ڈُوم اسکرولنگ: کورونا وبا میں ایک نئی نفسیاتی بیماری

ویب ڈیسک  منگل 28 جولائ 2020
ڈُوم اسکرولنگ میں مبتلا افراد منفی خبریں تلاش کرتے ہیں اور ان میں بیان کی گئی ہر بات کا نفسیاتی اثر قبول کرتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈُوم اسکرولنگ میں مبتلا افراد منفی خبریں تلاش کرتے ہیں اور ان میں بیان کی گئی ہر بات کا نفسیاتی اثر قبول کرتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

نیویارک: نفسیاتی ماہرین نے ناول کورونا (کووِڈ 19) کی عالمی وبا سے وابستہ ایک نئی ذہنی کیفیت سے خبردار کرتے ہوئے اسے ’’ڈُوم اسکرولنگ‘‘ (Doomscrolling) کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اعصابی تناؤ اور ڈپریشن سمیت کئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔

تازہ ترین طبّی لٹریچر میں ڈُوم اسکرولنگ کا مفہوم ’’کورونا وبا کے بارے میں جاننے کےلیے انٹرنیٹ، نیوز میڈیا اور سوشل میڈیا وغیرہ کا بار بار اور حد سے زیادہ استعمال کرنا؛ اور منفی تاثر رکھنے والی خبروں پر توجہ دینا‘‘ بیان کیا گیا ہے جو دراصل عالمی کورونا وبا کے خوف اور مسلسل گھروں میں بند رہنے کا نتیجہ ہے۔

’’لوگوں کو اس عالمی وبا کی تازہ ترین صورتِ حال سے واقف رکھنے کےلیے دنیا بھر میں خبروں کے بیشتر بڑے ذرائع کووِڈ 19 کے بارے میں معلومات و اطلاعات مفت میں فراہم کررہے ہیں، جن تک کہیں سے بھی بہ آسانی رسائی حاصل کی جاسکتی ہے،‘‘ ایریان لنگ نے ’’ہیلتھ لائن‘‘ سے گفتگو میں کہا، جو نیویارک یونیورسٹی، لینگون ہیلتھ کے سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

’’اگرچہ اس طرح کووِڈ 19 کے بارے میں تازہ ترین معلومات تک رسائی بہت آسان ہوگئی ہے لیکن اسی بناء پر میڈیا میں خوفناک اور دل دہلانے والی سرخیاں بھی بہت زیادہ ہوگئی ہیں،‘‘ انہوں نے واضح کیا۔

نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی کورونا وبا کی بدلتی صورتِ حال سے باخبر رہنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جو ڈُوم اسکرولنگ میں مبتلا افراد اس کیفیت کا کچھ زیادہ ہی شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی نظریں ہر وقت منفی خبروں کی تلاش میں رہتی ہیں جنہیں وہ توجہ سے پڑھتے ہیں اور ان کے الفاظ سے لے کر اندازِ بیان تک، ہر چیز کا نفسیاتی اثر قبول کرتے ہیں۔

یہی بات انہیں اعصابی تناؤ، ڈپریشن، مایوسی اور ناامیدی میں مبتلا کردیتی ہے جس سے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔