شوہر نے غصے میں بلاوجہ طلاق دیدی تھی، حنا دلپزیر  

ویب ڈیسک  اتوار 9 اگست 2020
 جس وقت میری طلاق ہوئی میں صرف 23 سال کی تھی اور  میرا بیٹا صرف تین یا چار سال کا تھا، حنا دلپزیر فوٹوانٹرنیٹ

جس وقت میری طلاق ہوئی میں صرف 23 سال کی تھی اور میرا بیٹا صرف تین یا چار سال کا تھا، حنا دلپزیر فوٹوانٹرنیٹ

کراچی: نامور اداکارہ حنا دلپزیر نے اپنی زندگی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں غصے میں طلاق دیدی تھی۔

ڈراما سیریل ’’بلبلے‘‘ اور ’’قدوسی صاحب کی بیوہ‘‘ میں اپنی جاندار اداکاری سے پاکستان شوبز میں منفرد پہچان بنانے والی اداکارہ حنا دلپزیر حال ہی میں عفت عمر کے شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے اپنی زندگی، شادی، طلاق اور پاکستانی ڈراموں سے متعلق کھل کر باتیں کیں۔ حنا دلپزیر نے بتایا کہ ان کی پسند کی شادی ہوئی تھی لیکن پھر اچانک شادی کے چند سال بعد ہی ان کے شوہر نے انہیں غصے میں بلاوجہ طلاق دیدی۔

حنا دلپزیر نے کہا  جس وقت میری طلاق ہوئی میں صرف 23 سال کی تھی اور  میرا بیٹا صرف تین یا چار سال کا تھا۔ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا نہ ہی وہ کوئی برا انسان تھا، میری نیک تمنائیں میرے سابق شوہر کے ساتھ ہیں۔

انٹرویو کے دوران حنا دلپزیر نے پاکستانی ڈراموں میں دکھائی جانے والی کہانیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ہمارے یہاں ڈراموں میں کہانی  چند خاص کرداروں سے آگے ہی نہیں بڑھ رہی جس میں بس ایک سترہ، اٹھارہ سال کی لڑکی دکھائی جاتی ہے جس کی شادی کے مسئلے چل رہے ہوتے ہیں کبھی لڑکی کے گھر والے نہیں مان رہے تو کبھی لڑکے کے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے کہانی لکھنے والے اپنی تخلیق کے ذریعے لوگوں کو ایک پیغام دیتے تھے جب کہ آج ہمارے یہاں مصنف کو چند خاص اداکاروں کے نام دے دئیے جاتے ہیں اور ان سے مطالبہ کیاجاتا ہے کہ ان کو سامنے رکھ کر بس کہانی لکھ دیں یہاں تک کہ اداکار بھی پہلے سے ہی منتخب کرلیے جاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔