اداروں میں تعاون کا فقدان؛ موٹروے زیادتی کے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجہ

نعمان شیخ  اتوار 13 ستمبر 2020
دن رات کی محنت کے بعد بار بار ٹاسک سی ٹی ڈی کو دینے سے ہماری محنت ضائع ہورہی ہے، پولیس افسر ۔ فوٹو : فائل

دن رات کی محنت کے بعد بار بار ٹاسک سی ٹی ڈی کو دینے سے ہماری محنت ضائع ہورہی ہے، پولیس افسر ۔ فوٹو : فائل

 لاہور: موٹروے زیادتی کیس میں اداروں کے درمیان باہمی تعاون نہ ہونے سے ملزمان کی تاحال گرفتاری ممکن نہیں ہوسکی۔

لاہور سیالکوٹ موٹروے اجتماعی زیادتی کیس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا باہمی تعاون نہ ہونے سے ملزمان کی عدم گرفتاری کا سب سے بڑا سبب بن گیا۔

اجتماعی زیادتی کیس کے حوالے سے ہفتے کی شام وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے پریس کانفرنس کی جس میں آئی جی پنجاب انعام غنی نے بتایا کہ پولیس نے شب و روز کی محنت سے 72 گھنٹے سے قبل پنجاب فورانزک سائنس ایجنسی اور جیوفینسنگ کی مدد سے مرکزی ملزمان کا سراغ لگا لیا ہے جن میں سے ایک کا تعلق ضلع بہاولنگر فورٹ عباس سے ہے اور اس کا نام عابد علی عرف عابد ملہی ہے ملزم کا فورانزک ڈیٹا بیس میں2013  سے ریکارڈ موجود تھا۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ عابد علی پر فورٹ عباس میں دوران ڈکیتی ماں بیٹی سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج ہوا تھا، اسی سلسلے میں اس کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا، انعام غنی نے دوسرے ملزم کے بارے میں بتایا کہ اس کا نام وقارالحسن ہے اور یہ ضلع شیخوپورہ میں قلعہ ستار شاہ کا رہائشی ہے اس ملزم کو عابد علی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہونے اور جیوفینسنگ رپورٹ میں جائے وقوعہ کے قریب تر ہونے کی وجہ سے شناخت کیا گیا۔

انعام غنی نے یہ بھی بتایا کہ عابد علی کی گرفتاری کے لیے قلعہ ستار سنگھ شیخوپورہ میں موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا لیکن بدقسمتی سے وہ اپنی بیوی کے ساتھ فرار ہوگیا لیکن اس کی بیٹی اور دیگر شواہد پولیس کو مل گئے۔

پولیس ذرائع سے جب اندرونی کہانی معلوم کی گئی تو ایک پولیس افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس واقعے کے منظر عام پر آتے ہی انوسٹی گیشن پولیس لاہور، فرانزک ایجنسی، سی آئی اے، ایس پی یو، سی ٹی ڈی اور دیگر حساس اداروں نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کی قیادت میں مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا آغاز کیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کی نگرانی میں کھوجیوں کی مدد لی جاتی ہے لیکن ملزموں کے قدموں کے نشانات جائے وقوعہ سے پیچھے ایک گاؤں جبیر سے ملحقہ پکی سڑک ہونے کی وجہ سے وہاں تک پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں۔

علاقے کے گرد و نواح میں واقع دیہات سے جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا حاصل کرکے ان سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا تھا، جائے وقوعہ کے قریب پولیس نے کیمپ آفس بنا کر جیو فینسنگ بھی کی تھی، تفتیشی ٹیمیں درست سمت میں تفتیش پر گامزن تھیں کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب فرانزک سائنس ایجنسی نے ایک ملزم کا ڈی این اے ڈیٹا میچ ہونے کی اطلاع براہ راست وزیر اعلیٰ آفس میں دی۔

وزیر اعلیٰ آفس کے بعد آئی جی پنجاب کو دی جنہوں نے ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کو سونپ دیا، اس تمام کارروائی سے دیگر تفتیشی یونٹس کو بے خبر رکھا گیا، ہفتہ کے روز دوپہر سی سی پی او لاہور کیس کی تفتیش کے حوالے سے ایک میٹنگ کررہے تھے جس میں انویسٹی گیشن کے افسران بھی موجود تھے اس میٹنگ میں ہی پولیس افسران کو اطلاع ملی کہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی نے قلعہ ستار سنگھ میں چھاپہ مارا ہے اور ملزم فرار ہوگیا، لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی تفتیشی ٹیموں کو اس وقت دوسرے ملزم وقارالحسن کی شناخت کے بارے میں اطلاع دی گئی اور گرفتاری کا ٹاسک سونپا گیا۔

ڈی ایس پی سی آئی اے ماڈل ٹاؤن حسین حیدر اپنی ٹیم کے ہمراہ قلعہ ستار سنگھ چھاپہ مارتے ہیں لیکن وقار وہاں نہیں ملتا، با اثر مقامی افراد کی جانب سے انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ وقار کو خود پیش کروا دیں گے جس پر ڈی ایس پی سی آئی اے اپنی ایک ٹیم وہاں چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں، ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب جیو فینسنگ کے ذریعے پولیس کو تین سے چار مزید مشتبہ افراد کا سراغ ملتا ہے جس پر وہ افسران بالا کو آگاہ کرتے ہیں، افسران بالا کی جانب سے سی ٹی ڈی کو دوبارہ اس نئے ٹارگٹ کی گرفتاری کا ٹاسک ملتا ہے اور وہ لاہور میں لکھوڈیر کے علاقے میں چھاپہ مارتے ہیں لیکن پھر ناکام لوٹنا پڑتا ہے اور مشکوک افراد قریب سے فرارہ وجاتے ہیں۔

دوسری جانب اس کیس پر کام کر رہے دیگر اداروں اور تفتیشی ٹیموں میں اب مایوسی کا عنصر پایا جانے لگا ہے۔ اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک پولیس افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہماری دن رات کی محنت کے بعد بار بار ٹاسک سی ٹی ڈی کو دینے سے ہماری جہاں محنت ضائع ہورہی ہے وہیں تاخیر سے اصل ملزمان کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔