مائے نی، وچھوڑا پے گیا!!

شیریں حیدر  اتوار 6 ستمبر 2020
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’کوئی لے کے جگ سارا… مینوں لبھ کے لیا دے میرا لال، مائے نی وچھوڑا پے گیا!! ‘‘ وہ آنسوؤں کی تسبیح کرتے ہوئے، ہولے ہولے گنگنا رہی تھی۔ صرف اس کے انتہائی قریب بیٹھ کر ہی کوئی اس کی آواز سن سکتا تھا ۔ ایسے حالات میں تو عموماً عورتیں باآواز بلند بین کر کر کے روتی ہیں، مگر اس کا حوصلہ کمال کا تھا… پہاڑوں سے بلند تر، اس کی برداشت پتھروں سے بھی سخت تھی اور اس کے آنسو سمندر کی سطح کا سکوت لیے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس امانت کو اپنے سینے سے بھینچ رکھا تھا جو اسے اس کے لال کے عوض ملی تھی۔ پاکستان کا قومی پرچم !!

اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی تو سوچا کرتی تھی کہ اس کی ساس نے کیسے اپنی زندگی مشقت سے کاٹی ہو گی۔ جوانی میں بیوہ ہوئیں ، شہید کی بیوہ اور تین بچوں کا ساتھ۔ ان کا تو وجود ہی قبر بن گیا ، جس میں انھوں نے اپنی ساری خواہشات اور تمناؤں کو زندہ دفن کر دیا تھا۔ اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ مردانہ وار زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراپنا وقت گزارا اور بچوں کو ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا پیار بھی دیا ۔ ہمیشہ اس بات پر فخر محسوس کرتیں کہ وہ ایک شہید کی بیوہ تھیں، کبھی شکوہ زبان پر آیا نہ آنکھوں میں شکایت۔ جب وہ اپنے طور اپنے سارے فرائض سے فارغ ہوگئیں اوراپنے بیٹے کے ساتھ دوبارہ ملک کے چپے چپے کی خاک چھاننے لگیں تو وہ خود کو خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتا ہوا محسوس کرتیں ۔

بہت سی چھاؤنیاں تو وہیں تھیں جہاں اس سے پہلے وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ چکی تھیں۔ نئی جگہیں بھی دیکھنے کو ملیں کہ اب پہلے سے کئی زیادہ چھاؤنیاں بن چکی تھیں ۔ دشمن ملک کے ناپاک عزائم کا سامنا کرنے کے لیے ملک کے ہر حساس مقام پر چھاؤنیاں بن چکی تھیں ۔ انھیں فوج کی زندگی اتنی پسند تھی کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو ہمیشہ اسی زندگی کی کہانیاں سنائیں ، اسے بھی یہ سب طلسماتی کہانیاں سن سن کر فوج میں جانے کا ارمان پیدا ہوا اور بالآخر وہ بھی ایک افسر بن گیا۔ ’’ تمہیں نظر بھر کر دیکھتی بھی نہیں میرے بیٹے… کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے! ‘‘ وہ اپنے ابتدائی کورس کر چکا تو ماں جی کی نظر نے اس کا انتخاب کیا اور ان کے بیٹے کا ساتھ اس کا نصیب ہوا۔

ایک عبادت گزار اور قناعت پسند ماں کی تربیت نے انھیں ہیرے جیسا تراش دیا تھا۔ وطن اور فرض کی محبت اس کی گھٹی میں پڑی تھی اور اب رگ رگ میں لہو کے ساتھ دوڑتی تھی۔ وہ بھی ماں جی کی طرح ایک نیک اور صالح خاتون تھی اور فوجی کے ساتھ نے اسے کندن سا بنا دیا تھا۔ اس نے کبھی تنہائی کا شکوہ نہ کیا جب وہ کئی کئی دنوں کے لیے اپنے فرائض کے سلسلے میں کہیں مشقوں پر چلا جاتا۔ اس سے وقت کا مطالبہ نہ کیا کہ اس کے کام میں آرام کا کوئی تصور نہ تھا۔

ماں… دھرتی ماں، ہر وقت اور ہر طرف سے خطروں میں گھری تھی، کسی بھی وقت اپنے ان سپوتوں کو بلا لیتی تھی ، جو اس کی حفاظت کے فریضے پر مامور تھے ۔ ماں کی دعاؤں نے گزرتے وقت کے ساتھ، تین خوبصورت پھول اس کے آنگن میں کھلائے… ’’ انھیں اسی راستے پر چلانا جو مادر وطن کی محبت کا راستہ ہے! ‘‘  وہ اپنی بیوی سے اپنے بیٹوں کے بارے میں یہی کہتا ۔ اس نے اپنے بیٹوں کے دماغوں میں بچپن سے ہی گھول گھول کر مادر وطن کی محبت کا بیج بویا تھا اور وہ چھوٹی چھوٹی عمروں میں ہی بڑے بڑے ارادے پال کر بڑھنے لگے۔ ان کے لڑکپن میں ہی باپ کا پرچم میں لپٹا ہوا وجود گھر آیا تھا اور ان کی دادی کو وہ امانت سونپی گئی تھی۔ اس امانت کو وہ مرتے دم تک اپنے سرہانے رکھ کر سوتی تھیں اور اپنے سپوت کی خوشبو محسوس کرتیں ، اس سے انھیں اپنے ارد گرد اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ۔

’’ بس ہماری دونسلیں قربان ہوئیں اس ملک پر… اس کے بعد کسی کو فوج میں نہ بھیجنا! ‘‘ دادی اسے نصیحت کرتیں مگر کسی کو بھیجنا یا نہ بھیجنا اس کے اختیار میں کہاں تھا۔ دادی بھی ایک دن انھیں چھوڑ کر وہیں چل دیں جہاں ان کا شوہر اور بیٹا ان کے منتظر تھے۔ تینوں نے ماں کی سنی نہ دادی کی نصیحت پر کان دھرے اور یکے بعد دیگرے اسی راہ کے راہی ہوئے جس پر اس سے پہلے ان کے دادا اور والد کے قدموں کے نشان تھے۔ دو نسلوں کے شہداء کی اولادیں اور ایک ہی ماں کے تین لال، مادر وطن کی حفاظت کے جذبے سے معمور، اس پر نچھاور ہونے کو پروانہ وار تیار۔ ان کی ماں کی نمازیں اور سجدے طویل ہوتے گئے کہ ایک وقت میں اس کے تینوں بیٹے اپنے ملک کے تین مختلف اور مشکل محاذوں پر مامور تھے ۔

اس کے حالات اور تنہائی کے پیش نظر بڑے دونوں نے فیصلہ کیا اور سب سے چھوٹے کی کسی ایسی جگہ تعیناتی کے لیے درخواست دے دی کہ جہاں وہ اپنی تنہا ماں کو اپنے ساتھ رکھ سکے۔ اس پر وہ بہت سٹپٹایا کہ وہ خود تو لڑ رہے تھے اور اسے محاذ سے ہٹوا دیا تھا۔ ’’ ماں بھی تنہا ہے ، مادر وطن کی حفاظت بھی ہم کر رہے ہیں مگر ماں کا خیال کرنا بھی تو لازم ہے!! ‘‘ یوں ایک بیٹا جنم دینے والی ماں اور دومادر وطن کی حفاظت کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ حالات مشکل سے مشکل تو ہوتے جا رہے تھے، لڑائی ہر محاذ پر اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف جاری تھی ۔ وہ دیکھتی کہ کس طرح ملک کے دشمن اسے اندر اور باہر سے ختم کرنے کے درپے تھے۔

ایسے ضمیر فروش اس مقدس پیشے کو گالیاں دیتے تھے جسے اختیار کرنیوالے محبت میں مٹ مرنے کا عہد کیے ہوئے ہوتے ہیں ۔ انھیں اپنے لہو کا آخری قطرہ تک محبت میں بہانا ہوتا ہے اور یہ سیاستدان کہتے ہیں کہ انھیں پلاٹوں کا لالچ ہوتا ہے… مراعات کے لیے فوج کی نوکری کرتے ہیں۔ ارے، تم لوگ کیوں نہیں ایسی مراعات کے لیے خود فوج میں جاتے یا اپنے بیٹوں کو بھیجتے ، کم از کم ضمیر کو یہ اطمینان تو ہے کہ رزق حلال کھا رہے ہیں۔ ان سے کہیں کہ اپنے بیٹوں کی قیمت خود لگائیں، بتائیں کہ کتنا پیسہ، کتنے پلاٹ لے کر یہ اپنا ایک پلا پلایا بیٹا، دشمن کی گولیوں کی زد میں کھڑا کر سکتے ہیں؟؟

خود غدار ہیں تو انھیں اس مقدس پیشے کو بدنام کرنے کا پیسہ دشمنوں سے ملتا ہے۔ ان والدین، بہن بھائیوں، بیویوں اور اولادوں کے دل مزید دکھی ہوتے ہیں جنھوں نے ایک پرچم کے عوض اپنے پلے پلائے بیٹے، شرارتی بھائی، پیار کرنے والے شوہر اور ہر دھوپ چھاؤں سے بچانے والے باپ قربان کیے ہوتے ہیں ۔ کوئی ان سے پوچھے تو سہی کہ انھوں نے کیاکھو کر یہ اعزاز حاصل کیا ہوتا ہے، ان پر کیا بیتتی ہے جن کے پیارے شہید ہوئے۔ میں اس کے کندھے سے لگی بیٹھی تھی، اس کا وجود ہلکے ہلکے جھٹکوں کی زد میں تھا، مگر وہ یوں بین نہیں کر رہی تھی جیسے عام عورتیں کرتی ہیں… کیونکہ وہ عام عورت تو تھی ہی نہیں!! اس نے تو اپنے تین جگر گوشے اس ملک کی حفاظت پر قربان کرنے کو اس کے حوالے کر رکھے ہیں۔

’’ باقی دونوں سے کہو کہ فوج چھوڑ دیں ، بہت ہو گیا، بہت قربانیاں د ے لیں اس ملک کی خاطر اور کیا فائدہ اس ملک کی خاطر قربانی دینے کا جہاں کسی کو اس قربانی کی قدر ہی نہیں! ‘‘ کسی خاتون نے اسے مشورہ دیا۔’’ کیسے کہہ سکتی ہوں کسی ایک کو بھی کہ فوج چھوڑ دے، ملک کی حفاظت کرنا چھوڑ دے… ان کی تو سانس ہی اس کے لیے چلتی ہے ۔ اللہ نے ایک کی قربانی قبول کی ہے تو کیا باقیوںکو میں اس سعادت سے محروم کر دوں ؟ کیسے کروں ایسی نا انصافی؟ ‘‘ وہ ہولے سے بڑبڑائی مگر اتنی آواز تھی کہ ارد گرد بیٹھے ہوئے سب نے سن لی تھی۔’’ تو کیا اس انتظار میں ہو کہ ایک کے بعد دوسرا… ‘‘ وہی خاتون کچھ کہتے کہتے رک گئی۔

’’ میرے تو صرف تین ہیں… میرے پچاس بیٹے ہوتے تو بھی میں اسی کام پر انھیں مامور کرتی، وہ سب کے سب اس مادر وطن کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیتے اور پچاس کے پچاس بھی پرچم میں لپٹ کر آتے تو میں خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین عورت سمجھتی! ‘‘ اس کے اندر سے الفاظ نہیں، محبت کا جذبہ بول رہا تھا اور سب کی سب خاموشی سے آنسو بہانے لگیں۔ ہے کسی ملک میں ایسی کوئی ماں اور ایسے سپوت؟؟

’’کوئی لے کے جگ سارا… مینو ں لبھ کے لیا دے میرا لال… مائے نی وچھوڑا پے گیا!!‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔