اسلام آباد کا ریونیو کراچی کے قریب تر کیسے ہوگیا؟ تاجروں نے ٹیکس ڈائریکٹری کو مسترد کردیا

اسٹاف رپورٹر  بدھ 23 ستمبر 2020
اسلام آباد میں صنعتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جب کہ کراچی پورٹ سٹی ہے جہاں ملٹی نیشنل فرمز کے دفاتر بھی ہیں، تاجر (فوٹو : انٹرنیٹ)

اسلام آباد میں صنعتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جب کہ کراچی پورٹ سٹی ہے جہاں ملٹی نیشنل فرمز کے دفاتر بھی ہیں، تاجر (فوٹو : انٹرنیٹ)

 کراچی: کراچی چیمبر آف کامرس نے ایف بی آر کی ٹیکس ڈائریکٹری 2018ء کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں صنعتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن اس کے باوجود اسلام آباد کے ریونیو کا حجم کراچی کے قریب تر کیسے ہوگیا؟ ایف بی آر غیر ذمہ دارانہ، من گھڑت اعدا دو شمار جاری کرنے سے گریز کرے۔

کراچی چیمبر نے ایف بی آر کے تجزیاتی ٹیکس ڈائریکٹری 2018ء کے اعداد و شمار پر یکسر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مختلف شہروں سے انکم ٹیکس وصولی کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوا ہے جبکہ کچھ اہم معلومات کو پس پردہ ڈال دیا گیا جس کے ذریعے کوئی بھی اس ڈیٹا کی تصدیق کرسکتا تھا۔

کراچی چیمبر کے مطابق رپورٹ میں کراچی سے انکم ٹیکس کی وصولی 209 ارب روپے بتائی گئی ہے جبکہ ضلعی لحاظ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کی حصہ داری 186.3 ارب روپے ہے جس میں سے کراچی کا ضلع وسطی 9.06 ارب روپے، ضلع شرقی34.09 ارب روپے، ضلع جنوبی 114.23 ارب روپے اور ضلع غربی 28.89 ارب روپے کا حصہ دار ہے جو واضح طور پر 23 ارب روپے کے تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاجروں نے کہا کہ یہ بھی واضح نہیں کہ کراچی کے مجموعی طور پر 209 ارب روپے کے حصے میں ضلعی لحاظ سے دیئے گئے اعداد و شمار شامل ہیں یا نہیں؟ انکم ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار میں اس بد نظمی نے کاروباری حلقوں میں شدید شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں جو اسے کراچی کے خلاف ایک اور سازش قرار دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح بڑی مارکیٹوں سے انکم ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار کو عیاں کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کی گولڈ مارک، کھڈا مارکیٹ، ملیر، کورنگی، بنارس اور بحریہ ٹاؤن سمیت کئی اہم مارکیٹوں کو ان اعداد و شمار میں شامل ہی نہیں کیا گیا جس نے غلط تاثر مل رہا ہے کہ دوسرے شہروں کے مقابلے میں کراچی سے ٹیکس وصولی کم ہے۔

کراچی چیمبر نے کہا کہ شہروں کی منتخب کردہ مارکیٹوں کے اعداد و شمار صرف 25.7 فیصد فائلرز پر مبنی ہے یعنی 1,606,424 غیر تنخواہ دار افراد اور اے او پی فائلرز میں سے صرف 413,859 فائلرز کی تفصیلات کی بنیاد پر ڈیٹا تشکیل دیا گیا جس کی وجہ سے شہر کے حجم اور حصہ داری کا غلط تخمینہ لگایا گیا ہے، ایف بی آر نے جو تجزیاتی اعداد و شمار ظاہر کیے ہیں وہ صرف ایک نمبر گیم ہے اور یہ کراچی کی حصہ داری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

تاجروں نے کہا کہ مذکورہ دستاویز کے مطابق کراچی سے 209 ارب روپے کے انکم ٹیکس کی وصولی اسلام آباد سے 204 ارب روپے کی وصولی کے بہت قریب ہے جو کراچی میں بڑے پیمانے پر صنعتی و معاشی سرگرمیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ناممکن ہےم ہم ایف بی آر کے تجزیے سے کسی صورت بھی متفق نہیں کیونکہ کراچی ایک پورٹ سٹی ہے جہاں اکثریت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی دفاتر، بینکوں، ڈی ایف آئی اور انشورنس کمپنیوں وغیرہ کے مرکزی دفاترقائم ہیں جبکہ سیکڑوں کمرشل مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور پلازہ وغیرہ بھی سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں جن کی وجہ سے یہ شہر ملک کا سب سے بڑا صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔