نیب مجرمان سزا معطل ہونے کے بعد عہدے پربحال نہیں ہوسکتے، سپریم کورٹ

ویب ڈیسک  پير 27 جولائ 2020

 سزا معطل ہونے سے جرم ختم نہیں ہوتا، جسٹس اعجاز الاحسن: فوٹو: فائل

 سزا معطل ہونے سے جرم ختم نہیں ہوتا، جسٹس اعجاز الاحسن: فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب کے سزا یافتہ سرکاری افسرکی ملازمت پربحالی کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب کے سزایافتہ سرکاری افسرکی ملازمت پربحالی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے کہا کہ طاہرعتیق صدیقی ٹیلی فون انڈسٹریزمیں ڈپٹی جنرل منیجرتھا، غیرقانونی ٹھیکہ دینے کے الزام میں پانچ سال قید بامشقت اورپچاس لاکھ جرمانہ ہوا، طاہرعتیق کوسزا ہونے پرمحکمے نے برطرف کیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم طاہرعتیق کی بحالی کا حکم دیا تھا جب کہ قانون کے مطابق سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم دس سال عوامی عہدے کیلئے نااہل رہتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سزا معطل ہونے سے جرم ختم نہیں ہوتا، اپیل میں بری ہونے تک سرکاری وعوامی عہدے پربحالی نہیں ہوسکتی، نیب مجرمان سزا معطل ہونے پرعہدے پربحال نہیں ہوسکتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔