صدر ٹرمپ کو بھیجا گیا زہرسے بھرا پیکٹ پکڑا گیا

ویب ڈیسک  اتوار 20 ستمبر 2020
ہلاکت خیز مرکب سے بھرے پیکٹ کو ایک سال میں دوسری بار صدر ٹرمپ کو بھیجا گیا ہے، فوٹو : فائل

ہلاکت خیز مرکب سے بھرے پیکٹ کو ایک سال میں دوسری بار صدر ٹرمپ کو بھیجا گیا ہے، فوٹو : فائل

 واشنگٹن: وائٹ ہاوس انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجے گئے زہر سے بھرے پیکٹ کی بروقت نشاندہی کرکے قتل کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نامعلوم مقام اور شخص کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجے گئے ایک مشکوک پیکٹ کو قبضے میں لیا ہے جس میں ‘ریسین’ نامی زہر کی تصدیق ہوگئی ہے۔

اس حوالے سے امریکی عہدیداروں نے ’’سی این این‘‘ کو مزید بتایا کہ ایف بی آئی اور سیکریٹ سروس زہریلے مواد ’’ریسین‘‘ سے بھرے پیکٹ سے متعلق تفتیش کر رہی ہیں۔ پیکٹ کے لیب ٹیسٹ سے بھی زہریلے مادے ریسین کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تفتیش کاروں کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پارسل کینیڈا سے بھیجا گیا تھا تاہم کینیڈا کی پولیس نے ٹرمپ کو لکھے گئے خط اور پارسل کے معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاؤڈر یا دانے دار دھوئیں کی شکل والا زہریلا مرکب ’’ریسین‘‘ ایک انتہائی زہریلا مرکب ہے جو پہلے بھی متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ اگر اسے نگل لیاجائے تو خون کی الٹیاں شروع ہوجاتی ہیں اور اہم اعضا جیسے جگر، تلّی اور گردے ناکارہ ہوجانے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ ریسین سے بھرا پیکٹ اس سے قبل 2013 میں اُس وقت کے صدر بارک اوباما کو بھی بھیجا گیا تھا جب کہ گزشتہ برس صدر ٹرمپ کو بھیجے گئے ایک خط پر بھی اسی زہریلے مرکب کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا اور دونوں بار صدور تک پہنچنے سے قبل پکڑے گئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔