سوہاوہ کے بنیادی مرکز صحت میں حاملہ خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے کا انکشاف

ویب ڈیسک  پير 21 ستمبر 2020
برے كاموں كو بالكل برداشت نہيں كيا جائے گا، ڈی پی او جہلم ۔ فوٹو : فائل

برے كاموں كو بالكل برداشت نہيں كيا جائے گا، ڈی پی او جہلم ۔ فوٹو : فائل

سوہاوہ: ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے بنیادی مرکز صحت کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے حاملہ خواتین کی نازیبا وڈیو بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایک شہری نے ڈپٹی كمشنرجہلم کو درخواست دی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوہاوہ کے بنیادی مركز صحت پھلڑے سیداں كی لیڈی ہیلتھ وركر زچگی كے لئے آنے والی خواتین كی ویڈیوز بنا كر اپنے رشتہ دار پولیس اہلكار كو دیتی ہے جب کہ پولیس اہلكار عرفان ان ویڈیوز پر خواتین كو بلیک میل كرتا ہے اور خواتین كے انكار پر ویڈیوز فروخت كرنے كا کہتا ہے۔

ڈی سی جہلم نے درخواست موصول ہونے پر انكوائری كے بعد بنیادی مركز صحت كا سارا عملہ تبدیل كردیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ثبوت تو لوگ مٹا دیتے ہیں اس كے لئے دوسرے اداروں سے مدد لیں گے، جو مركزی ملزمان ہیں ان كے خلاف ایكشن لے لیا گیا ہے جب کہ سی او ہیلتھ جہلم کے مطابق گمنام درخواست ميں ويڈيوز بنانے كے متعلق الزام ثابت نہيں ہوا، پوليس اہلكار كے خلاف ڈی پی او كو خط لكھ ديا ہے كہ وہ اس كے خلاف محكمانہ كارروائی كريں۔

دوسری جانب ڈی پی او جہلم کا کہنا ہےکہ جونہی پوليس اہلكار كے خلاف ڈپٹی كمشنر يا سی ای او ہيلتھ كا خط ملا فوری طور پر مقدمہ درج كر كے ايكشن ليا جائے، برے كاموں كو بالكل برداشت نہيں كيا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔