بیرون ملک کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کو پرانی پالیسی کے تحت تعیناتی کا حکم

ویب ڈیسک  جمعـء 31 جولائ 2020
انٹرویو میں 50 فیصد نمبرز حاصل نہ کرنے والوں کو ناکام تصور نہ کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ

انٹرویو میں 50 فیصد نمبرز حاصل نہ کرنے والوں کو ناکام تصور نہ کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے بیرون ملک کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کو پرانی پالیسی کے تحت تعیناتی کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیرون ملک کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی تعیناتی کے حوالے سے سماعت ہوئی، ضیغم عباس اور دیگر متاثرہ امیدواروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے 10 صفحات پر مشتمل کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2019ء میں وزارت اوورسیز پاکستانیز نے آسامیاں مشتہر کیں، 2016ء کی پالیسی کے مطابق تحریری ٹیسٹ کے 80 فیصد اور انٹرویو کے 20 فیصد نمبرز تھے، پالیسی میں امیدواروں کے لیے انٹرویو میں 50فیصد پاسنگ مارکس کی شرط بھی نہیں تھی۔

فیصلے کے مطابق وزیراعظم نے 10 دسمبر 2019ء کو پالیسی میں ترمیم کی منظوری دی، نئی پالیسی میں ٹیسٹ کے 60 اور انٹرویو کے 40 نمبر رکھ دیے گئے، نئی ترمیمی پالیسی میں انٹرویو میں پاس ہونے کے لیے بھی 50 فیصد نمبرز حاصل کرنے کی شرط رکھی گئی، اسپیشل سلیکشن بورڈ کے سربراہ زلفی بخاری تھے اور بورڈ نے نئی ترمیمی پالیسی کے تحت انٹرویو میں 50 فیصد نمبرز حاصل نہ کرنے والوں کو فیل کر دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ امریکا، انگلینڈ اور یورپ سمیت 12 ممالک میں ویلفیئر اتاشیوں کی تعیناتی 2016ء کی پالیسی کے تحت کی جائے، ترمیمی پالیسی کا اطلاق تعیناتیوں کے لیے پہلے سے شروع کیے گئے سلیکش پراسیس پر نہیں ہو گا، انٹرویو میں 50 فیصد نمبرز حاصل نہ کرنے والوں کو ناکام تصور نہ کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔