پی ٹی آئی کی حکمرانی کے دو سال

شکیل فاروقی  منگل 22 ستمبر 2020
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو راج گدی سنبھالے ہوئے دو سال ہوگئے، جس کا جشن گزشتہ دنوں دارالحکومت اسلام آباد میں بڑی دھوم دھام کے ساتھ منایا گیا۔

تقریب کا ہال روشنیوں میں نہا کربقہ ِنور بنا ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے وزیروں کی فوج ظفر موج کے چرچوں اور قہقہوں سے بام و در گونج رہے تھے۔ عمران خان کے لیے ان گزشتہ دو برسوں کی اہمیت غیر معمولی ہے۔2018کے عام انتخابات میں قوم نے ان پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ ان کی جھولی میں ڈال کر ان کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کر دیا۔

الیکشن سے قبل عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف المعروف پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم اس انداز سے چلائی کہ عوام کو یہ یقین ہو گیا کہ آخر کار انھیں وہ مسیحا مل گیا جس کی انھیں مدت ِ دراز سے تلاش تھی اور جو قوم کے تنِ مردہ میں نئی روح پھونک دے گا ،لیکن نا کامی سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے طویل سفر کے دوران تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والی پی ٹی آئی خود بھی تبدیل ہو کر اپنی اصلی شناخت گُم کر کے بھان مَتی کے کنبے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ جسٹس (ر)وجیہہ الدین جیسے اصول پسند اور بے لوث و سنجیدہ مزاج لوگ پارٹی کی قیادت کی روش سے مایوس ہو کر ترکِ تعلق کر کے جا چکے تھے۔ بقول ساحر لِدھیانوی:

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اُسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

برسرِ اقتدار آنے کے بعد یوں لگا جیسے اس کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہوں اور اس کی سمجھ میں نہ آ رہا ہوکہ وہ اب کیا کرے۔ بوکھلاہٹ کی یہ کیفیت نیا پاکستان بنانے کی دعویدار پاکستان تحریک انصاف کی نو وارد سرکار پرابتدائی ایام ِحکمرانی میں کافی عرصے تک طاری رہی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اناڑی کے ہاتھوں میں بندوق تھما دی گئی ہو۔ بس ’’Alice In Wonder Land ‘‘ سین تھا۔

فیصلہ سازی کے فقدان کا یہ قیمتی وقت ملک کے نئے حکمرانوں نے سابقہ حکمرانوں پر تنقید کرنے کی نذر کر دیا جس کی وجہ سے ٹیم کی اننگزکا آغاز کافی تاخیر سے ہوا۔ اس کے علاوہ شروع کی بلے بازی بھی Shaky نظر آئی۔ باالفاظِ دیگر اننگز کا آغاز تسلی بخش محسوس نہیں ہو رہا تھا اور کھلاڑیوں کی نا تجربہ کاری صاف ظاہر ہو رہی تھی جو ٹیم سلیکشن میں ہونے والی غلطیوں کی جانب اشارہ کر رہی تھی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کھیل میں ہار جیت کا دارومدار بڑی حد تک ٹیم کے کھلاڑیوں کی سلیکشن پر ہی ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ عمران خان ایک باصلاحیت پختہ عزم غیر معمولی، جرات مند ،دیانتدار ، محب ِ وطن اور جذبہِ خدمت سے سرشار غیر معمولی قائدانہ خوبیوں کے حامل انسان ہیں۔

کرکٹ اور خدمت ِ خلق کے میدان میں اپنی کامیابی کا لوہا منوانے کے بعد خان صاحب نے خدمت ِ وطن کے جذبہ سے میدان ِ سیاست میں قدم رکھا جہاں اچھے اچھوں کی پگڑیاں اُچھالی جاتی ہیں اور عزت ِ سادات بھی داؤ پر لگ جاتی ہے، یہ وہ گلی ہے جس میں داخل ہونے کے بعد شریفوں کی شرافت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے بہرحال اب جب کہ انھوں نے میدان ِ سیاست میں قدم رکھ ہی لیا ہے تو اس کے دُکھ بھی لا محالہ خندہ پیشانی سے جھیلنے پڑیں گے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے اونٹ کو دو سال گزر چکے ہیں لیکن یہ ابھی تک کسی کروٹ بیٹھ نہیں سکا۔ اس تناظر میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا یہ دعویٰ بظاہر عجیب سا لگتا ہے کہ کپتان کریز پر سیٹ ہو چکے ہیں اور وہ اب لمبی اننگز کھیل کر دکھائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کی گزشتہ دو سالہ کارکردگی کے غیر جانب دارانہ تجزیے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مجموعی طور پر غیر تسلی بخش رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد عوام کی زندگی میں ’’ تبدیلی‘‘ لانے کے جو دلفریب وعدے کیے تھے وہ نقش بر آب ثابت ہوئے۔

پاکستانی عوام کے دو سب سے بڑے بنیادی مسائل تھے روز افزوں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری۔ خان صاحب نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کی حکمرانی کی باگ ڈور سنبھالتے ہی ان مسائل کو حل کر دیں گے جس کے نتیجے میں ایک انقلاب آ جائے گا۔

انھوں نے روز گار کے ایک کروڑ نئے مواقعے فراہم کرنے کا پُرکشش وعدہ بھی کیا تھا لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت ملک میں ایک کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہیں جو گردشِ حالات سے تنگ آکر یا تو جرائم کی جانب مائل ہو رہے ہیں یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر ڈپریشن جیسے ذہنی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں، خاندانی جھگڑوں ، میاں بیوی میں ناچاقی کے باعث طلاقوں ، خلع اور خود کشی کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ کا سب سے بڑا سبب بھی یہی ہے۔

خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی پانچ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ادھر کمر توڑ ہوشربا مہنگائی نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ روز مرہ استعمال کی چیزوں مثلاً آٹا چینی اور دال چاول اور گھی تیل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عوام منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں جو انھیں دونوں ہاتھوں سے پوری طرح بلا روک ٹوک لوٹ رہے ہیں۔ گوشت خریدنا تو دور کی بات ہے، سبزی اورترکاری کی خریداری بھی عام آدمی کے بس سے باہر ہوچکی ہے۔

حکومت خود اس کھیل میں شامل ہے کیونکہ وہ خود وقفہ وقفہ سے پیٹرول کی قیمت بڑھا بڑھا کر گرانی  کی آگ کو بھڑکارہی ہے۔جو غریب عام آدمی کا پر سانِ حال نہیں ہے سب سے برا حال درمیانہ درجہ کے سرکاری حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کا ہے جنھیں اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکمرانی نے سب سے زیادہ کاری ضرب سرکاری ملازمین پر لگائی ہے جن کی تنخواہوں اور پنشن میں دمڑی کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ملازمین نا خوش اوربیزار ہو رہے ہیں جس سے ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جو ایک فطری امرہے۔

اس کا ایک اور منفی نتیجہ کرپشن میں مزید اضافہ کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ جملہ خوبیوں کے ساتھ ساتھ خان صاحب میں چند خامیاں بھی ہیں مثلاً پسندیدگی اور نا پسندیدگی میں شدت دونوں صورتوں میں وہ کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔منصور اختر پر وہ اس قدر مہربان ہوئے کہ مسلسل ناقص کارکردگی کے باوجود اسے 1983اور 1987کے ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ٹیم میں شامل رکھا۔ اس وقت خان صاحب کے منظور ِ نظر پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار ہیں جن کی کارکردگی اب منظر عام پر آ چکی ہے لیکن جسے پیاچاہے وہی سہاگن۔

خان صاحب کو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی توانائیاں اپنے مخالفین کی سرکوبی پر ضایع کرنے کے بجائے اچھی حکمرانی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لیے بروئے کار لا کر اپنی جڑیں عوام میں جمائیں۔

یاد رہے کہ طاقت کا سرچشمہ پاکستان کے عوام ہیں۔ عوام کو مٹھی میں لینے کا بہترین طریقہ ہے ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنا اور پھر بلا تاخیر ان کا بہترین حل تلاش کرنا۔ جس قائد کی جڑیں عوام میں ہونگی اس کا کوئی مائی کا لال بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔

خان صاحب کو ہمارامخلصانہ مشورہ ہے کہ اچھی حکمرانی کے گُر سیکھنے کے لیے وہ خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق ؓ ، نوشیر وان ِعادل، علاؤ الدین خلجی اور فرید خان المعروف شیر شاہ سُوری کی طرز ِ حکمرانی کا مطالعہ کریں اور اس سے سبق سیکھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔