چند ٹکوں کی خاطر گھریلو ملازمہ نے 4 سالہ بچہ مار ڈالا

محمد اکرم  منگل 22 ستمبر 2020
 خاتون نے دوران چوری آنکھ کھلنے پر سعد کو مارا، ملزمہ گرفتار ۔  فوٹو : فائل

 خاتون نے دوران چوری آنکھ کھلنے پر سعد کو مارا، ملزمہ گرفتار ۔ فوٹو : فائل

 کوئٹہ:  لالچ اور حوس انسان کو بعض اوقت اس قدر اندھا کر دیتی ہے کہ وہ انسانیت کے شرف سے ہی نیچے گر جاتا ہے، جس کا ایک ثبوت کوئٹہ کے علاقے سمنگلی روڈ لہڑی گیٹ کے قریب واقع ایک گھر میں ہونے والے حادثے سے ملتا ہے۔

ایک گھریلو ملازمہ کی ہوس نے ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔ چوری کا گواہ بنتے دیکھ کر ملازمہ نے چار سالہ بچے کو ہی قتل کر ڈالا۔ پولیس اور بچے کے والد راجہ بشارت کے مطابق وہ ان کی فیملی چند سال قبل ہی اپنے دیگر بچوں کی اعلی تعلیم کے لئے جعفر آباد سے کوئٹہ منتقل ہوئے تھے۔ راجہ بشارت کے مطابق ان کے تین بیٹے ہیں، بڑا بیٹا محمد ہاشم آٹھ سال، دوسرا بیٹا محمد ہارون چھ سال اور پیارا لخت جگر سعد شاہ چار سال کے قریب تھا۔

راجہ بشارت کی فیملی نے گھر کے کام کاج کے لئے سات ماہ قبل ایک ملازمہ کو رکھا تھا۔ واقعہ کے روز یعنی 12 ستمبر کو سعد گھر پر تھا اور گھریلو ملازمہ بھی، لیکن اس روز ملازمہ چوری کی نیت سے اس گھر آئی تھی۔ پلان کے تحت اس نے گھر کے ایک کمرے میں موجود قیمتی زیورات وغیرہ چوری کئے جبکہ اس دوران وہاں سوئے بچے کی آنکھ کھل گئی، جس پر پتھر دل خاتون نے اس کا گلہ گھونٹ دیا اور پھر پانی میں ڈبو دیا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔

بچے کے والد کے مطابق اس کے معصوم بچے سعد شاہ کو اس ملازمہ نے انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔ واقعہ کے روز وہ سکھر میں تھے اور دن ساڑھے بارہ بجے انہیں اپنے بچے کی ہلاکت سے متعلق پتہ چلا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کاروبار کے سلسلے میں اکثر شہر سے باہر رہتے ہیں جبکہ ان کے والد اور مرحوم بچے کے دادا سید تاج محمد شاہ جو کہ بلوچستان کے سابق ادوار میں صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

متاثرہ باپ کا کہنا تھا کہ قریبی علاقے میں جھگی نشین گھریلو ملازمہ ستل زوجہ سونو میرے بچے کو واشنگ مشین میں ڈبکیاں دیتی رہی تاکہ اس کی ہلاکت کنفرم ہو جائے اور وہ اپنے چوری کو کسی طرح سے بچا لے۔ میرے لخت جگر کے ناک اور منہ سے تدفین سے قبل تک صابن کی جاگ نکلتی رہی۔ میری حکومت اور پولیس سے اپیل ہے کہ اس خاتون کو سخت سے سخت سزد ی جائے۔

دوسری جانب جب تھانہ جناح ٹاؤن کو اس واقعہ کے حوالے سے اطلاع دی گئی تو پولیس نے مختلف پہلوؤں سے اس واقعہ کا جائزہ لیتے ہوئے خاتون ملازمہ کو کولپور سے گرفتار کر لیا۔ ایس ایچ او پولیس تھانہ جناح ٹاؤن چوہدری اصغر کے مطابق مقتول بچے کو واشنگ مشین میں ڈبوکر قتل کیا گیا ہے، تاہم اس قتل کی تحقیقات کے لئے سینئر افسران پر مشتمل انویسٹی گیشن ٹیم اس دلخراش واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے۔

ادھر ملازمہ کے خاندانی ذرائع کے مطابق بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کے بزرگ افراد کی سربراہی میں گرفتاری دی ہے اور انہوں نے قتل کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بچہ جاں بحق ہوا تو بچے کا ماموں بھی موجود تھا، گرفتاری اس لئے دی ہے تاکہ تمام حقائق کھل کر سامنے آئیں۔ انہوںنے کہا کہ یہ خاتون گزشتہ سات ماہ سے اس گھر پر کام کر رہی تھی۔ ملازمہ کو اس کیس میں پھنسایا جارہا ہے۔ بعدازاں پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روزبروز پیش کیا گیا، جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمہ کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات دیے دیئے۔

پولیس اس واقعہ کی ہر پہلوکے حوالے سے تحقیقات کررہی ہے اور تمام شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا جا ئزہ لیا جارہا ہے  تاکہ حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکی۔

معصوم بچے کا قاتل یا قاتلہ کبھی نہ کبھی پکڑ میں آ ہی جائے گا لیکن وہ بچہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ یہ واقعہ انسانی حرص و طمع کی وہ بدترین مثال ہے، جس نے اشرف المخلوقات کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، تاہم یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے جرائم اور مجرموں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اپنے تھوڑے سے فائدہ کے لئے کسی کا ہنستا بستا گھر نہ اجاڑ دے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔