وزیراعظم سے کارکردگی کا پوچھو تو این آر او کا شورمچانا شروع کردیتے ہیں، احسن اقبال

ویب ڈیسک  جمعـء 31 جولائ 2020
فیٹف کے نام پر ہونے والی چوری پکڑی گئی، حکومت ملک پر کالا قانون مسلط کر رہی تھی، احسن اقبال۔  فوٹو: فائل

فیٹف کے نام پر ہونے والی چوری پکڑی گئی، حکومت ملک پر کالا قانون مسلط کر رہی تھی، احسن اقبال۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے کارکردگی پوچھنے پر کہتے ہیں این آر او نہیں دوں گا، پاکستان کی معیشت کی تباہی پر این آر او کہہ کر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت فیٹف کے نام پر ایک کالا قانون مسلط کررہی تھی، فیٹف قانون میں عوام کے بنیادی حق پرڈاکا ڈالا جارہا تھا، اس قانون کے تحت ہرکوئی 6 ماہ کے لئے اندر ہو سکتا تھا، کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ حکومت کا مخالف کہاں مسنگ پرسن ہوگیا، یہ عوام کو کالے قانون کی رسی میں جکڑنے کا منصوبہ تھا، تاہم فیٹف کے نام پر ہونی والی حکومت کی چوری پکڑی ہے، چوری پکڑی جانے پر حکومت کو تکلیف ہے، ان کی چوری کو عالمی برادری کے سامنے پیش کریں گے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سی پیک میں تھرکول کے لئے فنانسنگ (ن) لیگ کا وژن تھا، ہم نے سڑکوں کا جال پھیلایا جس سے رابطوں کا انقلاب آگیا، اب انڈسٹریل انقلاب آنا تھا، لیکن اس حکومت نے آکر معیشت کو کریش کردیا، عمران خان کی حکومت میں جتنے کاروبار بند ہوئے اتنے دنیا میں کہیں نہیں ہوئے، وزیراعظم سے کارکردگی پوچھنے پر کہتے ہیں این آر او نہیں دوں گا، پاکستان کی معیشت کی تباہی پر این آر او کہہ کر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔

رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ حکومت کا ہر قانون سیاسی مخالفین بالخصوص نواز شریف اور اسحاق ڈارکو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے، وزیراعظم امریکا میں کھڑے ہوکر کہتے ہیں شاہد خاقان کو گرفتارکیا، شاہد خاقان عباسی کے 8 ماہ کون واپس دلائے گا، مجھ  پر ایک وزیر نے50 ارب کمیشن لینے کا الزام لگایا جو آج تک ثابت نہیں کر سکے، مفتاح اسماعیل اور مجھے قید میں رکھا گیا، حکومت کی کردارکشی کی مہم کو برداشت نہیں کریں گے۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔