سمندر میں نہانے پر پابندی عائد شہریوں نے احکامات نظر انداز کر دیے

ایکسپریس اردو  پير 9 جولائ 2012
 ہاکس بے کے ساحل پر شہریوں کی بڑی تعدادلہروں سے لطف اندوز ہورہی ہے،بلدیہ عظمیٰ نے سمندر میں نہانے پر پابندی عائد کردی ہے،(فوٹو ایکسپریس)

ہاکس بے کے ساحل پر شہریوں کی بڑی تعدادلہروں سے لطف اندوز ہورہی ہے،بلدیہ عظمیٰ نے سمندر میں نہانے پر پابندی عائد کردی ہے،(فوٹو ایکسپریس)

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی نے سمندر میں طغیانی کی وجہ سے سمندر میں نہانے پرپابندی لگا دی ہے لیکن شہری ان احکامات کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہیں اور مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے خطرے کے لائن عبور کرکے گہرے سمندر میں جاکر نہاتے ہیں جس سے ناخوشگوار واقعات رونما ہونے کا اندیشہ ہے، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ساحل سمندر کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، تفصیلات کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت یہ پابندی سمندر میں طغیانی کے باعث لگائی گئی ہے جبکہ متعلقہ محکمے نے شہریوں کو خبردار کرنے کیلیے ساحل سمندر پر خطرے کا نشانات بھی آویزاں کردیے ہیں

تاہم ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے بڑی تعداد میں شہری ساحل سمندر کا رخ کر رہے ہیں، ہاکس بے نیلم پوائنٹ سونہرا پوائنٹ دو دریا اور دیگر ساحلی مقامات پر شہری بپھری ہوئی لہروں سے کھیلتے ہوئے کافی آگے تک چلے جاتے ہیں، طویل ساحل سمندر پر لائف گارڈز کی کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم جن جگہوں پر متعلقہ اسٹاف تعینات ہوتا ہے یا گشت کرتا ہے وہاں شہریوں کو سمندر میں آگے جانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بیشتر لوگ خصوصاً نوجوان ان کی بات نہیں مانتے ہیں اور سمندر میں نہانے کیلیے خطرے کے نشان سے کافی آگے چلے جاتے ہیں

واضح رہے کہ ہر سال سمندر میں ڈوبنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوتی ہیں، سینئر شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ساحل سمندر کو محفوظ بنانے کیلیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور نوجوانوں کو گہرے سمندر میں جانے سے روکنے کیلیے پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ ناخوشگوار واقعات سے بچاجاسکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔