سَوکھا کرنے والے

فاروق عادل  پير 10 اگست 2020
farooq.adilbhuta@gmail.com

[email protected]

’’عبادت کرو اس گھر کے رب کی، نہ کہ اس گھر کی‘‘۔ اس جملے میں جانے کیا قیامت پوشیدہ تھی کہ دل کی کیفیت بدل گئی۔ زائرین مکہ کی مصروفیات ہوتی ہی کیا ہیں، حاضری، آنتیں قل ھواللہ پڑھنے لگیں تو کچھ کھا لینا، آنکھیں مندنے لگیں تو ذرا سا سو لینا۔ ہمارا معمول بھی یہی تھا لیکن وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ ممتاز مفتی کی لبیک میں نے پڑھ رکھی تھی۔ حرم کعبہ میں حاضری، اس کی کیفیات اور حضوری کا جو نقشہ اس بزرگ نے اس کتاب میں کھینچ رکھا ہے، اس کی کوئی صورت نہیں بنتی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محرومی اور بے بسی بلکہ اس سے بھی بڑھ کربدقسمتی کے احساس سے طبیعت بوجھل ہو گئی۔

دوپہر کا وقت تھا، ہم لوگ مسجد حرام سے نکلے اور قریبی بازار کی غیر معروف اور الجھی ہوئی گلیوں میں نسبتاً غیر اہم سے ریستوران میں جا بیٹھے۔ اس ریستوران کی خوبی یہ تھی کہ کم پیسوں میں زیادہ کھانا ملتا، بھیڑ بھڑکے سے محفوظ، بیٹھ کر بات ہو جاتی اور ارض مقدس کے مسافر اپنے مشاہدات اور کیفیات پر تنقیدی نگاہ ڈال لیتے۔ یہاں آئے کئی روز بیت چکے تھے۔ یہ پہلی بار تھی جب صحیح معنوں میں یہ مصرع سمجھ میں آیا کہ گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی۔

کیا عجب کیفیت تھی کہ دائیں بائیں لگی ہوئی گھڑیوں کی سوئیاں جیسے ہی قدم آگے بڑھا کر اپنے سفر کا اعلان کرتیں، دل مٹھی میں آ جاتا اور خیال ہوتا رخصت کی گھڑی کچھ اور قریب آ گئی لیکن فضیلت اور برکت کی برستی بارش کی کتنی بوندیں ہمارے حصے میں آئیں؟ محرومی کے اسی بوجھ کے تلے دبتے چلے جانے پر میری زباںسے جانے کیا نکلا کہ اطہر ہاشمی صاحب نے برتن میز کے وسط کی طرف کھسکاتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا، اس کے بعد دل کی کیفیت بدل گئی۔

یہ واقعہ 1994 کا ہے، اس سے لگ بھگ عشرہ پہلے کی بات ہوگی، یار عزیز اشفاق احمد کاشف اور میں نے جیب خرچ اور گھر کے سودا سلف سے بچی ہوئی ریز گاری کو نوٹوں سے بدلوایا اور لاہور کی راہ لی جہاں وحدت کالونی کے کسی ہال میں اشفاق احمد خطاب کرنے والے تھے۔

ان دنوں ابھی نہ زاویہ کے عنوان سے پروگرام ہوتے تھے اور نہ اس نام کی کتاب ظہور میں آئی تھی جس کے ہر باب کا اختتام اس جملے پر ہوتا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ ان دنوں اشفاق صاحب فرمایا کرتے تھے، ’’لوگوں کو سَوکھا کیا کرو‘‘۔ اشفاق صاحب کا یہ سخن میں سنتا تو سوچتاکہ وہ لوگ کیسے ہوتے ہوں گے جو لوگوں کو سوکھا کیا کرتے ہوں گے۔ اس سفر میں ہاشمی صاحب کو دیکھا تو یہ گھتی سلجھ گئی۔

بزرگی ہاشمی صاحب کی شخصیت کا ایک خاص وصف تھا۔ ہمارے ہاں بزرگی کا مطلب حد سے بڑھی ہوئی سنجیدگی، خشکی اور کسی قدر تحکم میں پوشیدہ ہے لیکن ہاشمی صاحب کے مزاج میں ایک خاص محبوبانہ ادا تھی۔ انتقال سے قبل ان کی جو تصویریں دیکھنے کو ملیں، ان  میں بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے دھواں اڑاتی ہوئی سگریٹ اور قلم ہاتھ میں لیے کاغذوں کے پلندے پر جھکے، سفید بکھرے ہوئے لیکن گھنے بالوں والے ایکبزرگ دکھائی دیتے جن کے ہونٹوں پر تڑپتا ہوا تبسم کوئی پیغام دیتا لیکن یہ آتش جوانی کے بعد پختگی کے زمانے میں بھی اپنی ان ہی محبوبانہ اداؤں سے پہچانا جاتا تھا۔

کھدر کی چار جیبوں والی بوشرٹ اور سیاہ پینٹ ان کا پسندیدہ لباس تھا۔ اس لباس میں اونچا لمباقد، بھرا ہواجثہ، کلین شیو چہرہ اور لمبی قلمیں، اس پر ان کے چلنے کاانداز، کچھ زیادہ ہی سرو قامت لگتے، کمال اعتماد کے ساتھ ناک کی سیدھ میں چلتے لیکن اس چال کا بھی ایک انداز تھا، ایک قدم اٹھا کر دوسرا رکھنے کے مختصر سے وقفے میں ایک ادا تھی۔

کوشش کے بغیر وہ پاؤں پر کچھ ایسا زور دیتے کہ لگتا یہ قدم کسی والہانہ رقص کے لیے اٹھے ہیں۔ اس منظر میں ذرا سی شوخی، سیٹی بجانے کے انداز میں ان کے ہونٹوں کی گولائی اور سگریٹ کا کش دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتا۔ دفتر میں دوران کار بھی ایسا ہی موڈ رہتا، سیٹی بجانے کا انداز تو گویا ان کا ٹریڈ مارک تھا۔ کوئی خبر مکمل کر کے ان کے سپرد کرتا تو اسی انداز میں شاباش دیتے ہوئے کہتے کہ ارے میاں! آج تم نے فلاں لفظ یا اصطلاح کا ترجمہ خوب کیا۔ کوئی سال بھر پہلے کی بات ہے، ایم کیو ایم کے بانی خبروں کا موضوع بن گئے۔ میں نے ان کی شخصیت اور سیاسی کیریئر کے بارے ایک طویل مضمون لکھا جو قسطوں میں شایع ہوا۔ پہلی قسط کی اشاعت پر سب سے پہلے ان ہی کا فون آیا، چھوٹتے ہی کہا، لطف آگیا میاں!

کسی سے غلطی سرزد ہو جاتی تو سینئر بلکہ استاد کے درجے پر فائز صحافیوں کی طرح جونیئرز کے لتے نہ لیتے بلکہ ذرا مختلف سی مسکراہٹ کے ساتھ گھور کر دیکھتے ہوئے کہتے، ابے تم نے پھر غلط کاری کر دی۔ ان کی ڈانٹ بس اتنی ہی ہوتی۔ سعودی عرب میں ایک زمانے میں حج کے موقعے پر حجاج کو حالات حاضرہ اور مناسک حج سے آگاہ رکھنے کے لیے مختلف زبانوں کے اخبار نکالے جاتے تھے۔ 1994 میں ہم لوگوں نے بھی ہاشمی صاحب کی سربراہی میں دو ماہ تک اردو اخبار شایع کیا۔ اس دوران کوئی خبر بناتے ہوئے عازمین حج کے لیے میں نے فرزندان توحید کی ترکیب لکھ دی تو ٹھٹکے، سگریٹ سلگائی اور اس کا دھواں چھوڑتے ہوئے کہا کہ ’’تو فاروق میاں! صاحبِ توحید کو تم نے صاحبِ اولاد خوب بنایا‘‘۔ یہ سبق ایسا ذہن نشین ہوا کہ کبھی دوبارہ غلطی نہ ہوئی۔

جونیئرز کے تجربات میں وسعت اور ان کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے۔ ریاض ڈیلی کے اردو حج ایڈیشن کی اشاعت ختم ہونے میں ابھی چند روز باقی تھے کہ ایک روز مجھ سے کہا کہ اٹھو میاں۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا، وہ مجھے لیے طلعت وفا یعنی چیف ایڈیٹر کے کمرے میں جا پہنچے اور اس سے کہا کہ حج ایڈیشن کامیابی سے نہ نکل پاتا اگر فاروق ہماری ٹیم میں نہ ہوتا، اچھا ہو اگر تم اسے پاکستان میں اپنے گروپ کا نمایندہ بنا لو۔ میرے لیے یہ ایک خوش گوار تجربہ تھا۔ پاکستان آ کر معلوم ہوا کہ ایک دو نہیں درجنوں لوگوں کے لیے انھوں نے اسی طرح از خود سوچا اور ان کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا ہوئے۔

معوذ نے منہ اندھیرے جب ان کے اُٹھ جانے کی خبر کی تو سچ یہ ہے کہ کچھ دیر کے لیے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا پھر رفتہ رفتہ مکہ مکرمہ کے اس سادہ سے ریستوران کا منظر ابھرا جہاں اس نا تراشیدہ کی بے چینی کو بھانپ کر اس کا کاندھا تھپتھپاتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ عبادت کرو اس گھر کے رب کی، نہ کہ اس گھر کی، اس کے بعد اسرار کے پردے اٹھتے چلے گئے اور اس گناہ گار پر عنایات کی ایسی بارش ہوئی کہ وہ نہال ہو گیا۔ اللہ ان کی قبرکو نور سے بھر دے۔ اشفاق صاحب تصوف کی اصطلاح میں صاحب حال کا ذکر فرمایا کرتے تھے، اگر دنیا میں ان خوبیوں کے لوگ واقعی پائے جاتے ہیں تو وہ ہاشمی صاحب جیسے ہی ہوا کرتے ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔