ڈپارٹمنٹل کرکٹ، اُمید کی آخیری کرن بھی مایوسی کے اندھیروں میں گم

اسپورٹس رپورٹر  جمعرات 17 ستمبر 2020
کرکٹ کو ٹھیک کرنے کیلیے ایسوسی ایشنز کا اسٹرکچر ہی واحد حل ہے،مصباح،اظہرعلی اور حفیظ کو سمجھا دیا، اصلاحات ہوں تو تھوڑے مسائل پیش آتے ہیں 
۔  فوٹو : فائل

کرکٹ کو ٹھیک کرنے کیلیے ایسوسی ایشنز کا اسٹرکچر ہی واحد حل ہے،مصباح،اظہرعلی اور حفیظ کو سمجھا دیا، اصلاحات ہوں تو تھوڑے مسائل پیش آتے ہیں ۔ فوٹو : فائل

 لاہور: امیدکی آخری کرن بھی مایوسی کے اندھیروں میں گم ہو گئی جب کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی واپسی کے خواہاں کرکٹرز کے ہاتھ خالی رہ گئے۔

وزیر اعظم عمران خان سے پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی، چیف ایگزیکٹیو وسیم خان،کرکٹ کمیٹی کے رکن وسیم اکرم، ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق، قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی اور آل راؤنڈر محمد حفیظ نے ملاقات کی۔

سابق اور موجودہ کپتانوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے اسٹرکچر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈپارٹمنٹس کی بحالی کا کہا، کرکٹرز نے کھلاڑیوں کی بے روزگاری سے پیدا ہونے والی تشویش کی لہر کا ذکر کیا۔

وزیراعظم نے تجویز کو مسترد کردیا۔ بعد ازاں ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے معاہدوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پرانا سسٹم ختم ہونے سے پیدا ہونے والی مشکلات کا اندازہ ہے لیکن ملکی کرکٹ کو درست کرنے کیلیے صوبائی ایسوسی ایشنز ہی واحد حل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں نے اتنا ٹیلنٹ دنیا کے کسی ملک میں نہیں دیکھا لیکن اس کو اوپر لانے کے لیے بہتر ڈومیسٹک اسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ جتنی مقابلے کی فضا ہو گی اتنے ہی بہتر کرکٹرز سامنے آئیں گے، جس ملک میں سسٹم مقابلے کو بڑھائے اور میرٹ کو اوپر لے آئے وہ ہمیشہ ترقی کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا دنیائے کرکٹ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے جس کی وجہ ان کا نظام بنا، دنیا کا سب سے بہترین سسٹم کرکٹ کو پالش کرتا اور لوگ اوپر آتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر ہم اپنا کرکٹ کا اسٹرکچر درست کرلیں تو کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا، میں 40 سال سے لگا ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے اس نظام کو تبدیل نہیں ہونے دیتے تھے،میں نے فیصلہ کیا تھا کہ جب اختیار ملا تو اسے بدلوں گا۔

انھوں نے کہا کہ ابھی جو سسٹم لائے ہیں اس کے بارے میں مصباح الحق،اظہر علی اور محمد حفیظ کو سمجھایا ہے کہ جب بھی اصلاحات ہوں تو تھوڑے مسائل پیش آتے ہیں، یکدم نتائج بھی سامنے نہیں آتے، نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر میں ملکی ٹیلنٹ پالش ہوگا تو پاکستانی ٹیم دنیا میں بہترین ہوگی۔ میرا خواب ہے کہ آئندہ ورلڈکپ میں ہمارا ٹیلنٹ نظر آئے۔

یاد رہے کہ مصباح الحق، اظہر علی اور محمد حفیظ سوئی ناردرن گیس،سابق کپتان وسیم اکرم پی آئی اے کے ساتھ منسلک ہیں،صوبائی ایسوسی ایشن کی ٹیموں کا سسٹم لائے جانے کی وجہ سے ڈپارٹمنٹس کے ایک ہزار سے زائد کرکٹرز بے روزگار ہوئے۔

دورہ انگلینڈ سے واپسی پر لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصباح الحق نے ڈپارٹمنٹل کھلاڑیوں کے مسائل کا ذکر کیا تھا، بعد ازاں کرکٹ کمیٹی کے رکن عمر گل اور پھر محمد حفیظ نے بھی بے روزگار کرکٹرز کے حق میں آواز بلند کی، مگر موجودہ اور سابق کپتانوں کو اسلام آباد سے خالی ہاتھ واپس آنا پڑا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔