موٹروے کیس، خاتون نے شوہر کے دباؤ پررات کا سفر کیا، سی سی پی او

ویب ڈیسک  جمعرات 24 ستمبر 2020
سی سی پی او لاہور نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بریفنگ دی(فوٹو، فائل)

سی سی پی او لاہور نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بریفنگ دی(فوٹو، فائل)

 اسلام آباد: سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون نے شوہر کے میکے سے گھر واپس آںے کے دباؤ کی وجہ سے رات کو سفر کیا۔

واقعے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کو  بریفنگ دیتے ہوئے  انہوں ںے سی سی پی او لاہور نے بتایا کہ عورت کے رات کے وقت سفر کرنے کی وجہ اس کے شوہر کا میکے سے اپنے گھر واپس آنے کا دباو تھا۔ خاتون کے پیٹرول ختم ہونے کی شکایت پر ایف ڈبلیو او کے ساتھ کانفرنس کال کرائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیلپ لائن 130 پر کال کے پنتالیس منٹ بعد تک کوئی متاثرہ خاتون کی مدد کو نہ پہنچا۔ رات2بجکر 47منٹ پرکسی راہ گزر نے 15 پر خاتون کے ساتھ کسی کے ہاتھا پائی ہونے کی اطلاع دی۔ اگر 15 پر بروقت کال کر دی جاتی تو واقعہ پیش نہ آتا۔

آئی جی موٹروے ڈاکٹر کلیم امام نے کمیٹی کو بتایا کہ : 1200کلو میٹر کا علاقہ ایسا ہے جہاں ہمیں وسائل مہیا نہیں کیے گئے مگر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وسائل کی عدم فراہمی سے متعلق ہم وزارت مواصلات ار دیگر اداروں کے نوٹس میں لاتے رہتے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کےچیئرمین ریاض فتیانہ نے کہا کہ وزارت مواصلات کی ناکامی ہے کہ موٹروے کھول دی گئی مگر سیکورٹی تعینات نہیں کی گئی۔جب موٹروے اوپن کی جاتی ہے تو پہلے سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جانا چاہیے۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے زیادتی واقعہ پر پاکستان کی دنیا میں بدنامی ہوئی۔ ایڈیشنل آئی جی پنجاب اورسابق آئی جی شعیب سڈل بھی شریک ہوئے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔