لاہور پولیس نے چوری کی 100 سے زائد وارداتیں کرنے والے خواتین کے بڑے گینگ کو گرفتار کرلیا

نعمان شیخ  ہفتہ 25 جولائ 2020
خواتین اور مردوں کے اس گینگ سے لاکھوں روپے مالیت کے زیورات ، نقدی اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، پولیس

خواتین اور مردوں کے اس گینگ سے لاکھوں روپے مالیت کے زیورات ، نقدی اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، پولیس

لاہور: سی آئی اے پولیس نے شہر بھر میں  ڈکیتی ، نقب زنی اور چوری کی 100 سے زائد  وارداتیں کرنے والی 10 خواتین سمیت چار افراد کو گرفتار کرلیا۔

خواتین اور مردوں کے اس گینگ سے لاکھوں روپے مالیت کے زیورات ، نقدی اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے ، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان نے بتایا کہ ان کی بطور انوسٹی گیشن پولیس سربراہ چارج سمبھالا تو ڈکیتی کے دوران قتل ہونے والی تمام وارداتوں کا ریکارڈ طلب کرکے تفتیش کا مطالعہ کیا ، مطالعہ میں ایک بات سامنے آئی کہ گھروں میں ڈکیتی کی وارداتوں میں گھر کا کوئی نا کوئی ملازم ضرور شامل ہوتا ہے جو تمام تر مخبری کرتا ہے ، ایس ایس پی انوسٹی گیشن ذیشان اصغر کی سربراہی میں سی آئی اے پولیس کی ایک سپیشل ٹیم بنائی گئی جس نے متاثرہ افراد کے گھروں پر جاکر ملازمین کے خاکے بنوائے۔

ذیشان اصغر نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ انہیں بڑی کامیابی اس وقت ملی جب سی آئی اے صدر پولیس نے چھ ایسی خواتین کو گرفتار کیا جو پوش علاقوں میں جاکر کوٹھیوں میں ملازمت مانگتیں ، چند دن ایمانداری سے گھر کا کام کرکے گھرمیں مردوں کے باہر آنے جانے اور خواتین کے پیسے اور زیور رکھنے والی الماریوں کا جائزہ لیتی رہتیں ، چند دن بعد موقع پاتے ہی ، گھروالوں کو کھانے یا چائے میں نشہ آور چیز دے کراپنی ساتھی خواتین کو بلاکر واردات کردیتیں ، ان خواتین میں نازیہ ، شبانہ ، لاڈی بی بی عرف شازیہ ، پٹھانی بی بی اور ان کے ساتھی وحید اور شاہد شامل ہیں ، ان ملزموں سے پولیس نے 18 لاکھ روپے کے زیورات , نقد پیسے اور موبائل فونز برآمد کیے۔ دوران تفتیش ملزموں نے درجنوں وارداتوں کا انکشاف کیا اور یہ بھی بتایا کہ جس گھر میں نوکری کرتیں وہاں اپنے شناختی کارڈ کی جعلی فوٹوکاپی دیتیں اور وارادت کے بعد موبائل نمبر تبدیل کرلیتیں ،

ایس ایس پی انوسٹی گیشن  ذیشان اصغر نے ایک دوسرے گینگ کی گرفتاری کے حوالہ سے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا جس کوسی آئی اے سٹی ڈویژن نے گرفتار کیا ، اس گینگ میں چار خواتین اور چار افراد شامل تھے ، ان خواتین کا طریقہ واردات پہلے گینگ سے مختلف ہے ، اس گینگ کی سرغنہ لاہور کے علاقہ  لوہاری کی رہنےوالی بسمہ نامی لڑکی تھی ، جس نے اپنے ہی محلے کی تین خواتین اقصی ، کرن اور سمیرا کو ساتھ ملایا اور شاپنگ مالز کا رخ کرلیا ، سمیرا اور کرن شاپنگ مالز میں شاپنگ کے لیے آئی خواتین پر نظر رکھتیں ان کے ساتھ دکانوں میں جاتیں ان سے سلام دعا کرکے واقفیت نکالنے کے لیے باتوں میں لگالیتیں اس دوران موقع پاکر بسمہ اور اقصی ان کا پرس اور قیمتی اشیا غائب کرلیتیں ، یہ خواتین گینگ زیادہ تر واردات شاپنگ مالز کے ریسٹ ایریا اور فوڈ پوائینٹس پر کرتا تھا ، لاک ڈاون میں جب شاپنگ مالز بند ہوگئے تو بسمہ نے اپنے ایک دوست شاہد سے رابطہ کرکے نئی پلاننگ کی جس میں شاہد نے اپنے تین ساتھیوں کو شامل کیا ، ان تمام مرد ملزمان نے اپنے فرضی نام خواتین کو بتائے ، بسمہ اور اس کی ساتھی خواتین شہر کے پوش علاقوں میں موٹرسائیکل اور کار سواروں کو یہ کہہ کر لفٹ لیتیں کہ لاک ڈاون کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں ، لفٹ ملنے کے بعد ان کو باتوں میں پھنساتیں اور ایسی ویران جگہ پر لے جاتیں جہاں ان کے مرد ساتھی اسلحہ سمیت موجود ہوتے ، مسلح ساتھی لفٹ دینے والے ساتھی کے ساتھ واردات کردیتے کئی شہریوں نے خواتین ساتھ ہونے کی وجہ اپنےساتھ ہونے والی واردات کا  پولیس تھانوں میں اندراج نہیں کروایا ، پولیس نے اس گینگ سے 30 لاکھ روپے کے زیورات ، نقدی اور اسلحہ برآمد کیا جبکہ گرفتارخواتین اور مرد ملزموں نے شہر بھر میں پچاس سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں سے اپیل ہے کہ اپنے گھروں میں انجان خواتین کو نوکری پر مت رکھیں ملازمت پر رکھنے سے قبل ان کا متعلقہ پولیس اسٹیشن میں اندراج کروائیں ، گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے سامنے الماری وغیرہ میں زیورات اور نقدی نا رکھیں اور ناہی خود کام کرتے وقت زیورات اور پیسے کھلے رکھیں ۔۔۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔