بیروت دھماکے سے لرز اٹھا، 78 ہلاک اور4 ہزار سے زائد افراد زخمی

ویب ڈیسک  منگل 4 اگست 2020
دھماکے سے دور تک عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔۔ (فوٹو، رائٹرز)

دھماکے سے دور تک عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔۔ (فوٹو، رائٹرز)

بیروت: لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہولناک دھماکے سے کم از کم 78 ہلاک اور4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ ریڈ کراس نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان کے وزیر صحت حماد حسن نے کہا کہ بیروت میں ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہوا ہے۔ واقعے میں ہلاکتیں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں۔ اس وقت شہر کے تمام اسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے کے قریب  بیروت کی بندرگاہ  کے علاقے میں ہولناک دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں گردو نواح کے علاقے  لرز گئے اور شہر کے مختلف علاقوں کی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق تباہ ہونے والی عمارتوں میں لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری کا گھر بھی شامل ہے تاہم سعد حریری محفوظ ہیں۔

مقامی خبرایجنسی کے مطابق دھماکا ایک ایسے گودام میں ہوا ہے جہاں ضبط کیا گیا دھماکا خیز مواد رکھا گیا تھا۔ لبنان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گودام میں  سال قبل ایک بحری جہاز سے ضبط کیا گیا سوڈیم نائٹریٹ رکھا گیا تھا اور اسے ضایع کیا جانا تھا۔ دھماکے کی  آواز کئی کلومیٹر دور تک سنائی دی گئی اور  دور تک عمارتیں اس کی شدت سے لرز گئیں۔

 

اس سے قبل لبنان کے وزیر صحت حماد حسن نے دھماکے میں سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ علاوہ ازیں دھماکے کے مقام کی قریبی عمارتوں سے  لی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دھماکے کی شدت کے باعث ہونے والی تباہی اور گردو ونواح میں پھیلنے والا دھواں دیکھا جاسکتا ہے۔ اب تک بیروت میں ہونے والے سے دھماکے سے 78 ہلاکتیں اور4 ہزار سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے تاہم لبنانی ریڈ کراس نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق دھماکے کی تباہ کاری کا دائرہ بیروت شہر میں بہت بڑے دائرے تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنے گھر سے محروم ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ لبنان کے وزیر اعظم حسن دیاب نے بدھ کو ملک میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔