اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی وی میں بھاری تنخواہوں پر سوالات اٹھا دیئے

ویب ڈیسک  جمعـء 18 ستمبر 2020
 اپنی ہی کمپنی کے پی ٹی وی سے کاروباری تعلقات رکھنے والے راشد خان کی تعیناتی غیر قانونی قرار دی جاتی ہے، عدالت۔ فوٹو:فائل

اپنی ہی کمپنی کے پی ٹی وی سے کاروباری تعلقات رکھنے والے راشد خان کی تعیناتی غیر قانونی قرار دی جاتی ہے، عدالت۔ فوٹو:فائل

 اسلام آباد: عدالت نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مستقبل میں سرکاری ٹی وی میں تنخواہوں اور مراعات کا تعین وزارت خزانہ کی مشاورت سے کرے۔  

پی ٹی وی میں تعیناتیوں اور پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل راشد خان کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ  کا تحریری فیصلہ جاری ہوگیا، جس میں عدالت نے پی  ٹی وی میں بھاری تنخواہوں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ راشد خان اس انٹرنیٹ کمپنی میں بھی ڈائریکٹر ہیں جس کو پی ٹی وی سے ماہانہ سبسکرپشن فیس ملتی ہے، راشد خان پی ٹی وی کے علاوہ بینک آف خیبر اور نمل یونورسٹی میانوالی سمیت 9 کمپنیوں میں ڈائریکٹر ہیں، جب کہ قانون کے مطابق کوئی شخص 5 سے زیادہ پبلک سیکٹر کمپنیوں کا ڈائریکٹر نہیں بن سکتا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: چیئرمین پی ٹی وی ارشد خان کی تعیناتی غیر قانونی قرار

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ عوامی مفاد کے خلاف منظور نظر افراد کی تعیناتیوں کے معاملات کو حل کر لیا جائے، وفاقی حکومت مستقبل میں سرکاری ٹی وی میں تنخواہوں اور مراعات کا تعین وزارت خزانہ کی مشاورت سے کرے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر راشد خان کی تقرری کارپوریٹ گورننس رُولز 2013 کی خلاف ورزی پر کالعدم قرار دی جاتی ہے، اپنی ہی کمپنی کے پی ٹی وی سے کاروباری تعلقات رکھنے والے راشد خان کی تعیناتی غیر قانونی قرار دی جاتی ہے،  راشد خان کے علاوہ چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ارشد خان کی تعیناتی بھی  خلاف ضابطہ کی گئی تھی، وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عہدوں پر تعیناتیوں کے وقت  شفافیت سے درست افراد کا انتخاب کرے۔

واضح رہے کہ راشد خان کا نام سب پہلے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے وزیر اعظم عمران خان کے جواب میں سامنے آیا تھا، عمران نے اپنے جواب میں راشد خان کو اپنا دوست قرار دیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔