ٹرمپ نے ’ٹک ٹاک‘ کا ’اوریکل‘ سے معاہدہ مسترد کرنے کا عندیہ دیدیا

ویب ڈیسک  جمعرات 17 ستمبر 2020
ممکنہ طور پر امریکی صدر کل تک اس حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کرلیں گے۔

ممکنہ طور پر امریکی صدر کل تک اس حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کرلیں گے۔

 واشنگٹن: امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ چینی کمپنی ’ٹک ٹاک‘ اور امریکی کمپنی ’اوریکل‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ کا امریکی کمپنی ’اوریکل‘ کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے معاہدے کو مسترد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ اس معاہدے میں امریکی کمپنی کے پاس کم اختیارات ہوں، امریکا میں کسی بھی معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے قومی سلامتی کے معاملات کا 100 فیصد ہونا ضروری ہے اور ہم اس معاہدے کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ ممکنہ طور پر امریکی صدر کل تک اس حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کرلیں گے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پرپابندی لگانے کا اعلان کردیا

خیال رہے امریکی صدر نے ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی عائد کرنے کا کہا تھا، ٹرمپ نے صدارتی حکم نامے میں کہا کہ اگر چینی ایپلی کیشنز ’ٹک ٹاک‘ کے اثاثے آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیے گئے تو اس پرامریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

بعد ازاں مائیکروسافٹ نے ’ٹک ٹاک‘ خریدنے کے حوالے سے چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو پیشکش کی جسے اس نے مسترد کردیا اور 3 روز قبل امریکی کمپنی ’اوریکل‘ سے معاہدہ کرلیا جس کے تحت دونوں کمپنیاں امریکا میں مل کر کام کریں گی اور امریکا میں ٹک ٹاک کے انتظامات چلانے کے لیے ایک نئی کمپنی بنائیں گی تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکی صدر سے منظوری لینا ضروری ہے جب کہ چینی حکومت کا بھی معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنا ضروری امر ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ امریکا کو ٹک ٹاک چرانے نہیں دیں گے اور نہ کسی دباؤ میں آئیں گے، چين

واضح رہے معاہدے کے تحت نئی کمپنی کے انتظامات کے زیادہ تر اختیارات ’ٹک ٹاک‘ کے پاس ہی ہوں گے تاہم اوریکل نئی کمپنی میں امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اور یہی بات امریکی صدر کو قبول نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں زیادہ تر اختیارات امریکی کمپنی کے پاس رہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔