قربانی افضل ترین عمل … احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کریں!!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 27 جولائ 2020
 اسلام میں قربانی کی بہت زیادہ فضیلت و عظمت ہے لیکن کورونا وائرس کی اس مشکل گھڑی میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے عید کے موقع پر خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

 اسلام میں قربانی کی بہت زیادہ فضیلت و عظمت ہے لیکن کورونا وائرس کی اس مشکل گھڑی میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے عید کے موقع پر خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی معروف دینی سکالر ہیں۔ آپ پاکستان کے ایک بڑے دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور سے عرصہ دراز سے وابستہ ہیں اور اس وقت بطور مہتمم اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی نے گزشتہ دنوں ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں شرکت کی اور’’کورونا وائرس اور فلسفۂ قربانی‘‘ کے حوالے سے ’’خصوصی لیکچر‘‘ دیا جو نذر قارئین ہے۔ اس موقع پر مولانا مجیب الرحمن انقلابی بھی موجود تھے۔

عیدالاضحی اور عید الفطر یہ دو خوشی کے دن اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے ذریعہ اس امت محمدیہؐ کو عطاء فرمائے ہیں۔جب آنحضرتؐ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو آپﷺنے دیکھا کہ وہاں کے لوگ نیروز اور مہرجان کے نام سے دو خوشی کے تہوار مناتے ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے آپﷺسے پوچھا کہ کیا ہم ان تہواروں میں شرکت کریں؟ آپﷺنے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں۔

ایک عید الفطر کا دن ، دوسرا عیدالاضحی کا‘‘۔عید الفطر اس وقت منائی جاتی ہے جب مسلمان رمضان المبارک میں فرض روزوں کی تکمیل کر کے اس مقدس مہینے کے ایک تربیتی دور سے گزر کر اپنی روحانیت کو جلا بخشتے ہیں جبکہ عیدالاضحی اس وقت منائی جاتی ہے جب ایک دوسری عبادت یعنی حج کی تکمیل ہوتی ہے اور لاکھوں مسلمان عرفات کے میدان میں اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعائیں کر کے ایک نئی زندگی کا آغاز کر چکے ہوتے ہیں۔

عید الاضحی کے موقع پر اسلام میں قربانی کی بہت زیادہ فضیلت و عظمت ہے اور یہ قربانی ہر صاحب نصاب پر واجب ہے اور اس کے بارے میں حضور اکرمﷺنے یہاں تک فرمایا کہ ’’جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ نہ آئے‘‘

قربانی ایسی فضیلت والی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے۔قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہو جاتا ہے اور قربانی کرنے والے کی نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔قربانی کے جانور کے بدن پر موجود ہر بال کے بدلے میں قربانی کرنے والے کو نیکی ملتی ہے اور یہی قربانی کے جانور پل صراط پر سواریاں ہوں گے۔

ہر عمل کا ایک وقت ہوتا ہے جیسے کہ رمضان کے مہینہ میں روزے، حج کے ایام میں حج، نماز کے وقت میں نماز اسی طرح قربانی کے دنوں میں قربانی ایک بڑا مقبول عمل ہے۔ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دس ذوالحجہ کو کوئی بھی نیک عمل خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قیامت کے دن بندہ اپنی قربانی کے سینگوں ، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت پالیتا ہے لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔

قربانی کا فلسفہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس میں اللہ کی حکمت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ چونکہ نبیوں کا خواب سچا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیئے جانے کے مترادف مانا جاتا ہے لہٰذا حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ سے فرمایا کہ میں نے ایسا خواب دیکھا ہے، تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے  ؑ نے جواب دیا!ابا جان ؑ! آپؑ کو جو حکم ہوا ہے اس پر عمل کیجئے۔ آپؑ مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ سے لے کر چلے اور منیٰ میں جاکر ذبح کرنے کی نیت سے ایک چھری ساتھ لی۔

جب منیٰ میں داخل ہونے لگے تو حضرت اسماعیل ؑ کو شیطان بہکانے کی کوششیں کرنے لگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پتہ چلا تو شیطان کو اللہ اکبر کہہ کر سات کنکریاں ماریں، جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا، دونوں باپ بیٹا آگے بڑھے تو زمین نے شیطان کو چھوڑ دیا، کچھ دور جا کر شیطان پھر بہکانے لگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اللہ اکبرکہہ کر اسے سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین مین دھنس گیا، یہ دونوں آگے بڑھے تو پھر زمین نے اس کو چھوڑ دیا، وہ پھر آکر ورغلانے لگا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اللہ اکبر کہہ کر سات کنکریاں ماریں وہ پھر زمین میں دھنس گیا اور اس کے بعد آگے بڑھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا، ابھی ذبح کرنے نہ پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ندا آئی۔اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچا کر دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کی جگہ ایک مینڈھا قربانی کے لئے بھیجا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ جذبہ قربانی اور عمل اس قدر پسند آیا کہ قیامت تک انؑ کے اس عمل اور جذبہ کو زندہ رکھنے کے لئے ہر صاحبِ استطاعت پر قربانی واجب کر دی۔ چنانچہ حضور اکرمﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور پوری امت مسلمہ اس پر عمل کرتے چلے آرہے ہیں۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺیہ قربانی کیا ہے؟ حضور اکرمﷺنے فرمایا کہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی، انہوں نے پھر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺاُون کا کیا حکم ہے؟ آپﷺنے فرمایا کہ اون کے ہر بال کے بدلہ میں بھی ایک نیکی ملے گی۔

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺنے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی فرمائی۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺنے ارشاد فرمایا کہ عید کے دن قربانی کا جانور خریدنے کے لئے رقم خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے یہاں اور چیزوں میں خرچ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔

قربانی کے جانور شرعاً مقرر ہیں۔ گائے، بھینس، بیل، اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ مذکر و مؤنث، دنبہ ، دنبی ان کے علاوہ کسی جانور کی قربانی درست نہیں اگرچہ وہ کتنا ہی زیادہ قیمتی ہو اور کھانے میں بھی جس قدر مرغوب ہو لہٰذا ہرن کی قربانی نہیں ہوسکتی اس طرح دوسرے حلال جانور قربانی میں ذبح نہیں کیے جاسکتے۔

گائے، بیل، بھینس، بھینسہ کی عمر کم از کم دو سال اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر کم از کم پانچ سال اور باقی جانوروں کی عمر کم از کم ایک سال ہونا ضروری ہے۔ ہاں اگر بھیڑ یا دنبہ سال بھر سے کم کا ہو لیکن موٹا تازہ اتنا ہو کہ سال بھر والے جانوروں میں چھوڑ دیا جائے تو فرق محسوس نہ ہو تو اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے بشرطیکہ چھ مہینے سے کم کا نہ ہوا۔چونکہ قربانی کا جانور بارگاہِ خداوندی میں پیش کیا جاتا ہے اس لئے جانور خوب عمدہ موٹا تازہ ، صحیح سالم، عیبوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ حضور اقدسﷺنے ہمیں حکم دیا کہ قربانی کے جانور کے آنکھ، کان خوب اچھی طرح دیکھ لیں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان چرا ہوا ہو یا جس کے کان میں سوراخ ہو اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدسﷺسے پوچھا گیا کہ قربانی میں کن کن جانوروں سے پرہیز کیا جائے۔ آپ ؐ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ چار طرح کے جانوروں سے پرہیز کرو (۱) ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔ (۲) ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ (۳) ایسا بیمار جانور جس کا مرض ظاہر ہو (۴) ایسا دُبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔

قربانی کا وقت بقرہ عید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارھویں تاریخ کی شام تک کا ہے۔ اس دوران جس دن چاہے قربانی کرے لیکن قربانی کرنے کا سب سے افضل دن بقرہ عید کا پہلا دن ہے پھر گیارہویں تاریخ پھر بارھویں تاریخ۔ بقرہ عید کی نماز ہونے سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے نماز عید پڑھنے کے بعدقربانی کریں۔دسویں سے بارھویں تک دن یا رات جب چاہے قربانی کریں۔ البتہ رات کو ذبح کرنا بہتر نہیں کہ شاید کوئی رگ نہ کٹے اور قربانی نہ ہو اگر خوب زیادہ روشنی ہوتو رات کو قربانی کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔

قربانی ہر عاقل و بالغ، آزاد ، مقیم ،مسلمان صاحب نصاب مرد و عورت پر واجب ہے۔ صاحبِ نصاب سے مراد جس پر زکوٰۃ فرض ہو یا جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہو یا اتنی قیمت کا سونا، چاندی ، نقدی مال تجارت، ضرورت سے زائد سامان پڑا اہو اور سب کو جمع کر کے اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو جائے تو اس پر قربانی اور صدقہ فطر واجب ہو جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جس پر زکوٰۃ واجب نہیں اس پر قربانی بھی واجب نہیں یہ بات صحیح نہیں ہے۔

یوں کہنا تو درست ہے کہ جس پر زکوٰۃ فرض ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں کہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں اس پر قربانی بھی واجب نہیں کیونکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر زکوٰۃ فرض نہیں کیونکہ ان کے پاس سونا، چاندی یا مال تجارت یا نقدی نصاب کے بقدر نہیں ہوتی لیکن ضرورت سے زائد بہت سا سامان پڑا ہوتا ہے اگر یہ فاضل سامان ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو قربانی واجب ہو جاتی ہے لیکن زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔

ایک فرق اور بھی ہے  کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا اس وقت فرض ہوتا ہے جب صاحب ِنصاب پرچاند کے اعتبار سے بارہ مہینے یعنی سال گزر جائے اورقربانی واجب ہونے کے لئے قربانی کی تاریخ آنے سے پہلے چوبیس گھنٹے گزرنا بھی ضروری نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس ایک آدھ دن پہلے یا قربانی کے ان تین ایام میںہی ایسا مال آیا جس کے ہونے سے قربانی واجب ہوتی ہے تو اس پر قربانی واجب ہو جائے گی۔ یہ بھی معلوم ہو کہ جو صاحبِ نصاب ہو اس پر قربانی واجب ہے، فرضیت زکوٰۃ اور وجوب قربانی و صدقہ فطر کے بارے میں ہر ایک کی ملکیت علیحدہ علیحدہ دیکھی جائے گی۔ اگر کسی گھر میں باپ، بیٹے، بہو اور بیٹوں کی ماں ہر ایک کی ملکیت میں اتنا مال ہو جس پر قربانی واجب ہوتی ہے تو ہر ایک پر علیحدہ علیحدہ قربانی واجب ہوگی۔ البتہ نابالغ کی طرف سے کسی حال میں قربانی کرنا لازم نہیں۔ عورتوں کے پاس عموما اتنا زیور ہوتا ہے جس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔ اگرچہ وہ بیوہ ہی کیوں نہ ہوں۔

قربانی کا مقصد گوشت کھانا ، دکھلاوا یا ریا کاری نہیں بلکہ ایک شرعی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک جان قربان کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بندہ کی نیت اور اخلاص کو دیکھا جاتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’اللہ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون پہنچتا ہے بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا مجھے یوم الاضحی کو عید کا حکم دیا گیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔‘‘ چنانچہ ہر مسلمان کی بھر پور کوشش ہونی چاہیے کہ عید الاضحی کو سنت نبویؐ کے مطابق گزارے تاکہ عید کے لمحات اجرو ثواب کا ذریعہ بن جائیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ذو الحجہ کا پہلا عشرہ آئے تو تم میں سے جو لوگ قربانی کا ارادہ کریں وہ نہ تو اپنے بال منڈائیں اور نہ ترشوائیں اور نہ ناخن کاٹیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ (جب تک قربانی نہ کرلے) نہ بال منڈائے نہ ترشوائے اور ناخن کٹوائے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن جس میں اللہ کی عبادت کی جائے ذوالحجہ کے عشرہ سے بہتر نہیں ہے ان دونوں میں ایک دن کے روزہ کا ثواب سال بھر کے روزوں کے ثواب کے برابر ہے۔

یوم عرفہ یعنی نویں تاریخ کی فجر کی نماز سے تیرھویں تاریخ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد باآواز بلند ایک مرتبہ یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے ،اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت نماز پڑھنے والے اور اکیلے نماز پڑھنے والے دونوں کے لیے تکبیر پڑھنا واجب ہے۔صاحبین ؓ کے نزدیک مرد و عورت دونوں پر واجب ہے۔ البتہ عورت بلند آواز سے تکبیر نہ کہے آہستہ کہے۔حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں کہ اس تکبیر کا متوسط بلند آواز سے کہنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اس میں غفلت کرتے ہیں، پڑھتے ہی نہیں یا آہستہ پڑھ لیتے ہیں، اس کی اصلاح ضروری ہے۔

عید الاضحی کے دن یہ چیزیں مسنون ہیں:صبح جلدی اٹھنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، عمدہ سے عمدہ کپڑے پہننا جو پاس موجود ہوں، خوشبو لگانا، شرع کے موافق آرائش کرنا، عید گاہ میں جلدی جانا، عید گاہ میں نماز عید کے لیے جانے سے پہلے کوئی چیز نہ کھانا بلکہ نماز کے بعد قربانی کے گوشت میں سے کھانا۔عید گاہ میں نماز پڑھنے کے لیے پیدل جانا، جس راستہ سے جائیں اس کے سوا دوسرے راستے سے واپس آنا ،راستہ میں بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھتے جانا۔عیدالاضحی کی نماز پڑھنا بھی مسنون ہے۔ حضرت خالد بن سعدؓ سے مروی ہے کہ آپؐ کی عادت کریمہ تھی کہ عیدالفطر یوم النحر اور یوم عرفہ میں غسل فرماتے تھے۔

حضور اکرمﷺعید کے دن خوبصورت اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے حضورﷺکبھی سبز و سرخ دھاری دار چادر اوڑھتے تھے یہ چادریمن کی ہوتی تھی جسے بردیمانی کہا جاتا ہے۔ عید کے لیے زیب و زینت کرنا مستحب ہے لیکن لباس مشروع ہو۔

حضورﷺکی عادت کریمہ تھی کہ نماز عید عید گاہ میں ادا فرماتے تھے۔حضور اکرمﷺنماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور جب نماز سے فارغ ہوتے تو کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔

عیدین کے خطبہ میں پہلے تکبیر سے ابتدا کرے۔ اول خطبہ میں نو مرتبہ اللہ اکبر کہے اور دوسرے خطبہ میں سات مرتبہ۔

قربانی کیسے کریں؟

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے ایک ایسا دنبہ لانے کا حکم فرمایا جس کے سر پر سینگ ہوں، وہ سیاہی میں چلتا ہو(یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں) اور سیاہی میں بیٹھتا ہو۔(یعنی پیٹ اور منہ کالا ہو) اور سیاہی میں دیکھتا ہو۔(یعنی آنکھوں کا حلقہ سیاہ ہو) پس ایسا ہی دنبہ آپ کی قربانی کے لیے لایا گیا۔ آپ نے فرمایااے عائشہ چھری لاؤ پھرآپؐ نے فرمایا پتھر پر چھری تیز کر لو اس کے بعد آپؐ نے چھری کو ہاتھ میں لیا دنبہ کو لٹایا اور پھربِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدِ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمدَّ کہہ کر اسے ذبح کردیا۔

حضرت ابویعلی شدادبن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا’’جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو اور تم میں سے کوئی اپنی چھری بھی تیز کرلے تاکہ ذبیحہ کو ذبح کے وقت آرام پہنچے۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دو ابلق سینگوں والے دنبوں کی قربانی کی اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا بسم کہی اور تکبیر پڑھی اور میں نے رسول اللہﷺکو دنبوں کے پہلو پر پاؤں رکھے دیکھا۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دو دنبوں کو ذبح کیا جو سینگدار ابلق اور خصی تھے۔

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا اولادِ آدم نے قربانی کے دن کوئی ایساعمل نہیں کیا جو خدا کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو‘ خون بہانے(قربانی) سے اور قیامت کے دن وہ ذبح کیا ہوا جانور آئے گا اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں کے ساتھ، اور فرمایا کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے ہاں قبول ہوجاتا ہے پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔

کرونا وائرس کے بارے میں تمام مسالک کے جید علماء کرام اور حکومت نے باہمی اتفاق کے ساتھ 20 نکاتی ’’ایس او پیز‘‘ ترتیب دیے اور نہیں متفقہ طور پر پورے ملک میں نافذ العمل کیا گیا۔ مساجدمیں بھی ان کی پابندی کی گئی یہی وجہ ہے کہ مساجد اور نمازیوں کی وجہ سے کورونا کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا جس کا اعتراف خود وزیر اعظم اور حکومتی ادارے کر چکے ہیں۔

قرآن و حدیث میں اور صحابہ کرامؓسے لے کر آج تک احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم اور عمل ملا ہے لہٰذا میری تمام پاکستانیوں اور امت مسلمہ سے گذارش ہے کہ وہ عیدالاضحی کے اجتماعات اور قربانی اور دیگر مواقع پر بھی احتیاطی تدابیر، حفاظتی اقدامات اور سرکاری ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا ’’اَللّٰہُمَّ اِرْفَعْ عَنَّا الْبَلآئَ وَالْوَبآئَ‘ ‘ اور ’’یَاسَلاَمُ سَلِّمْنَا‘ ‘بھی کثرت سے پڑھتے رہیں۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ’’ توکل‘‘ احتیاطی تدابیر کو ترک کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے یعنی کرونا وائرس سے بچاؤکی تمام احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اسباب کو اختیار کرتے ہوئے ’’مسبّب الاساب‘‘ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اللہ رب العزت خصوصی کرم فرماتے ہوئے ہمیں کورونا کی وباء سے محفوظ فرمائیں گے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔