پٹرول اور مویشیوں کا چارہ سستا، دودھ کی قیمت کم نہ ہوسکی

ایکسپریس اردو  پير 9 جولائ 2012
دودھ کی سرکاری قیمت سے 4 روپے زائد پر فروخت جاری، انتظامیہ رٹ قائم کرنے میں ناکام ۔ فوٹو ایکسپریس

دودھ کی سرکاری قیمت سے 4 روپے زائد پر فروخت جاری، انتظامیہ رٹ قائم کرنے میں ناکام ۔ فوٹو ایکسپریس

کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد مویشیوں کا چارہ سستا ہونے کے باوجود تازہ دودھ کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی گئی، شہر بھر میں تازہ دودھ 70روپے کی سرکاری قیمت کے بجائے 74 روپے لیٹر فروخت کیا جارہا ہے اور شہری انتظامیہ ڈیری مافیا پر اپنی رٹ قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہے، ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے رمضان سے قبل نمائشی مہم چلانے کیلیے دکانداروں کو 70روپے لیٹر قیمت کے بینرز آویزاں کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر دکانداروں نے عمل نہیں کیا، ذرائع نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں نمایاں کمی اور کھپت کم ہونے سے بھینسوں کے چارے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے دودھ کی قیمت پر نظرثانی نہیں کی،

ڈیری سیکٹر کے ذرائع کے مطابق سبز چارہ 250سے کم ہو کر 130سے 140 روپے فی 36کلو بک رہا ہے،40 کلو بھوسے کی قیمت 400 روپے سے کم ہوکر 280روپے پر آگئی ہے، اسی طرح کھلی کی جگہ استعمال ہونے والی مکئی حال ہی میں 9روپے کلو کمی سے 20 روپے کلو فروخت ہورہی ہے، مویشیوں کے چارے میں مجموعی طور پر 20 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اس کے باوجود ڈیری فارمرز قیمت پر نظرثانی کے لیے تیار نہیں ہیں، ادھر کراچی میں دودھ کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ میں تازہ دودھ 2300 سے 2400 روپے فی 37.5 لیٹر فروخت ہورہا ہے

جو سرکاری ڈیری قیمت کے قریب ہے، تازہ دودھ کی سرکاری قیمت 60روپے لیٹر سے بڑھا کر 70 روپے لیٹر کیے جانے سے تمام تر فائدہ ڈیری فارمرز کو پہنچا ہے اور ڈیری فارمرز کے منافع میں 13.13 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے،پرانی قیمت کے مطابق ڈیری پرائس 51.37 روپے لیٹر تھی جو نئی قیمت میں بڑھا کر 64.50 روپے لیٹر مقرر کردی گئی تھی، تھوک قیمت 55.37 روپے سے بڑھا کر 67روپے مقرر

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔