شیریں اور فواد

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین  پير 14 ستمبر 2020

معاشرے کے دانا، دانش ور اور کونا پکڑے بیٹھے ’’ایڈز والے‘‘انسانی حقوق کے چیمپئن مُصر ہیں کہ سر عام پھانسی جیسی سزائیں ’’مُضر‘‘ ہیں، وجہ پوچھیے تو بتلاتے ہیں کہ اِس سے مہذب معاشرے میں ’’انتہا پسندی‘‘ پھیلتی ہے…….مطلب یہ کہ ظلم کی انتہا ہوجائے کوئی بات نہیں،پانچ سالہ بچی کی عریاں ذہن کے چوپائے نما انسان عزت نوچ کے کھاجائیں اور پھر زندہ جلادیں یہ انتہا نہیں ہے۔

خاتون بارہ بجے کیوں نکلیں؟ پٹرول چیک کیوں نہیں کیا؟ کیا ضرورت تھی جانے کی؟اور پھر عصمت دری بھی کیوں ہوئی (یہ سوال رہ گیا تھا) ایسے انتہا پسندانہ بیانات دینے والے بھی انتہا نہیں کرتے لیکن ہم  معاشرے کے وہ لوگ جو معصوم بچوں کی عصمت دری کے بعد اُن کو مثلہ کرکے قتل کرنے والے انسانی شکل میں بھیڑیوں کو سرعام لٹکانے کی بات کریں تو انتہا پسند کہلاتے ہیں……کہہ دیجیے، تھوک دیجیے، بھونک دیجیے، ہمیں کیا فرق پڑتا ہے، کیونکہ جو قرآن پڑھتا ہے وہ اللہ کا یہی حکم پڑھتا ہے جو اللہ نے اپنے حبیبﷺ  کے ذریعے ’’مہذب معاشروں‘‘ کو دیا، یا تو دنیا کے ساتھ چلیے اور مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن پر جیسے بڑے اور دہی بڑے خاموش ہیں، خاموش رہیے یا پھر اُس دین کے ساتھ چلیے جسے اللہ نے پسند فرمایا ہے کیونکہ دُنیا تو فنا ہوجائے گی لیکن دو صوروں سے لے کر میدان حشر تک اور میدان حشر سے جنت و جہنم کے فیصلوں تک دین باقی رہے گا…….

پہلے تو ثابت کیجیے کہ یہ معاشرہ مہذب ہے اُس کے بعد یہ سمجھایے کہ ستر ماؤں سے بڑھ کر مخلوق سے محبت خالق کرتا ہے یا مخلوق ہی میں سے کوئی شیریں نما مزار یا فرہاد کا بھائی فواد؟ انسانیت کی محافظ یہ ایجنڈوں پر بنی ہوئی دس رکنی مجلس عاملہ پر مشتمل امداد خور تنظیمیں ہیں یا بچیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچانے والے میرے سیدی، میرے آقا میرے مولاﷺ ؟ موچ والے سوچ کے جواب دیں اورمستقیم والے جنھیں جواب معلوم ہے وہ ایسے بڑبولوں کوٹکا کے جواب دیں! کیا مذاق بنا رکھا ہے کہ انسانی حقوق، انسانی حقوق!انسانی حق صرف قاتل کا ہے؟مقتول کا نہیں؟…….ایک صاحب کہتے ہیں کہ ’’قاتل کو اُس کی آخری سانس تک قید تنہائی میں رکھا جائے یہ اُس کے لیے بڑی اذیت ہے‘‘ اجی، آپ سے بڑی اذیت کیا ہوگی جسے نہ تو سورہ اخلاص، اخلاص سے پڑھنی آتی ہے اور نا ہی قرآن میں کہیں ’’قصاص‘‘ لکھا نظر آیا ہے؟آپ کون ہیں؟

اوقات کیا ہے آپ کی جو قرآن و سنت میں پہلے سے متعین سزاؤں کو بدلنے کی یزیدی کوششوں میں مصروف ہیں! گھر پر علم لگانے کا شوق ہے تو علمدار کی راہ پر چلنا سیکھو!مولا علی کی شہادت سے قبل امام حسن رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت تاریخ الخلفا میں پڑھو کہ ’’اگر میں زندہ نہ رہوں تومیرے قاتل کو اُسی طرح قتل کیا جائے جس طرح اُس نے مجھے قتل کیا کیونکہ قصاص میں حیات ہے‘‘…….پتہ نہیں یہ کون لوگ یہاں آکر بس گئے ہیں جو اللہ کے دیے ہوئے ضابطہ حیات کو ’’حیاتِ قاتل‘‘ کی داستان نجات سمجھ بیٹھے ہیں……فرماتے ہیں کہ ’’چونکہ ہمارے قائد کو پھانسی دی گئی اِسی بنا پر ہم تو پھانسی کے ہی خلاف ہیں‘‘منطق کی اِس بطخ کاکون سا تالاب بناؤں؟ اِن کے قائد تو مر کر بھی نہیں مرے، وہ تو زندہ ہیں، ہر گھر سے نکلتے ہیں مگر ہمارے قائدین سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی ابن ابی طالب،سیدنا حسن ابن علی، سیدنا حسین ابن علی، سیدنا علی اصغر بن حسین، سیدنا قاسم بن حسن، سیدنا علی اکبر بن حسین، باب الحوائج سیدنا عباس ابن علی (رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) سب کے قاتلوںکو وفا کے پیکروں نے اُسی طرح قتل کیا جس طرح ان ہستیوں کوشہید کیا گیا۔

نعرے لگنے تو یہی چاہیں کہ زندہ ہے حسین زندہ ہے لیکن جہاں بھٹو ’’شہید‘‘ کہلائیں وہاں یہ نعرے کون لگائے؟ نواب شاہ کے نواب زرداری کے بیٹے بلاول سے کوئی پوچھے کہ ’’بلاول ہاؤس پر علم کیوں لگایا ہوا ہے؟کیا یہ علم یزیدکو معاف کرنے کا پیغام ہے یا مختارثقفی اور ابراہیم اشتر کی کاوشوں کی توہین؟کربلا میں گودوں کے پالے ہوؤں کی شہادتوں کے بعد سے نہ مسکرانے والی ثانی زہرا، مولا علی کی صاحبزادی اور عون و محمد رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی والدہ کیوں مسکرائی تھیں؟ بلاول کو کیا پتہ اُسے تو اپنی ماں کے قاتلوں کا نہیں پتہ اور اگر پتہ چل بھی گیا تو یہ لٹکائے گا نہیںکیونکہ نانا پہلے پھانسی پا چکے اُس کے بعد پھانسی ایک سزائے معترضہ بن گئی اور سرعام تو گالی! میں بتاتا ہوں اِن رسمی علم لگانے والوں کو! سنو!صحابی رسول ابو عبیدہ بن ثقفی کے صاحبزادے اور سیدنا فاروق اعظم کے فقیہ صاحبزادے اور صحابی سیدنا عبداللہ ابن عمر کے برادر نسبتی مختار ثقفی نے سیدنا علی اصغر رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتل حرملہ کو عوام کے سامنے اُسی تیر سے واصل جہنم کیا جس طرح اُس بدبخت نے معصوم بچے کو شہید کیا۔

یہ سٹھیائے ہوئے رہنما اور زبردستی کے لکھے پڑھے ویسے تو ’’زبردستی‘‘ کے بہت خلاف ہیں لیکن زبردستی قرآن کو بدلنے کے لیے زبردست طریقے سے میدان میں اُترے ہوئے ہیں ِ، یہ کھود کھود کر نئی نئی سزائیں تجویز کرنے والے اپنے نبیﷺ پر نازل ہونے والی تمام الہامی کتابوں کی آخری کتاب، قرآن مجید پڑھنے کی زحمت فرمالیں، گھر میں کہیں الماری کے اوپر جزدان میں لپٹا رکھا ہوگا تو اُنہیں سزائیں ایجادکرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوگی…….میں نے تہیہ کرلیا ہے، لڑوں گا، سرعام سزا کے لیے لڑوں گا، ہار جیت مقصد نہیں بس قوم وہ چہرے دیکھ لے جو بنائے تو ’’المصور‘‘ نے ہیں لیکن شاید اِنہیں ’’المصور‘‘ کے سامنے پیش ہونے کا یقین نہیں…….درندوں کے لیے پہلے سے Zooبنے ہوئے ہیں، جیل کو Zoo نہ بنائیے جہاں بقول آپ کے ’’آخری سانس تک قید تنہائی میں رکھا جائے‘‘ پھر اُس کا پیشاب، پاخانہ بھی صاف کرنے کی ذمے داری آپ ہی اُٹھایے گا!ہم سور کھاتے ہیں نہ اُس کی لید صاف کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔