حجاجِ کرام کی رمی جمار اور قربانی کی ادائیگی

ویب ڈیسک  جمعـء 31 جولائ 2020
کورونا وبا کے پیشِ نظر اس سال حج کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے (تصاویر بشکریہ: وزارتِ حج، سعودی عرب)

کورونا وبا کے پیشِ نظر اس سال حج کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے (تصاویر بشکریہ: وزارتِ حج، سعودی عرب)

مکہ مکرمہ: حجاجِ کرام کی جانب سے رمی جمار اور قربانی کی ادائیگی کا عمل مکمل ہوگیا۔

عرب میڈیا کے مطابق نمازِ فجر کے بعد سے حجاجِ کرام کے قافلے منیٰ میں پہنچنا شروع ہوگئے اور شیطان کو کنکریاں (رمی جمار) ماریں اور قربانی کا عمل مکمل کیا۔ قربانی کے بعد حجاج کرام نے بال منڈوائے یا ترشوائے اور یوں مناسکِ حج مکمل کرنے کے بعد حجاجِ کرام اپنے احرام کھول کر معمول کے لباس میں واپس آگئے۔

سعودی عرب کی وزارت حج نے اس سال حج کرنے والوں کو رمی کے لیے سینیٹائز کی گئی کنکریوں کی تھیلیاں فراہم کیں جبکہ حجاج نے گروپوں کی شکل میں جمرات کی ادائیگی کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے ’’سعودی پریس ایجنسی‘‘ کے مطابق شہری دفاع کے محکمے نے حج کرنے والوں کی امن و سلامتی یقینی بنانے کے لیے منیٰ میں سہولیات میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔

یہ خبریں بھی پڑھیے:

سعودی عرب کے سرکاری اردو اخبار ’’اردو نیوز‘‘ کے مطابق حجاجِ کرام نے مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کے بعد چند گھنٹے آرام کرکے رات کا باقی ماندہ حصہ عبادت میں گزارا جبکہ انہوں نے قربانی کےلیے کوپن پہلے ہی خرید لیے تھے۔ سر کے بال منڈوانے یا ترشوانے کے خصوصی انتظامات منیٰ میں پہلے ہی سے مکمل تھے بعد ازاں حجاج احرام کی پابندی سے آزاد ہوگئے۔

میدان عرفات میں حجاج کی صحت و سلامتی کے لیے حفاظتی تدابیر اور صحت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ مکہ میونسپلٹی کے صفائی کارکنان مشینوں کی مدد سے جمرات کے پل سمیت منیٰ کے تمام علاقوں کی صفائی بھی کر رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔