بکرا: ریڈی میڈ

منصور ریاض  بدھ 29 جولائ 2020
قربانی کے جانور لانے، دکھانے اور اپنے گھروں کی دہلیز پر ذبح کرنے کی روایت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی آئی ہے۔ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین گریب)

قربانی کے جانور لانے، دکھانے اور اپنے گھروں کی دہلیز پر ذبح کرنے کی روایت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی آئی ہے۔ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین گریب)

منڈی جانے کی جھک نہ قیمتوں کے بھاؤ تاؤ اور تلاشِ، قصائی کی لمبی چوڑی پخ، کورونا کا خوف نہ کھال ’کھینچنے‘ والوں کا ڈر۔ تیار شدہ بکرا آپ کی دہلیز پر۔

اِس ترقی کرتے ’بکرا سیلون‘ کا کاروبار پاکستان میں بھی تیزی سے پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ خاص کر کورونا وائرس کی صورتحال، خوف اور حکومتی پابندیوں کے باوصف ’آٹومیٹک‘ قربانی بھی اِس بار خاصی اِن ہے۔

عید قرباں کے ساتھ مزاحیہ تراکیب اور ’بکرا اصطلاحات ‘ بھی زبانِ زدِعام ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے ہی ایک جدید اصطلاح آن لا ئن بکرا ہے۔ اب تک آن لا ئن بکرے کی اصطلاح ضرورت سے زیادہ مزاح کے طور پر استعمال ہوئی ہے، جس کے بارے میں عام تصور یہی تھا کہ بس زیادہ سے زیادہ سالم زندہ بکرا آپ کے گھر تک عید سے پیشتر پہنچ جائے گا۔

باہر کے ممالک خاص کر ترقی یافتہ اور غیر مسلم ملکوں میں بسنے والے مسلمان قربانی بکنگ کے ذریعے کرتے ہیں، یعنی قربانی کے پیسے ٹرانسفر اور عید پر تیار شدہ گوشت گھر پر ڈیلیور ہوجاتا ہے۔ اِس کے برعکس ہمارے جیسے معاشرے میں ’بوٹی پایا‘ بکرا ملنے کا تصور بھی نہیں تھا جہاں قربانی اپنے سامنے کروانا مذہبی کے علاوہ معاشرتی فریضہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ جانور لانے سے قربانی تک، سنت ابراہیمیؑ کی ادائیگی کے ساتھ ایک کلچر اور خاص رونق بھی وابستہ ہے۔

عید کے موقع پر مزے کرنا، خوشی کرنا اور حدود میں رہتے ہوئے معاشرتی رواج کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا، سب اچھی باتیں ہیں۔ عید کا موقع ہی خوشی اور رونق کا ہے۔ مسئلہ تب آتا ہے جب قربانی کے جانوروں کو بطور نمائش پیش کیا جاتا ہے۔ قربانی اور نمائش ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں نمائش ہوگی، وہاں قربانی نہیں ہوگی؛ اور جہاں قربانی مقصد ہے، وہاں نمائش کا کیا کام۔

کسی قدر علماء، میڈیا اور معلومات کی بدولت دکھاوا پہلے کے مقابلے میں کم ضرور ہوا ہے، لیکن نمائش کلچر اس قدر پختہ ہوچکا ہے کہ اِن دنوں بکرا، گائے آتے ہی ’’کتنے کا ہے، کتنے میں لے آئے‘‘ جیسی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ قیمتوں کے تبادلہ خیال کا ایک مقصد منڈی میں ’لُٹنے‘ سے بچنا بھی ہوتا ہے۔ مطلب نظام ہی ایسا ہے جس سے بچ نکلنا ناممکن تو نہیں لیکن خاصا مشکل ضرور ہے۔ دکھاوے اور قیمت کھیل سے بچنے کےلیے یا تو آپ پوش علاقے سے ہوں، لوگوں سے الگ تھلگ رہیے یا بکرے کو ہی چُھپا کر ’میوٹ‘ کردیجیے۔

اِس سال ریڈی میڈ قربانی نہ صرف کورونا وائرس سے بچاؤ کا ذریعہ ہے بلکہ منڈی سے لے کر قصائی تک کی خواری کے علاوہ نمائش کلچرکو بھی کم یا ختم کر سکتی ہے۔ عیدالفطر پر ’ہٹو بچو‘ نے کورونا وائرس کے ریٹ کو کئی گنا بڑھا دیا تھا، اس لیے اس بار اس سے بچنے کےلیے وزیراعظم کی طرف سے عید سادگی سے منانے کا کہا گیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے ساتھ چھوٹی منڈیوں کا حکم ہے۔

اس کے بجائے کہیں بہتر ہوتا کہ حکومت اس حوالے سے مربوط پالیسی اپناتی جس میں آن لائن قربانی کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی اور ان کمپنیوں پر فراڈ کے حوالے سے بھی خصوصی نظر رکھی جاتی۔

وزیر اعظم صاحب نے قوم سے ’’سادہ عید‘‘ منانے کا کہا ہے۔ اب یہ سادہ کا کیا مطلب ہے؟ یہ تو حکومت ہی بہتر بتاسکتی ہے۔ اس سے تو بہتر ہوتا کہ حکومت کی طرف سے عید بھرپور طریقے سے منانے کی ترغیب دی جاتی کیونکہ اب قربانی جتنی زیادہ ہوگی، معیشت شہروں سے دیہاتوں کی طرف پھیلے گی اور غریبوں اور ناداروں کی مدد ہوگی۔

ان حالات میں عیدالاضحی ایک قدرتی تحفہ ہے جسے درست استعمال میں لاکر غریبوں اور ناداروں کےلیے ایک مربوط پالیسی بنائی جاسکتی تھی، لیکن احتیاطی تدابیر کے ساتھ۔ عید سادگی کے بجائے احتیاط کا نعرہ اور جدید حکمت عملی ہونی چاہیے تھی۔ جو کام عیدالفطر پر کرنے کا تھا وہ کیا نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیڈر کو لوگوں کے معمولات کا کم ہی علم ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ وہ لیڈر ہی کیا جو لوگوں سے بالا اور ’خاص‘ نہ ہو۔

قربانی کے جانور لانے، دکھانے اور اپنے گھروں کی دہلیز پر ذبح کرنے کی روایت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی آئی ہے۔ ہاں، پوش علاقوں اور جدید ٹیکنالوجی کی نسل میں وہ شوق نہیں رہا۔ اس لیے ریڈی میڈ بکروں اور گایوں کا رحجان کورونا کی صورتحال کے علاوہ بھی پھیلنے کا امکان ہے۔ لیکن ابھی تک تو غربت اور ترقی کی کم رفتار نے رونق لگائی ہوئی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

منصور ریاض

منصور ریاض

بلاگر اردو میں تھوڑا لکھتے اور انگریزی میں زیادہ پڑھتے (پڑتے) ہیں، پڑھا لکھا صرف ٹیکنالوجی جاننے والوں کو سمجھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔