وفاقی دارالحکومت میں ریاست کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی، اسلام آباد ہائی کورٹ

ویب ڈیسک  پير 21 ستمبر 2020
اس شہر میں صرف اشرافیہ کی خدمت کی جاتی ہے، چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ

اس شہر میں صرف اشرافیہ کی خدمت کی جاتی ہے، چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت میں ریاست کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کیسز کی سماعت کی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ نسیم کھوکھر، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات، آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو معلوم ہوا ہے کہ اس شہر میں ریاست کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی، پولیس کے تفتیشی افسران اپنے کام میں ماہر نہیں، وفاقی حکومت کے ماتحت یہ شہر ماڈل ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے،  اسلام آباد کچہری کو دیکھیں جس کی حالت بہت ابتر ہے، یہاں اس شہر میں صرف اشرافیہ کی خدمت کی جاتی ہے۔

عدالت نے مشیر داخلہ کو ہدایت کی کہ آپ اپنی مہارت کی بنیاد پر رپورٹ تیار کریں، وزیراعظم کو مشورہ دیں کہ یہاں عام لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں،  عدالت مطمئن ہے کہ وزیراعظم کے سامنے جب بھی معاملہ لایا وہ حل ہوا ہے۔

مشیر داخلہ نے کہا کہ ہماری کمیٹی بنی ہے وہ لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کو دیکھ رہی ہے، یہ معاملہ صرف اسلام آباد تک نہیں بلکہ ملک کے دوسروں حصہ میں بھی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس پورے شہر میں مفادات کے ٹکراؤ کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا، وزارت داخلہ کے لوگ خود مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بن رہے ہیں، وزیر اعظم کو بتائیں عام لوگ کیسے متاثر ہو رہے ہیں، اگر آئندہ کوئی واقعہ مسنگ پرسن کا ہو تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟، ایلیٹس کلچر اب ختم ہونا چاہیے، عام لوگوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے روزانہ پٹشنز آرہی ہیں۔

عدالت نے مشیر داخلہ کو تین ہفتے میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔