کیا آپ سوا لاکھ روپے میں یہ پرانی جینز خریدیں گے؟

ویب ڈیسک  جمعرات 24 ستمبر 2020
اس میلی کچیلی جینز کا رنگ خراب ہے اور اس پر گھاس کے دھبے تک پڑے ہوئے ہیں۔ (فوٹو: گوچی)

اس میلی کچیلی جینز کا رنگ خراب ہے اور اس پر گھاس کے دھبے تک پڑے ہوئے ہیں۔ (فوٹو: گوچی)

روم: اٹلی کے عالمی شہرت یافتہ برانڈ ’’گوچی‘‘ نے اس سال اپنے ’’فال کلکشن‘‘ یعنی موسمِ خزاں میں پہننے کےلیے ملبوسات اور جوتوں میں پرانی اور ’’غمزدہ جینز‘‘ بھی متعارف کروائی ہے جو وہ 765 ڈالر (1 لاکھ 27 ہزار پاکستانی روپے) میں فروخت کررہے ہیں۔

لیکن ٹھہریئے، یہ جینز دیکھنے میں پرانی اور ’’لنڈے کا مال‘‘ ضرور لگتی ہے جس کا رنگ جگہ جگہ سے پھیکا پڑا ہوا ہے اور اس پر گھاس کے سبزی مائل دھبے تک دکھائی دے رہے ہیں، مگر پھر بھی یہ ’’بالکل نئی‘‘ ہے۔

وہ کپڑے جو بالکل نئے ہوں مگر انہیں کچھ خاص طریقوں کی مدد سے بظاہر پرانا بنا دیا گیا ہو، فیشن کی زبان میں وہ ’’غمزدہ‘‘ (ڈسٹریسڈ) کہلاتے ہیں۔ گوچی کی نئی جینز بھی کپڑوں کی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے۔

لیکن یہ جینز اتنی مہنگی کیوں ہے؟ اس بارے میں گوچی کا کہنا ہے کہ اسے ’’آرگینک کپاس‘‘ سے بنایا گیا ہے جبکہ اس کی تیاری میں کوئی ایسی چیز استعمال نہیں کی گئی جو آلودگی کا باعث بننے والی ہو۔ بہ الفاظِ دیگر، یہ جینز مکمل طور پر ’’ماحول دوست‘‘ ہے اور اسی لیے اتنی مہنگی بھی ہے۔

اور تو اور، اس جینز پر گھاس کے نشانات جیسے دکھائی دینے والے دھبے تک ماحول دوست طریقوں کی مدد سے ڈالے گئے ہیں!

واضح رہے کہ ایسی کوئی بھی چیز جو مکمل قدرتی طور پر اُگائی گئی ہو اور جس میں کوئی مصنوعی کھاد یا کیڑے مار دوا استعمال نہ کی گئی ہو، اسے ’’آرگینک‘‘ کہا جاتا ہے۔

آرگینک لیبل کے ساتھ چیزوں کو مہنگے دام فروخت کرنا پچھلے بیس سال سے ترقی یافتہ ممالک میں ایک فیشن بن چکا ہے۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے جیسے گوچی نے اسی فیشن کا فائدہ اٹھایا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔