پارک لین ریفرنس؛ نیشنل بینک کے 2 سابق صدور آصف زرداری کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے

ویب ڈیسک  بدھ 29 جولائ 2020
 آصف زرداری نے بطور صدر انور مجید اور عبدالغنی مجید کو بینک حکام  سے ملایا تھا، سید علی رضا 

 آصف زرداری نے بطور صدر انور مجید اور عبدالغنی مجید کو بینک حکام  سے ملایا تھا، سید علی رضا 

 اسلام آباد: پارک لین ریفرنس میں نیشنل بینک کے 2 سابق صدور آصف زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے پارک لین ریفرنس میں عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی درخواست پر سماعت کی۔

سابق صدر نیشنل بینک سید علی رضا زرداری اور سید قمر حسین نیب کے وعدہ معاف گواہ بن گئے جب کہ نیب نے دونوں وعدہ معاف گواہان کو قانون کے مطابق گواہی دینے پر معاف کر دیا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے آصف علی زرداری کیخلاف پارک لین ریفرنس میں 61 گواہان تیار کر لئے ہیں، پارک لین اور پارتھینون زرداری کی ہی فرنٹ کمپنیاں تھیں ، ایس ای سی پی حکام بھی گواہی دیں گے، نیشنل بینک کریڈٹ کمیٹی کے تمام افسران بھی آصف زرداری کے خلاف گواہان میں شامل ہیں، تمام 61 گواہان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ بیانات نیب کے پاس موجود ہے، تمام گواہان فرد جرم عائد ہونے کے بعد عدالت میں بھی پیش کئے جائیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شواہد اکٹھے کرنے والے نیب راولپنڈی کی تفتیشی ٹیم کے 9 افسران بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہیں، جعلی اکاؤنٹس کی ابتدائی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے محمد علی ابڑو بھی گواہ ہوں گے، قرض لینے والی مبینہ فرنٹ کمپنی پارتھینون کے کمپیوٹر آپریٹر کی گواہی بھی شواہد کا حصہ ہے۔

پارک لین کی مبینہ فرنٹ کمپنی پارتھینون کو قرض جاری ہوتے وقت سید علی رضا نیشنل بینک کے صدر تھے، قرض جاری کرنے والے کمیٹی کے سربراہ قمر حسین بھی بعد میں نیشنل بینک کے صدر بنے، نیب نے عدالت کو بتایا کہ سید علی رضا کو ان کی اپنی درخواست پر وعدہ معاف گواہ بنا دیا گیا ہے۔

نیب نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں کہا ہے کہ آصف زرداری نے بینک آفیشلز کو بتایا کہ میرے پیغامات انور مجید اور عبدالغنی مجید پہنچائیں گے، آصف زرداری کے دباؤ پر ہی قرض کی رقوم جاری کی جاتی رہیں جو جعلی اکاؤنٹس میں گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ فرنٹ کمپنیاں پارک لین اور پارتھینون  یونس قدوائی نے بطور فرنٹ مین چلائیں، قرض اور  کِک بیکس کی رقوم یونس قدوائی نے ہی جعلی اکاؤنٹس میں ڈالیں، یونس قدوائی کے دفتر پر چھاپے کے دوران ملی اے ون انٹرنیشنل نامی جعلی اکاؤنٹس کی مہریں بھی شواہد میں شامل ہیں۔

سید علی رضا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آصف زرداری نے بطور صدر پاکستان انور مجید اور عبدالغنی مجید کو بینک حکام  سے ملایا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔