امریکا میں پاکستانی شہری کا کورونا کیخلاف جنگ میں مستحسن کردار

ثاقب ورک  بدھ 5 اگست 2020
یاسر مشتاق نے کمپنی انتظامیہ سے بین الاقوامی سپلائرز سے آرڈر منگوانے کیلیے بات چیت کی اجازت لی۔ فوٹو : فائل

یاسر مشتاق نے کمپنی انتظامیہ سے بین الاقوامی سپلائرز سے آرڈر منگوانے کیلیے بات چیت کی اجازت لی۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  3سال قبل امریکا پہنچنے والے پاکستانی شہری یاسر مشتاق نے کورونا کیخلاف جنگ میں حصہ ڈالتے ہوئے مستحسن کردار ادا کیا۔

یاسر مشتاق اپنی اہلیہ اور 3بچوں کیساتھ ایم بی اے کی ڈگری اور معاشیات میں 15سال کا وسیع تجربہ لیے امریکا منتقل ہوئے۔ یاسرمشتاق کا مسلمان ہونا ان کا پہلا چیلنج ٹھہرا۔کورونا وبا کے دوران حفاظتی آلات کی ضرورت مقامی سپلائرز پوری کرنے سے قاصر تھے اور ان کی قیمت بھی بہت بڑھ چکی تھی۔ ایسے میں یاسر مشتاق حالات کی نزاکت کو بھانپتے پرسنل پروٹیکٹو آلات خریدنے کا فیصلہ کیا۔

یاسر مشتاق کی کمپنی نے اس سے پہلے کبھی براہ راست درآمد نہیں کی تھی، یاسر مشتاق نے کمپنی انتظامیہ سے بین الاقوامی سپلائرز سے آرڈر منگوانے کیلیے بات چیت کی اجازت لی۔

کمپنی کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد یاسر مشتاق نے دن رات ایک کردیا، دو ماہ میں کبھی یاسر مشتاق کبھی پوری رات سو نہیں سکا لیکن مشکل حالات میں این95 ماسک، سینیٹائزرز اور تھرمامیٹرز کی کمی نہیں ہونے دی، اس نے بین الاقوامی سپلائرز سے ڈیلنگ کرکے کمپنی کو پچاس فیصد سستی اشیا دلوائیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔