’’کورونا پروف‘‘ آئی پی ایل

سلیم خالق  پير 27 جولائ 2020
نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانے کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر عمل کم ہی ہوتا ہے،

نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانے کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر عمل کم ہی ہوتا ہے،

’’ایشیا کپ ہو گا نہ ورلڈکپ، البتہ کورونا جتنا بھی پھیل جائے آئی پی ایل ضرور منعقد ہو گی، یہ  چار ہزار کروڑ روپے کا معاملہ ہے، پی سی بی خود بھارت کیلیے راہ ہموار کرے گا‘‘

انٹرنیشنل کرکٹ کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے میرے ایک  ’’سینئر دوست‘‘ نے چند ماہ قبل مجھ سے یہ باتیں کیں تو  میرا ان کو یہ جواب تھا کہ ’’ایسا نہیں ہو سکتا احسان مانی اور وسیم خان کبھی ایشیا کپ کی میزبانی ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے‘‘ اس پر انھوں نے کہا کہ ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور‘‘ بات آئی گئی ہو گئی لیکن اب  مجھے ان کی جانب سے ہنسی کے ایموجی والا پیغام ملا تو میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں، ارے ہاں آپ لوگ سینئر دوست کی بات سے کنفیوژ تو نہیں ہو رہے بھئی جب  سینئر کرکٹر یا سینئر صحافی ہو سکتا ہے تو سینئر دوست کیوں نہیں ہو سکتا، ایسے ہی لوگ آپ کو زندگی کے اہم سبق سیکھاتے ہیں۔

ہم لوگوں کی یادداشت کمزور ہے، ذرا اخبارات کی پرانی فائلز چیک کریں، پی سی بی کے چیئرمین اور سی ای او کتنی بار ایشیا کپ کے انعقاد کی بات کر چکے لیکن جب عملی طور پر کچھ کرنے کا وقت آیا تو خاموش ہو گئے، احسان مانی نے کئی بار کہا کہ چھوٹی کرکٹنگ اقوام کیلیے ایشیائی ایونٹ ضروری ہے، اب ایسی ٹیموں کا کیا ہوگا؟ یہ بات سب جانتے ہیں کہ بھارتی ٹیم پاکستان کھیلنے نہیں آئے گی   لہذا ایشیا کپ یو اے ای میں ہوتا، مگر پھر اچانک پاکستان میزبانی سے دستبردار ہوا اور سری لنکا سے تبادلہ کر لیا، یہ اسکرپٹ کا حصہ تھا تاکہ ایونٹ کے التوا پر کہا جائے کہ ہم کیا کریں جب میزبان سری لنکن بورڈ  ہی خاموش ہے۔

آپ کم از کم آواز تو اٹھاتے مگر سب خاموش رہے، حالانکہ آئی پی ایل کے چار ہزار کروڑ روپے سے پاکستان کو ایک روپیہ نہیں ملنا نہ ہی ہمارا کوئی کھلاڑی لیگ میں شریک ہوگا، بھارت نے پیسے کے بل پر آئی سی سی سمیت دنیائے کرکٹ کو اپنے بس میں کیا ہوا ہے، آسٹریلوی،انگلش، کیوی اور جنوبی افریقی کھلاڑی کہیں پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو نہیں جاتے مگر بھارت کے نام پر پالیسی تبدیل ہو جاتی ہے،گوکہ یو اے ای میں حالات بہتر مگر کورونا کا خطرہ تو ابھی دنیا بھر میں موجود ہے،آسٹریلیا میں شیڈول ورلڈکپ ملتوی کر دیا گیا، اس کے اپنے کھلاڑی یہی مطالبہ کر رہے تھے، کسی بورڈ نے فیصلے کی مخالفت نہ کی، سب کو آئی پی ایل سے حصہ ملتا ہے، غیرملکی کھلاڑی پورے سال سے زیادہ بھارتی ایونٹ کے دوران کما لیتے ہیں، سب اپنی لیگز بھی کروا رہے ہیں، اس کی ونڈو بھی چاہیے۔

مستقبل میں اگر صرف ورلڈکپس اور لیگز ہوں تو حیران نہ ہو گا، اب کرکٹ  تفریح نہیں بلکہ پیسے کیلیے ہوتی ہے جو ایسے ایونٹس میں زیادہ آتا ہے،پہلے ایشین بلاک ہوا کرتا تھا اب بھارت خود اکیلا سب پر حاوی ہے، افسوس ہمارا بورڈ کمزور اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتا، پی سی بی اس وقت صرف میڈیا پر زندہ ہے، چیئرمین کو آئی سی سی کا سربراہ بنانے تو کبھی ورلڈکپ کے شیڈول میں تبدیلی میں اپنے کریڈٹ کی خبریں پلانٹ کی جاتی ہیں، افسوس ہم میڈیا والے بھی ٹول بنے ہوئے ہیں، تیارشدہ  پروپیگینڈہ  خبریں اور ویڈیوز چلا کر ان کو ہیرو بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حال ہی میں وسیم خان کا ایک  ایسا ہی انٹرویو دیکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ’’ٹیم کو کرکٹ کے آغازکیلیے انگلینڈ بھیجا اور کوئی مقصد نہ تھا، کوئی ویسٹ انڈیز سے کیوں نہیں پوچھتا کہ اس کی ٹیم کیوں گئی‘‘ جناب انھوں نے انگلش بورڈ سے بھاری ’’لون‘‘ لیا ہے  اور ہم کیوں ان سے پوچھیں ہم تو پی سی بی سے ہی پوچھ سکتے ہیں، مگر ’’واٹس ایپ جرنلزم‘‘ سے ہٹ کر سوال کرنے والوں کو آپ قریب نہیں پھٹکنے دیتے، احسان مانی  غیرملکی خصوصاً بھارتی میڈیا کو ہرچند روز بعد انٹرویو دیتے دکھائی دیتے ہیں، پاکستانی میڈیا سے وہ دور ہیں، ان کی باتیں بھی مضحکہ خیز ہوتی ہیں، جیسے حال ہی میں انھوں نے فرمایا کہ ’’ہم فرسٹ کلاس کرکٹ میں غیرملکی کرکٹرز کو کھلانا چاہتے ہیں‘‘ یہ بیان پی سی بی نے میڈیا کو بھی تیار کر کے جاری کیا، اب کوئی چیئرمین سے پوچھے کہ جناب پاکستان کے اتنے سارے کرکٹرز کو آپ نے بے روزگار کر دیا، اسپانسرز مل نہیں رہے، ایک ارب سے زائد روپے ڈومیسٹک کرکٹ پر خرچ کر دیے۔

پہلے ان مسائل کو تو حل کریں پھر غیرملکی کرکٹرز کا سوچیں، اسی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کرکٹ کے معاملات میں دخل نہیں دیتے، ساتھ ہی بھی بتایا کہ وہ سیزن میں 8 ٹیمیں رکھنا چاہتے تھے مگر عمران خان نے 6 کا کہا، کاش چیئرمین وزیر اعظم کا منظور نظر نہ ہوا کرتا تو شاید وہ انھیں سمجھانے کی کوشش کرتا کہ جناب آسٹریلیا اور پاکستان کی آبادی میں بہت فرق ہے، ہم ان کو فالو نہیں کر سکتے، یا انگلینڈ میں بھی 18 ٹیمیں ہیں مگر ان کی ٹیم ورلڈ چیمپئن اور ہر طرز میں بہتر کھیل پیش کر رہی ہے، مگر افسوس سب کو اپنی کرسی بچانا ہوتی ہے، چیئرمین کی ’’اعزازی ذمہ داری‘‘کے بے پناہ فوائد کی اسٹوری میں نے چند روز قبل دی تھی، اب کون ایسی پوسٹ کو لات مارے گا۔

ایسے میں بہتری کی امید کیسے رکھیں،البتہ میں اقبال قاسم کو داد دیتا ہوں جنھوں نے کرکٹ کمیٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود حق کی بات کہی، ایسی ہمت سب میں کہاں ہوتی ہے، یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، اب آپ عامر کی ہی مثال دیکھ لیں، اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی وہ حکام کی آنکھ کا تارا ہیں، پہلے کہا کہ انگلینڈ نہیں جا سکتا پھر کہا تیار ہوں تو فوراً بھیج دیا، جو اتنے سارے کھلاڑی وہاں پہلے ہی موجود ہیں ان کا کیا فائدہ، دراصل ٹیم مینجمنٹ بھی ہار سے خوفزدہ ہے، ٹی ٹوئنٹی میں پہلی پوزیشن تو ہاتھ سے گئی کہیں اور پیچھے نہ چلے جائیں، اس لیے حفیظ اور شعیب ملک جیسے سینئرز کے بعد اب عامر کی یاد آ گئی۔

نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانے کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر عمل کم ہی ہوتا ہے، خیر اب انگلینڈ سے سیریز میں چند روز ہی باقی رہ گئے ہیں امید ہے ٹیم اچھا کھیل پیش کرے گی،ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ کاش وسیم خان پاکستان کرکٹ کیلیے بھی ایسی پلاننگ کریں جیسی وہ اپنے مستقبل کیلیے کرتے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔