’’پاکستان سے مسئلہ ہے تو بھیجو پائلٹ چائے تیار ہے‘‘، منیب بٹ کا کنگنا کو کرارا جواب

ویب ڈیسک  ہفتہ 15 اگست 2020
انصاف کبھی بھی مذہبی نفرت پھیلا کر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی فنکاروں کا مومنہ مستحسن کو جواب فوٹوفائل

انصاف کبھی بھی مذہبی نفرت پھیلا کر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی فنکاروں کا مومنہ مستحسن کو جواب فوٹوفائل

کراچی: اداکار منیب بٹ اور مومنہ مستحسن نے بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت کو ان کے پاکستان اور مسلمانوں سے متعلق توہین آمیز ریمارکس دینے پر کھری کھری سنائی ہیں۔

بالی ووڈ کی تنگ نظر اداکارہ کنگنا رناوت کا شمار بھارت کی ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو اپنے کام کی وجہ سے نہیں بلکہ متنازع بیانات دینے کی وجہ سے خبروں میں زیادہ رہتی ہیں۔ کبھی وہ نیپوٹزم کو لے کر بھارتی پروڈیوسروں اور فنکاروں کے پیچھے پڑجاتی ہیں اورکبھی پاکستان کے خلاف بیانات دے کر۔

کنگنا رناوت  کا سب سے پسندیدہ موضوع  پاکستان اور مسلم مخالف بیان دینا ہے اور شاید وہ جانتی ہیں کہ پاکستان کے خلاف بیان دینے سے انہیں جو سستی شہرت ملے گی وہ شاید کسی اور موضوع پر بات کرنے سے نہیں ملے گی۔ لہذا انہوں نے ایک بار پھر بھارتی مسئلے میں بلاوجہ پاکستان اور مسلمانوں کو شامل  کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان اور مسلمانوں کے کس قدر مخالف ہیں۔

حال ہی میں سنجے دت اور عالیہ بھٹ کی فلم ’’سڑک2‘‘ کا ٹریلر ریلیز ہوا ہے جس میں روہت جیسوال نامی بھارتی فلمی تجزیہ نگار نے مسلمانوں کے خلاف اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ ٹریلر میں عالیہ بھٹ کہتی ہوئی نظر آرہی ہیں کہ ’’ان گرو کی وجہ سے میں نے کسی اپنے کو کھویا ہے‘‘ کیا یہاں  لفظ ’’گرو‘‘ کی جگہ ’’مولوی‘‘ یا ’’پادری‘‘ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

روہت جیسوال نامی شخص نے  یہ ٹوئٹ کرکے بتادیا کہ اس کے دل میں مسلمانوں کے خلاف کتنی نفرت ہے تاہم کنگنا رناوت تو اس شخص سے بھی دو ہاتھ آگے چلی گئیں انہوں نے اس ٹوئٹ کے لیے روہت جیسوال کی تعریف کی اور ایک بھارتی مسئلے میں بلاوجہ پاکستان اور مسلمانوں کے مقدس مقام کو درمیان میں لاتے ہوئے کہا کیا یہ گرو کو مولوی سے اور کیلاش اسکینڈل کو ’’مکہ اسکینڈل‘‘سے تبدیل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کیوں بھارت میں کچھ پاکستانی ایجنٹس کو مذہبی نفرت اور تعصب پھیلانے کی اجازت ہے؟ ’’سڑک2‘‘ کے ٹریلر یا ریلیز سے پاکستان  کا کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس کے باوجود کنگنا کا یہ بیان ان کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کتنی تنگ نظر ہیں اور پاکستان اور مسلمانوں کے کس قدر مخالف ہیں۔

تاہم پاکستانی فنکاروں نے کنگنارناوت کے اس ٹوئٹ کا بھرپور جواب دیا۔ اداکار منیب بٹ نے انسٹاگرام پر لکھا یہ ہندو توا انتہا پسند لوگ بھارت کا بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو مودی کے ان بھکتوں کے خلاف سخت قدم اٹھانا چاہیئے۔ یہ ان لوگوں کے اپنی ناکامی کو چھپانے اور عوام میں مقبول رہنے کے انتہائی گھٹیا طریقے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف بولو، پاکستان کو برا بولو اور واہ واہ کرواؤ۔

منیب بٹ نے مزید کہا پڑھے لکھے اور سیکولر بھارتیوں ہمیں آپ سے ہمدردی ہے۔ کنگنا رناوت کو پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دینے کے لیے شرم آنی چاہیئے۔ ’’اور زیادہ مسئلہ ہے تو اس بار ادرک والی چائے پلائیں گے الائچی ڈال کر، بھیجو ابھی نندن کو‘‘۔

منیب بٹ نے ٹوئٹر پر بھی کنگنا رناوت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کیوں بھارتی پاکستان کے لیے اس قدر جنونی ہیں اور ان کا بیوقوف میڈیا بھارتیوں کی اصل ذہنیت کی بالکل درست عکاسی کرتا ہے۔ ’’زیادہ مسئلہ ہے پاکستان سے تو بھیجو پائلٹ چائے تیار ہے۔‘‘

صرف منیب بٹ نے نہیں بلکہ مومنہ مستحسن نے بھی کنگنا رناوت کے بیان کی مذمت کی اور کہا کیوں یہ لوگ اپنے ہر معاملے میں پاکستان کو بیچ میں لے آتے ہیں؟ حالانکہ اس سب کاکوئی فائدہ نہیں لیکن یہ حرکتیں کنگنا کو ان کے اقربا پروری کے خلاف مشن، اپنی داخلی ریاست، مذہبی منافرت اور تعصب کو روکنے کے لیے جاری مشن کو ان سے دور کردیں گی۔ انصاف کبھی بھی مذہبی نفرت پھیلا کر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔