وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں پاکستانی موقف جرات وتدبرسے پیش کیا، ترجمان دفترخارجہ

ویب ڈیسک  ہفتہ 26 ستمبر 2020
وزیراعظم نے عالمی وعلاقائی مسائل سے متعلق پاکستان کی جانب سے ٹھوس تجاویزبین الاقوامی رہنماوں کے سامنے رکھیں، ترجمان دفترخارجہ: فوٹو: فائل

وزیراعظم نے عالمی وعلاقائی مسائل سے متعلق پاکستان کی جانب سے ٹھوس تجاویزبین الاقوامی رہنماوں کے سامنے رکھیں، ترجمان دفترخارجہ: فوٹو: فائل

 اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اہم بین الاقوامی اورعلاقائی امور پرپاکستان کا موقف وضاحت، جرات وتدبر اوربصیرت سے بیان کیا۔ 

ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ نے وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے خطاب پربیان پر کہا کہ وزیراعظم نے تنازعہ جموں وکشمیرکو مفصل اورمدلل اندازمیں پیش کیا، بھارتی جارحیت اورریاستی دہشت گردی، کشمیریوں کے حقوق اوراستصواب رائے کے حق کا وعدہ پورے کرنے پرزوردیا۔

وزیراعظم عمران خان نے تنازعہ جموں وکشمیر کے حوالے سے بھارتی غیرقانونی ویک طرفہ اقدامات اورریاستی دہشت گردی کو علاقائی امن اور سلامتی کے لئے خطرہ قراردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان کی امن کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت کو مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی جانب بڑھنے کا مشوردیا، وزیراعظم عمران خان نے بھارت پرزوردیا کہ وہ غیرقانونی طورپربھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں جاری غیرانسانی فوجی محاصرہ فوری طورپر ختم کرے، وزیراعظم نے بھارت پرزوردیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ماورائے عدالت شہادتوں کا سلسلہ فوری بند کرے، وزیراعظم نے عالمی برادری پرزوردیا کہ اس دیرینہ مسئلہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے عالمی وعلاقائی مسائل سے متعلق پاکستان کی جانب سے ٹھوس تجاویزبین الاقوامی رہنماوں کے سامنے رکھیں، وزیراعظم عمران خان نے ماحولیاتی تبدیلی، سلامتی کونسل میں اصلاحات اوربین الاقوامی امن وسلامتی جیسے اہم امورپرپاکستان کا موقف بیان کیا، وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین، افغان عمل، اسلاموفوبیا، کورونا، سرمائے کی غیرقانونی منتقلی کے اثرات اوران کے حل پرکھل کربات کی۔ ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کی طرزپرنئے پاکستان کی تعمیرکے اپنی حکومت کے ویژن کوبیان کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔