے سانھ کھلائیں اور روغن قسط، روغنِ عاقرقرحا سے مالش کریں۔

علاج بذریعہ جدید ہربلزم: سفوف اسگند ، سفوف  سورنجان شیریں، جنکوبائی لوبا بمطابق مریض کا وزن اور عمر استعمال کرائیں، درد کو سن کرنے کے لیے روغنِ خشخاش کی مالش کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔