سندھ حکومت کا این ایف سی کے نئے نوٹی فکیشن کو دوبارہ چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 23 جولائ 2020
آئین میں واضح ہے کہ مالیاتی وسائل کی تقسیم ہوگی لیکن اخراجات میں شیئرنگ نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ کا وزیراعظم کو خط (فوٹو : فائل)

آئین میں واضح ہے کہ مالیاتی وسائل کی تقسیم ہوگی لیکن اخراجات میں شیئرنگ نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ کا وزیراعظم کو خط (فوٹو : فائل)

 کراچی: سندھ حکومت نے این ایف سی کے نئے نوٹی فکیشن کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے دوبارہ چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم کے نام اپنے دوسرے خط میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا موقف ہے کہ این ایف سی نوٹی فکیشن کے نئے ٹی او آرز (ٹرمز آف ریفرنسز) آئین سے متصادم ہیں، آئین و قانون میں واضح ہے کہ مالیاتی وسائل کی تقسیم ہوگی لیکن اخراجات میں شیئرنگ نہیں ہوگی، نئے نوٹی فکشن کے ٹی او آر ختم کیے جائیں۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے این ایف سی کے نئے نوٹی فکیشن پر اپنے دوسرے خط میں پھر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قومی سطح کے منصوبوں میں وفاق صوبوں کے مالیاتی شیئر سے کٹوتی نہیں کرسکتا، آئین کے آرٹیکل 78 سے 83 تک واضح ہے کہ وفاق کے اخراجات کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اخراجات کا فیصلہ متعلقہ اسمبلیوں کا دائرہ اختیار ہے، قومی مالیاتی کمیشن اخراجات کے تعین کا حق نہیں رکھتا اور این ایف سی قانون ساز ارکان سے یہ حق نہیں چھین سکتی۔

مراد علی شاہ نے نئے نوٹی فکشن کے ٹی او آر ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ وزیراعظم آئینی تقاضوں پر عمل کرکے آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں پہلے دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل نو پر بھی وزیراعلی سندھ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے وزیراعظم کو اپنے پہلے خط میں کہا تھا کہ مشیر خزانہ کو این ایف سی میں شامل کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، این ایف سی میں نامزدگی وزرائے اعلی کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔