سسٹم کو سرِ عام لٹکانے کی ضرورت ہے

خالد محمود رسول  ہفتہ 19 ستمبر 2020

سانحہ موٹر وے اس قدر دل خراش تھا کہ اس نے پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا۔ تفصیلات جان کر غصے کا لاواابل پڑا۔ پھر وہی مطالبہ سامنے آیا، ملزموں کو پھانسی، بلکہ سر عام پھانسی دی جائے تاکہ عبرت ہو۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا، اصولاً ایسے مجرموں کو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے لیکن اگر یہ ممکن نہیں تو ایسے لوگوں کو ان کی مردانہ صفت سے محروم کر دیا جائے۔

پاکستان میں پہلے ہی سخت قانون موجود ہیں۔اس کے باوجود ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مزید سخت قوانین سے کیا حاصل ہوگا؟

جس روز وزیر اعظم جنسی زیادتی کے مجرموں کو  پھانسی یا جنسی قوت سے محروم کرنے کی تجویز دے رہے تھے، اسی روز اسلام آباد میں ایک تقریب میں  اظہار خیال کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے اصل نکتے کی طرف اشارہ کیا؛ ہمارے نظامِ عدل کا واضح جھکاؤ مظلوم کے بجائے ملزم کی طرف ہے، اگر وہ مضبوط مالی اور سماجی رتبے کا حامل ہے تو پورا نظام  اس کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مالی اور سماجی حیثیت کے ہوتے ہوئے ملزم کی آزادی کا راستہ نکل ہی آتا ہے۔ اس ماحول میں صنفی بنیادوں پر بچیاں اور خواتین بالخصوص امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ غیرت کے نام پر بھی ظلم کی تلوار خواتین پر ہی گرتی ہے۔ کچھ بد قسمت خواتین کو تو مر کر بھی چین نہیں ملتا!

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے مطابق وقت کا تقاضا ہے کہ ہم لوگ اجتماعی طور پر اپنے گریبان میں جھانکیں یعنیserious collective introspection۔ مسئلہ قوانین کی دستیابی کا نہیں، اصل ناکامی اور نالائقی ان قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔

کرپشن اور سفارش کا جِن ہر جرم میں سرچڑھ کر بولتا ہے۔ ایف آئی آر، تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام عدل میںملزم اور مجرم کے لیے سو قانونی موشگافیاں اور سقم نکل آتے ہیں جب کہ مظلوم کے لیے  دروازے اور کھڑکیا ں اکثر بند ہی ملتے ہیں۔ ہماری رولنگ ایلیٹ کو اس حقیقت کا اچھی طرح ادراک ہے مگر ماننے کو کوئی تیار نہیں، سدھار کا نعرہ ہے مگر سدھارنے کے لیے ہمت ہے نہ نیت۔ جب بھی ایسا کوئی نیا دل خراش واقعہ میڈیا کے ذریعے ان کے گلے کا ہار بن جاتا ہے تونئے قوانین اور مزید سخت قوانین کا راگ شروع ہو جاتا ہے۔

لاہور سیالکوٹ موٹروے واقعے کے مرکزی ملزم کے بارے میں آئی جی پولیس نے وزیر اعلیٰ کی معیت میں بتلایا کہ ملزم 2013ء میں بھی ایسے ہی ایک اجتماعی زیادتی کیس میں ملوث تھا۔اُسی کیس میں یہ ڈی این اے لیاگیا تھا جو اب عابد علی ملہی کو ملزم قرار دینے کی بنیاد بنا۔ اُس کیس میں ملزم اور اس کے خاندان نے متاثرہ خاندان کو ڈرایا دھمکایا، کیس واپس لینے پر مجبوراً راضی کیا، یوں وہ قانون کے منہ پر چپت لگا کر باہر آگیا۔ قانون کی بے ہمتی اور برخورداری دیکھ کر حوصلہ بڑھا تو جرائم کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔

بقول آئی جی کے ملزم پر آٹھ کے قریب مقدمات درج ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر پہلے کیس میں اسے قرار واقعی سزا مل جاتی تو مزید جرائم کا راستہ رک سکتا تھا۔ پولیس، تفتیش اور نظام عدل کا ایک ایسے مجرم کے ساتھ یہ ’ حسنِ سلوک‘ ہے جو معاشی طور پر خوشحال نہیں بلکہ بظاہر چھوٹی بڑی وارداتیں اس کا پارٹ ٹائم کاروبار لگتا ہے۔ ظاہر ہے جو خوشحال اور سماجی اثر و رسوخ میں لمبے ہاتھ رکھتے ہیں، یہ نظام ان کی آسانیوں کے لیے خوئے غلامی کے جوہر کیوں نہ دکھائے!

گزشتہ ہفتے سے قبل عبدالمجید اچکزئی،ایم پی اے بلوچستان اسمبلی، دو سال بعد دن دیہاڑے اپنی گاڑی تلے کچلے گئے ٹریفک کانسٹیبل کے مقدمہ قتل میں باعزت بری ہو گئے۔ واقعہ کی فوٹیج بار بار دکھائی گئی۔ دو سال کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کا انجام یہ نکلا کہ بھرے چوک میں واقعہ ہونے کے باوجود کوئی بھی عینی گواہ نہیں تھا کہ موصوف ہی گاڑی چلا رہے تھے۔ کلیم عاجز یاد آئے

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

چند سال قبل کیولری گراؤنڈ لاہور میں ایک معروف سیاسی خانوادے کے بیٹے نے دن دہاڑے چوک پر فائرنگ کر کے بہنوں کا اکلوتا بھائی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ فوٹیج بھی وائرل ہوئی مگر انجام یہ ہوا کہ مقتول کی والدہ نے عدالت میں روتے ہوئے بیان دیا کہ کیا کروں؟ میری بچیاں ہیں اور مجھے اور انھیں یہیں رہنا ہے ۔

چند سال قبل قصور میں دس بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا، کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔  ایک اور معصوم بچی زینب بھی اسی درندگی کا شکار ہوئی۔ جانے کیسے مگر یہ کیس میڈیا اور سوشل میڈیا پرزور شور سے سامنے آ گیا، درجنوں ڈی این اے  ٹیسٹوں اور پولیس کی پھرتیوں کے بعد مجرم پکڑا گیا، میڈیا اور سوشل میڈیا پر مجرم کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ بنا۔ مجرم کو پھانسی کی سزا ملی مگر افسوس کہ قصور، پنجاب اور پاکستان میں ان واقعات میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ آج دو سال بعد ایک بار پھر وہی شناسا جوش و خروش اور سخت سے سخت سزاؤں کا مطالبہ ہے !

اگر کوئی سیاسی بیانیے سے ہٹ کر سنجیدہ ہے تو وہ اٹارنی جنرل کی باتوں پر دھیان دے۔ جنسی زیادتی کے کیس اول تو پورے رپورٹ نہیں ہوتے، مگر جو ہوئے بھی، ایک رپورٹ کے مطابق ان میں بھی سزاؤں کا تناسب صرف تین فیصد رہا! یہی شرح  موجودہ قوانین کے ساتھ اگر الٹ ہوجائے یعنی 97% مجرم سزا پائیں تو ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوگی۔ مجرم کو سرعام لٹکانے کے بجائے اس نظام کو سرِعام لٹکانے کی ضرورت ہے جو مظلوم کے بجائے ظالم کا بغل بچہ بن کر رہ گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔