عید قربان… کانگو وائرس سے احتیاط ضروری ہے

ڈاکٹر ملک آصف رحیم چنڑ  اتوار 2 اگست 2020
 چیچڑ سے جانور اور انسان میں منتقل ہونے والا وائرس ایک خاموش قاتل ہے۔ فوٹو: فائل

 چیچڑ سے جانور اور انسان میں منتقل ہونے والا وائرس ایک خاموش قاتل ہے۔ فوٹو: فائل

امسال عید قرباں اس وقت آ رہی ہے کہ جب کرونا وائرس ایک سنگین عالمی مسئلہ کے طورپر موجود ہے۔ اس موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں رش میں اضافہ کے باعث ہونے والے ممکنہ نقصان سے بچنے کے لئے ایک مکمل اور جامع تحریر قارئین کی نظر کی جارہی ہے۔

کرونا اور کانگو بخار دونوں ایک وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں، یہ آر این اے وائرس ہے، جو خاموشی اور انتہائی تیزی کے ساتھ انسان سے جانور اور جانور سے انسان کو منتقل ہو جاتا ہے۔کانگو کریمین خونی بخار ایک جانوروں کی بیماری ہے، جو ایک مخصوص قسم کے وائرس سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک چیچڑ کے ذریعے جانوروں میں ،جانوروں سے انسانوں میں اور ایک متاثرہ انسان سے ایک صحت مند انسان میں منتقل ہوتی ہے۔ بارہویں صدی عیسوی میں قرون وسطی میں ایک مسلمان سانسدان نے پہلی مرتبہ قازکستان میں چند مریضوں میں اس بیماری کی علامات نوٹ کیں جو کہ کانگو بخار سے ملتی جلتی تھیں۔

موجودہ ترقی کے دور میں پہلی مرتبہ یہ بیماری 1944ء عالمی منظر پر نمودار ہوئی۔ یہ بیماری سابق سویت یونین کے علاقہ کریمیا میںمنظر عام پر آئی، جس سے سابق سویت یونین کے تقریباً دو سو فوجی متاثر ہوئے۔ علاقے کی وجہ سے اس کا نام کریمین کانگو یا خونی بخار پڑ گیا۔ اس کے علاوہ اس کو خو نی بخار اس لئے کہتے ہیں کہ اس بیمار ی میں جسم میں خو ن جمانے والے خلیے (پلیٹلیٹس)کی تعداد تیزی سے کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے خو ن میں جمنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور جسم کے مختلف حصوں مثلاً نا ک ، منہ ، پیشاب ،پاخانے کے رستے خو ن بہنا شروع ہو جا تا ہے۔کانگو بخار اس وقت دنیا میں براعظم افریقہ ، ایشیا، مشرق وسطی ور یورپ میں پایا جاتا ہے۔

یہ بیماری جراثیم سے متاثرہ چیچڑ، متاثرہ جانور اور متاثرہ انسان کے سائیکل کے ذریعے پھیلتا ہے۔جب ایک صحتمند چیچڑ ایک کانگو بخار سے متاثرہ جانور کو چمٹتا ہے تو یہ جراثیم چیچڑ میں منتقل ہوجاتا ہے اور جب یہ متاثرہ چیچڑ صحت مند انسان یا صحتمند جانور کو چمٹتا ہے تو جراثیم انسانوں اور جانوروں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بڑی دلچسپی کی حامل ہے کہ کانگو کا جرثومہ جانور کے اندر داخل تو ہوتا ہے مگر متاثرہ جانور میں اس کی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ صرف ایک ہفتہ کے لئے بیمار جانور کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے یعنی بخار ہو جاتا ہے۔ یہ بیمار جانور انسان کے لئے اور صحتمند دوسرے جانوروں اور صحتمند چیچڑ کے لئے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

یہ بیماری اونٹ، گائے ، بھینس ، بکری ، شتر مرغ، بھیڑسمیت تمام جانوروں میں پائی جاتی ۔البتہ پا لتو جانور کتے ، بلی ، خر گوش وغیرہ اس سے زیادہ متا ثر نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ پرندے مثلاً طوطا، کوا، چڑیا وغیرہ بھی اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ وائرس انسانوں میں متاثرہ چیچڑ کے کا ٹنے سے یا متا ثرہ جا نور کے خون سے یا متاثرہ مر یض کے خون سے، سر جیکل آلات، مثلاً متا ثرہ مر یض کی استعمال شدہ سر نج ، بلیڈ وغیرہ سے دوسرے انسان کو منتقل ہوتا ہے۔

لہذا ریسکیو 1122، محکمہ لا ئیو سٹاک ، محکمہ صحت اور محکمہ زراعت تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ملازمین انتہائی رسک پر ہیں ۔ اس کے علا وہ جانوروں کے بیوپاری، قصائی اور مذبح خانے میںکام کرنے والے افراد اور مویشی پال حضرات ، فارم ہاؤسز سے وابستہ افراد ، گوالے براہِ راست اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

چیچڑ کے انسا ن کو کاٹنے سے کو ئی تکلیف نہیں ہوتی، عموماً وائرس کے انسانی جسم میں داخلے کے تین سے نو روز کے اندر اندر  تیز بخار ، سر میں درد ، جسم اور پٹھو ں میں درد، آنکھو ں میں درد ، پیٹ میں درد ، متلی کی کیفیت پیدا ہونے کے ساتھ چند علامات جن میں جسم پر سُرخ رنگ کے دھبے بن جانا ، جلد پر نیل بن جانا، پیشاب، پاخانے کے رستے خون بہنا یا خون کی آمیزش ہو نا، ناک منہ سے خو ن کا بہنا ،خواتین میں غیر معمولی ماہواری یا زنانہ رستے سے خون کا بہنا، آنکھوں کا سرُخ مائل ہونا یا خون کا جمنا ، غنودگی، مسوڑھوں سے خو ن آنا ایسی علا ما ت ہیں جن کی بنیا د پر اس بیمار ی کا شک کیا جا سکتا ہے۔

قصائی گھر جانے سے پہلے سر ، پاؤں ، ہا تھ اچھی طرح دھو لیں اور خون سے آلودہ کپڑے تبدیل کریں۔ بند جوتے استعمال کریں ،پوری استین کے کپڑے پہنیں، قصابوں، گلہ بان ، بیوپاری اور مویشی پال حضرات میں یہ چیچڑ ان کے بالوں، گردن کے پچھلے حصے(گدی) اور پاؤں کی اُنگلیوں کے درمیانی جگہوں پر پائے جا سکتے ہیں۔

عید کے دنوں میں منڈی جانے اور آنے والے لو گو ں کو ہلکے رنگ کے کپٹر ے پہننا چاہیں تاکہ چیچڑ کی موجودگی آسانی سے دیکھی جا سکے کیونکہ گہر ے رنگ کے کپڑ ے میں چیچڑ نظر نہیں آتے ۔ کانگو بخار قابلِ علا ج مگر خطر ناک بیماری ہے، جس کی شر ح اموا ت 30–50فیصد ہے۔ اس کے لئے مخصوص دوائی Ribazole جو کہ ما رکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہے۔ یہ دوائی حالت کے مطابق دی جا تی ہے۔

اس کے علاوہ متاثرہ مر یض کو انتہائی نگہداشت میں رکھا جانا چاہیے اور خون میں خلیوں کی کمی پلیٹ لیٹس جمنے والے خلیے دینے چاہیں جو کہ خون عطیہ کرنے والے افرا دپورے خو ن کے بجائے صرف مخصو ص پلیٹ لیٹس بھی دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسم کے درد، بخار و اُلٹی کی دوائی اور صدمے کا علا ج آئی سی یو کے پرٹوکول کے مطابق کیا جاتا ہے۔ عموما مریض 10سے 12 روز میں تندرست ہونا شر و ع ہو جاتا ہے۔ اور اگر بر وقت علا ج نہ کیا جائے تو دوسرے ہی ہفتے مریض کی مو ت واقع ہوسکتی ہے۔ یہ مختصر دورانیے کی خطرناک بیماری ہے۔

مذکورہ بیماری کی پاکستان میں تشخیص بڑی آ سا نی سے کی جا سکتی ہے۔ جراثیم کو انسانی خون میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں جمنے والے خلیوں میں نمایاں کمی اور جسم میں جراثیم کے خلاف اینٹی باڈیز مخصو ص IGg اور IGmکی مو جو دگی کے ذریعے اس بیماری کی سو فیصد تشخیص ممکن ہے۔ یہ بیماری صرف موسمِ بہار سے خزاں کے دوران ہی پھیلتی ہے۔

اس کا زیا دہ پھیلاؤ گر می کے مو سم میں ہو تا ہے۔ موجو دہ سیلابی صورتِ حال کے پیشِ نظر جانو ر اور انسان اکٹھے رہنے پر مجبور ہیں اور چیچڑ جانور وں کے ساتھ چمٹے ہوتے ہیں۔ لہذا ان دنوں اس کے پھیلاؤ کے خطر ات بڑ ھ گئے ہیں۔ کانگو وائرس ایک مہلک جراثیم ہے اور اس جراثیم سے پیدا ہونے والی بیماری کی شرح اموت بہت بلند ہے اورساتھ ساتھ دورانیہ بھی تقریباً دو ہفتے ہے اس لیے اس کو دہشتگردی کے طو ر پر استعمال کیاجا سکتاہے۔اگر چہ کہ اس جراثیم کی گروتھ لیبارٹر ی میں اتنی تیزی اور ذیادہ تعدا میں نہیں کی جا سکتی اس وجہ سے یہ کیٹاگری C میں شمار کیا جاتا ہے، اس جراثیم کو فضا میں پھیلایا جا سکتا ہے۔ اور بذریعہ سانس انسان اور جانور اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ با ت بھی توجہ طلب ہے کہ اگر ایک چیچڑ اس بیمار ی سے متاثر ہو تا ہے تو وہ زندگی بھر اس وائرس سے متاثر رہتا ہے اور یہ بیماری چیچڑ کو بیمار نہیں کرتی بلکہ یہ جراثیم چیچڑ کے انڈوں میں منتقل ہوتا ہے اور اس طر ح ورا ثتی طور پر یہ جراثیم ایک چیچڑ سے دوسرے چیچڑ میں منتقل ہو تی ہے۔ اس بیماری کامرکزی کردار چیچڑ ہے جو اس بیماری کو ایک جگہ سے دوسر ی جگہ انسا ن سے انسان ،بیمار جا نو روں سے دوسرے جا نوروں کو منتقل کر تا ہے۔

یعنی چیچڑ بطو رِ سواری استعمال ہو تا ہے۔ لہذا چیچڑ کو مار نے کے لئے اور اسکی افزائش کو روکنے کے لئے چیچڑ مار سپر ے محکمہ زراعت ، لائیو سٹاک، ٹی ایم اے  کو آگے آنا چا ہیے۔ جا نوروں کے جسم کا معا ئنہ کر نا چاہیے اور جانوروں کو چمٹے ہوئے چیچڑوں کو الگ کر نا چاہیے۔ جانوروں کی منڈیوں، مذبح خانے میں بھی چیچڑ مار سپر ے لا زمی طور پر کر انے چا ہیے۔ جانوروں کے باڑوں کو پکا اور مضبوط بنانا چاہیے اور دیواروں میں موجود دراڑوںکو جو کہ چیچڑ کی افزائش کی جگہ ہو سکتی ہے کو مستقل طور پر بند کر دینا چاہیے۔ جا نوروں کے گوبر فضلہ کو مناسب طریقوں سے ٹھکا نے لگا یا جائے۔

یہا ں یہ ابہا م بھی دور ہونا چا ہیے کہ ہر قسم کے جانوروں کی قربانی کی جا سکتی ہے۔ اور ہر قسم کا جانور قربانی کے لئے مناسب ہے جس میں اونٹ ، گا ئے ، بیل ، بکر ی ، دنبہ، بھیڑ وغیرہ شامل ہیں البتہ اس چیز کی احتیاط ضر ورکی جا ئے کہ جا نور کے جسم پر کوئی چیچڑ موجود نہ ہو اور جانور میں چیچڑ ما ر سپر ے/ ادویات کا استعمال لازمی ہوناچاہیے۔ جانور خریدنے کے لئے منڈی جا یا جا سکتا ہے البتہ منہ پر چڑھانے والے ماسک اور دستانے کا استعمال ضروری کیا جانا چاہیے۔

غیر ضروری طور پر جانور کو چھونے سے اجتناب کر یں اور غیر ضروری طور پر زیادہ وقت منڈ ی میں نہ گزاریں ۔ کھلی چپل نہ پہنیںاور پوری آستین والے کپڑے پہنیں، منڈی سے واپسی پر کپڑ وں کو دھو لیا جائے اور نہا لیا جائے۔ چیچڑ جانور کی گر دن اور کھر وں میں زیادہ طور پر مو جو د ہو تا ہے اور دو جلدوں کے ملا پ کے مقام پر ہو تا ہے لہذا ان جگہوں کا خصو صی طور پر معائنہ کیا جا نا چاہیے۔

قربانی کے جانور کو گھر پر بھی ذبح کیا جا سکتا ہے لیکن خصوصی بتائی گئی احتیاطی تدا بیر کو ملحوظِ خا طر رکھیں۔ قربانی کے جانور کو غیر ضروری طور پر ہاتھ مت لگائیں، دستانے استعمال کریں۔اس مر تبہ عید الا ضحی کے مو قع پر قصا ب کو خصو صی احتیا طی تدا بیر اختیار کر نا چا ہیے ۔ جسم کے کسی حصے پر کٹ یا زخم کو جا نور کے خو ن سے بچا کر رکھیں اسی طرح وہ اہلِ خانہ جو خود گوشت بنانا چا ہتے ہیں وہ بھی یہی احتیاط کریں ۔ اگر خدا نخواستہ جانور کے گوشت میں جر اثیم مو جو د ہو تو گوشت پکایا جا سکتاہے پکانے سے جراثیم سو فیصد مر جاتا ہے۔

بد قسمتی سے اگر متا ثر ہ شخص کی موت واقع ہو جائے تو اہلِ خانہ اپنے جذبا ت پہ قابو پائیں اور صبر اور احتیاطی تدابیر کا دامن ہا تھ سے نہ چھوڑیں۔مردے کے جسم کو نہلانے اور کفن دفن کے دوران احتیاطی تدا بیر اختیار کی جائیں جن میں دستانے اورمنہ پر جڑھانے والے ماسک کا استعمال ضروری ہے۔

راقم الحروف کے مطا بق صحت اور صفائی کے رہنما اصو لوں کو عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ جانوروں کو شہر ی آبا دی سے دور کر دیا جائے، با ڑوںکو پکا بنایا جائے، منڈی مویشیاں ، مذبح خانے کا باقاعدہ طور پر معا ئنہ محکمہ صحت ، لا ئیو سٹا ک ، زراعت ، ضلعی وتحصیل انتظامیہ کے تعاون سے کیا جائے، ان تدابیر کے ذریعے وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔