جرمنی کا اوورسیز پاکستانیوں کو 58 کروڑ روپے کی تکنیکی معاونت دینے کا اعلان

اسٹاف رپورٹر  بدھ 29 جولائ 2020
جرمن کمپنی اور وزارت اوورسیز پاکستانی کے درمیانی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کا منظر (فوٹو : ٹویٹر)

جرمن کمپنی اور وزارت اوورسیز پاکستانی کے درمیانی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کا منظر (فوٹو : ٹویٹر)

 اسلام آباد: جرمن کمپنی مختلف تکنیکی شعبہ جات میں پاکستان کو 30 لاکھ یورو مالیت کی معاونت فراہم کرے گی، حکومت اور جرمن کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔

وزارت اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام پاکستانی ورکرز کی بہتری کے لیے پاکستان اور جرمن ادارے کے درمیان تکنیکی معاونت کی غرض سے ایم او یو سائن کیا گیا۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیز ذلفی بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی باشندے جرمنی کے دیے گئے تین ملین یوروز کی امداد سے چھوٹے کاروبار شروع کرسکیں گے، جرمنی کی جانب سے 58 کروڑ 86 لاکھ روپے تکنیکی ٹریننگز دینے اور کاروبار میں آسانی کے لیے استعمال ہوں گے۔

زلفی بخاری نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملازمتیں کھونے والے پاکستانی کی دوبارہ بحالی کی جائے گی اس رقم سے بیرون ملک سے آنے والوں کو بینکس سے چھوٹے کاروباری قرضے بھی فراہم کیے جائیں گے جو لوگ ساری زندگی بیرون ملک کام کر کے واپس آتے ہیں انہیں معاشرے میں کام کے مواقع فراہم کرنے لیے یہ اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے سے نوجوانوں کی مائیکرو فائنانسنگ کی جا سکے گی، یہ معاہدہ بہت پہلے ہوجاتا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا، پاکستانیوں کی بحالی کے لیے یہ معاہدہ انتہائی اہم ہے، یہ معاہدہ ان پاکستانیوں کی دوبارہ بحالی میں مدد دے گا، اس معاہدے سے پاکستانی چھوٹے کاروبار شروع کرسکیں گے۔

انہوں نے یو اے ای کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کا دورہ کامیاب تھا، غدزاداری فیملی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اپنے خطاب میں جرمن سفیر نے کہا کہ جرمنی پاکستانیوں کو دوبارہ ملازمتوں کے حصول میں مدد فراہم کرے گا، معاہدے کے تحت اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کو ٹیکنیکل معاونت دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ میں جرمنی مدد کرے گا، پاکستانی نوجوانوں کو ہوٹلنگ اور سیاحت کے شعبے میں تربیت دی جائے گی، پاکستانیوں کو جرمن زبان کا کورس کروایا جائے گا اوراس معاہدے سے پاکستانی جاب مارکیٹ کو فروغ ملے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔