اسکول کھولنے سے متعلق پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

ثاقب بشیر  پير 27 جولائ 2020
صرف اسکول مالکان نہیں بچوں کی تعلیم کا بھی حرج ہو رہا ہے، جسٹس اطہر من اللہ فوٹو: فائل

صرف اسکول مالکان نہیں بچوں کی تعلیم کا بھی حرج ہو رہا ہے، جسٹس اطہر من اللہ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ اسکول کھولنے سے متعلق پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے اور اس میں عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے پرائیویٹ اسکول مالکان کی طرف اسکول کھولنے کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کورونا کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے چند ماہ سے بند ہیں، اسکولز مالکان کو سخت مسائل کا سامنا ہے لیکن حکومت کو کوئی پرواہ نہیں، ہم نے پیرا اتھارٹی کو درخواست دی لیکن اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے عدالت مداخلت نہیں کرے گی، منتخب حکومت عوام کو جوابدہ ہے حالات دیکھ کر وہی فیصلہ کریں گے، صرف اسکول مالکان نہیں بچوں کی تعلیم کا بھی حرج ہو رہا ہے، یہ کہنا کہ یہ معاملہ حکومت کی نظر میں نہیں درست نہیں۔

چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ انفرادی طور پر نہیں بلکہ ایسوسی ایشن کے ذریعے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کریں،عدالت نےدرخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔